Nigah

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اصل عزائم

[post-views]

آزاد جموں و کشمیر میں عوامی مسائل، مہنگائی، بجلی کے نرخ، آٹے کی قیمتوں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے مطالبات ہمیشہ سے عوامی بحث کا حصہ رہے ہیں۔ ان مسائل پر آواز اٹھانا ہر شہری، تنظیم اور تحریک کا جمہوری حق ہے۔ اسی پس منظر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، یعنی JAAC، ابتدا میں ایک ایسی عوامی آواز کے طور پر سامنے آئی جس سے عام لوگوں نے توقعات وابستہ کیں۔ عوام کو امید تھی کہ یہ پلیٹ فارم مسائل کو سنجیدہ مکالمے، دلیل، حکمتِ عملی اور ذمہ دارانہ جدوجہد کے ذریعے حل کی طرف لے جائے گا۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہ تاثر مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ یہ تحریک اپنے ابتدائی عوامی مقصد سے ہٹ کر دباؤ، احتجاجی سیاست، شٹر ڈاؤن اور مسلسل منفی بیانیہ سازی کی طرف بڑھ چکی ہے۔

کسی بھی عوامی تحریک کی اصل طاقت اس کی اخلاقی بنیاد، شفافیت اور عوامی اعتماد میں ہوتی ہے۔ اگر تحریک عوام کے مسائل کو اجاگر کرے، قابلِ عمل تجاویز دے، اداروں سے بات کرے اور پیش رفت کو تسلیم کرتے ہوئے باقی مسائل کے حل کے لیے راستہ نکالے تو وہ مثبت کردار ادا کرتی ہے۔ لیکن جب ہر پیش رفت کو مسترد کرنا، ہر حکومتی اقدام کو شک کی نگاہ سے دیکھنا، ہر ادارے کو نشانہ بنانا اور ہر صورتحال کو تصادم کی طرف لے جانا مستقل حکمتِ عملی بن جائے تو سوالات پیدا ہونا فطری ہے۔ عوام اب یہی پوچھ رہے ہیں کہ کیا یہ جدوجہد واقعی عوام کے لیے ہے یا قیادت اپنی سیاسی اہمیت برقرار رکھنے کے لیے عوامی جذبات کو استعمال کر رہی ہے۔

یہ حقیقت نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ کئی عوامی مطالبات پر عملی پیش رفت ہوئی ہے یا کم از کم بات چیت اور حل کی کوششیں جاری ہیں۔ ایسے حالات میں ذمہ دار قیادت کا کام یہ ہونا چاہیے کہ وہ مثبت اقدامات کو تسلیم کرے، خامیوں کی نشاندہی کرے اور مذاکرات کے ذریعے باقی معاملات کو آگے بڑھائے۔ مگر اگر ہر قدم کے جواب میں صرف نفی، اشتعال اور عدم اعتماد کا پیغام دیا جائے تو یہ انداز تحریک کو عوامی خدمت کے بجائے مفاداتی سیاست کے قریب لے جاتا ہے۔ جب تحریک کا مرکز عوام نہیں بلکہ دباؤ کی سیاست بن جائے، تو اس کی ساکھ خود بخود سوالات کی زد میں آ جاتی ہے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت کے بعض رویّے بھی اسی تاثر کو تقویت دیتے ہیں۔ عوامی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی قیادت سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ خود بھی جوابدہ ہو، اپنے فیصلوں کی وضاحت کرے، اپنے مالی اور تنظیمی معاملات میں شفافیت رکھے اور عوام کو یہ بتائے کہ احتجاج کا مقصد کیا ہے، حد کیا ہے اور حل کا راستہ کیا ہے۔ صرف نعرے، جلسے، بندشیں اور سخت بیانات عوامی قیادت کا متبادل نہیں ہو سکتے۔ جو قیادت جوابدہی کا مطالبہ کرتی ہے، اسے خود بھی اسی معیار پر پورا اترنا ہوگا۔ اگر تحریک کے اندر فیصلہ سازی چند افراد تک محدود ہو جائے اور عوام صرف احتجاجی قوت کے طور پر استعمال ہوں تو پھر یہ عوامی جدوجہد نہیں بلکہ قیادت کے اثر و رسوخ کی سیاست بن جاتی ہے۔

احتجاج جمہوریت کا حصہ ہے، مگر احتجاج کو مسلسل دباؤ، کاروبار کی بندش، روزمرہ زندگی کی معطلی اور اداروں کے خلاف مستقل محاذ آرائی میں بدل دینا عوام کے لیے آسان نہیں ہوتا۔ شٹر ڈاؤن اور پہیہ جام کا سب سے زیادہ نقصان اسی عام آدمی کو ہوتا ہے جس کے نام پر تحریک چلائی جاتی ہے۔ مزدور کی دیہاڑی رکتی ہے، دکاندار کا کاروبار متاثر ہوتا ہے، طالب علم کی تعلیم متاثر ہوتی ہے اور مریض کی مشکلات بڑھتی ہیں۔ ایسے میں یہ سوال جائز ہے کہ عوامی حقوق کے نام پر عوام ہی کو بار بار آزمائش میں کیوں ڈالا جائے؟ مکالمہ مسائل کا حل دیتا ہے، جبکہ مسلسل تصادم انہیں پیچیدہ بناتا ہے۔ قیادت کا امتحان یہی ہے کہ وہ راستہ نکالے، نہ کہ بند کرے۔

عوامی تحریکیں اعتماد سے چلتی ہیں، اور اعتماد شفافیت اور نیت سے پیدا ہوتا ہے، شور سے نہیں۔ اگر ہر بات کو سازش، ہر مذاکراتی عمل کو دھوکا اور ہر حکومتی پیش رفت کو ناکافی قرار دے دیا جائے تو عوام کے ذہن میں یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ مسئلہ حل ہونا شاید قیادت کے مفاد میں نہیں۔ کیونکہ مسئلہ حل ہو جائے تو احتجاجی سیاست کا جواز کمزور پڑ جاتا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں عوامی حقوق کی سیاست اور ذاتی مفادات کی سیاست ایک دوسرے سے الگ ہوتی ہیں۔ عوامی سیاست حل چاہتی ہے، مفاداتی سیاست مسئلے کو زندہ رکھتی ہے۔

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لیے اب بھی موقع ہے کہ وہ اپنے کردار کو مثبت سمت دے۔ اسے چاہیے کہ وہ احتجاج کے بجائے مکالمے کو ترجیح دے، مطالبات کو واضح اور قابلِ عمل بنائے، حکومتی پیش رفت کا غیر جانب دار جائزہ لے، اپنی قیادت کو عوام کے سامنے جوابدہ بنائے اور یہ ثابت کرے کہ اس کا مقصد واقعی عوامی ریلیف ہے، نہ کہ سیاسی دباؤ اور ذاتی اثر و رسوخ۔ اگر عوامی حقوق کے نام پر ذاتی اثر و رسوخ بڑھے، تو تحریک اپنی اخلاقی بنیاد کھو دیتی ہے۔

آخرکار عوام جذباتی نعروں سے زیادہ نتائج چاہتے ہیں۔ انہیں ریلیف، استحکام، روزگار، امن اور واضح پالیسی چاہیے۔ اگر کوئی تحریک ان مقاصد کے قریب لے جائے تو وہ عوامی تحریک ہے، اور اگر وہ صرف بے چینی، تقسیم اور تصادم پیدا کرے تو اسے اپنے کردار پر نظرثانی کرنی ہوگی۔ JAAC کے اصل عزائم پر اٹھنے والے سوالات کا جواب بیانات سے نہیں، شفافیت، ذمہ داری اور عملی کردار سے دیا جا سکتا ہے۔ عوامی حقوق کی جدوجہد مقدس ضرور ہے، مگر اس کی آڑ میں ذاتی مفادات کی سیاست کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔

Author

  • Prof. Dr. Ghulam Mujaddid

    ڈاکٹر مجدد نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ وہ تین ماسٹرز ڈگریوں اور اسٹریٹجک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کے حامل ہیں۔ وہ پاکستان ایئر فورس میں ۳۳ سال خدمات انجام دینے والے سابق کمیشنڈ آفیسر بھی رہ چکے ہیں۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔