Nigah

ابصار عالم کی صحافت: تنقید یا تضاد؟

[post-views]

ابصار عالم کی صحافت پر تنقید کوئی نئی بات نہیں، مگر حالیہ بیانات اور عملی رویّے نے اس بحث کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے پر مجبور کر دیا ہے۔ بنیادی سوال یہ نہیں کہ کوئی صحافی حکومت پر تنقید کیوں کرتا ہے ,یہ تو جمہوری معاشرے کا لازمی جزو ہے ,بلکہ اصل مسئلہ اس تنقید کے اندر موجود تضاد اور دوہرے معیار کا ہے۔ جب ایک ہی شخص بیک وقت نظام کا حصہ بھی ہو اور اسی نظام پر مسلسل یکطرفہ حملے بھی کرتا رہے، تو اس کے مؤقف کی ساکھ خود بخود کمزور ہو جاتی ہے۔

ابصار عالم کی حالیہ ٹویٹ، جس میں انہوں نے حکومتی وزراء پر کرپشن اور گورننس کی ناکامی کے الزامات لگائے، بظاہر ایک روایتی تنقیدی بیان لگتی ہے۔ لیکن جب اس بیان کو ان کی موجودہ پیشہ ورانہ حیثیت کے ساتھ ملا کر دیکھا جائے، تو ایک واضح تضاد سامنے آتا ہے۔ وہ اسی ادارے میں کام کر رہے ہیں جس کی سربراہی ایک وفاقی وزیر، علیم خان، کے پاس ہے۔ اس صورت میں منطقی طور پر یہ سوال اٹھتا ہے کہ اگر حکومت مجموعی طور پر ناکام اور کرپٹ ہے، تو کیا اس میں شامل وہ افراد بھی اسی زمرے میں آتے ہیں جن کے ماتحت خود ابصار عالم کام کر رہے ہیں؟ اگر ہاں، تو پھر اس نظام کا حصہ بنے رہنے کا جواز کیا ہے؟ اور اگر نہیں، تو پھر تنقید کی بنیاد کیا رہ جاتی ہے؟

یہاں ایک اور اہم پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ علیم خان کا کردار، چاہے اس پر اختلاف کیا جائے یا حمایت، بہرحال ایک عملی کارکردگی کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔ پاکستان میں سرمایہ کاری کے حوالے سے ان کی کوششوں کو مکمل طور پر رد کرنا آسان نہیں، کیونکہ یہ محض بیانات نہیں بلکہ زمینی حقائق سے جڑی ہوئی سرگرمیاں ہیں۔ ایسے میں جب ایک طرف عملی اقدامات نظر آ رہے ہوں اور دوسری طرف محض عمومی نوعیت کے الزامات، تو تنقید کی سنجیدگی پر سوال اٹھنا فطری امر بن جاتا ہے۔

حکومت کے دیگر شعبوں کی کارکردگی بھی اسی تناظر میں دیکھی جانی چاہیے۔ یہ کہنا کہ پورا نظام ناکام ہے، ایک بہت بڑا دعویٰ ہے جس کے لیے ٹھوس شواہد درکار ہوتے ہیں۔ خاص طور پر ایسے حالات میں جب ملک کو معاشی اور سیاسی چیلنجز کا سامنا ہو، اور مختلف ادارے اپنی اپنی سطح پر ان مسائل سے نمٹنے کی کوشش کر رہے ہوں، تو یکطرفہ تنقید نہ صرف غیر متوازن محسوس ہوتی ہے بلکہ بعض اوقات بدنیتی پر مبنی بھی لگنے لگتی ہے۔ اختلافِ رائے کا حق اپنی جگہ، مگر اس کا استعمال ذمہ داری کے ساتھ ہونا چاہیے۔

ابصار عالم کے معاملے میں سب سے زیادہ توجہ طلب پہلو یہی ہے کہ وہ بیک وقت دو متضاد کردار ادا کر رہے ہیں۔ ایک طرف وہ خود کو ایک آزاد اور بے باک صحافی کے طور پر پیش کرتے ہیں جو کسی بھی قسم کی مصلحت کا شکار نہیں، اور دوسری طرف وہ اسی نظام کا حصہ بھی ہیں جسے وہ مسلسل تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہ دوہرا کردار نہ صرف ان کی ذاتی ساکھ کو متاثر کرتا ہے بلکہ مجموعی طور پر صحافت کے پیشے پر بھی سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔

مزید برآں، یہ سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے کہ اگر ان کی تنقید واقعی اتنی ہی سخت اور بے بنیاد ہوتی، تو کیا ان کی ملازمت برقرار رہ سکتی تھی؟ پاکستان جیسے معاشرے میں، جہاں طاقت کے مراکز کا اثر و رسوخ ایک حقیقت ہے، کسی بھی شخص کا اس طرح کھلے عام حکومت پر تنقید کرنا اور پھر بھی اپنے عہدے پر برقرار رہنا، ایک غیر معمولی بات سمجھی جاتی ہے۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ کیا واقعی ان کے پیچھے کوئی بااثر حلقہ موجود ہے؟ یا پھر یہ سب ایک سوچے سمجھے بیانیے کا حصہ ہے؟

یہ ابہام ہی دراصل ان کے مؤقف کو کمزور بناتا ہے۔ ایک سنجیدہ اور اصولی صحافی سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنے الفاظ اور اعمال کے درمیان ہم آہنگی برقرار رکھے۔ اگر واقعی ان کا اختلاف اتنا شدید ہے کہ وہ پورے نظام کو ناکام قرار دیتے ہیں، تو پھر ایک اصولی مؤقف یہی بنتا ہے کہ وہ اس نظام سے علیحدگی اختیار کریں اور پھر کھل کر تنقید کریں۔ اس کے برعکس، نظام کا حصہ رہتے ہوئے اسی کے خلاف بیانات دینا، ایک متضاد طرزِ عمل کی نشاندہی کرتا ہے۔

عوام اب پہلے کی نسبت زیادہ باشعور ہو چکے ہیں۔ وہ محض الفاظ سے متاثر نہیں ہوتے بلکہ کردار اور عمل کو بھی دیکھتے ہیں۔ جب کسی صحافی کے بیانات اور اس کے عملی اقدامات میں واضح فرق نظر آتا ہے، تو وہ خود بخود اپنی ساکھ کھو دیتا ہے۔ ابصار عالم کے معاملے میں بھی یہی صورتحال دکھائی دیتی ہے، جہاں ان کی تنقید اپنی جگہ، مگر ان کا کردار اس تنقید کی نفی کرتا ہوا نظر آتا ہے۔

آخر میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ صحافت ایک ذمہ دار پیشہ ہے، جس میں دیانت، غیر جانبداری اور اصول پسندی بنیادی ستون کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اگر کوئی صحافی ان اصولوں سے انحراف کرتا ہے، تو وہ نہ صرف اپنی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ عوام کے اعتماد کو بھی مجروح کرتا ہے۔ ابصار عالم کی حالیہ روش اسی تضاد کی عکاسی کرتی ہے، جہاں الفاظ اور عمل کے درمیان خلیج اتنی واضح ہو چکی ہے کہ اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں رہا۔

Author

  • ڈاکٹر محمد سلیم

    محمد سلیم برطانیہ میں مقیم مصنف اور محقق ہیں جن کی اسٹریٹجک اسٹڈیز میں ایک مضبوط علمی بنیاد ہے۔ اس کا کام طاقت اور حکمت عملی کی پیچیدگیوں کو تلاش کرتا ہے۔ وہ جغرافیائی سیاست، علاقائی معاملات، اور آج کی دنیا کو تشکیل دینے والے نظریات کے لیے ایک باریک عینک لاتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔