Nigah

خوارج کی فکر اور اسلام کی غلط تشریح

[post-views]

پاکستان ایک عام ریاست نہیں بلکہ ایک نظریاتی اسلامی مملکت ہے جس کی بنیاد اس یقین پر رکھی گئی کہ حاکمیتِ اعلیٰ صرف اللہ تعالیٰ کی ہے اور اقتدار ایک امانت ہے۔ آئینِ پاکستان واضح طور پر اعلان کرتا ہے کہ اسلام ریاست کا مذہب ہے اور کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جا سکتا۔ ایسے نظام میں یہ سوال خود بخود پیدا ہوتا ہے کہ جب ریاست کا ڈھانچہ ہی اسلامی اصولوں پر قائم ہے تو اس کے خلاف ہتھیار اٹھانا کس طرح “جہاد” قرار دیا جا سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ دعویٰ نہ صرف آئینی طور پر غلط ہے بلکہ اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی بھی ہے۔

خوارج کی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ انتہاپسندی ہمیشہ دین کے نام پر ہی جنم لیتی ہے مگر اس کا جوہر بغاوت، تکفیر اور تشدد ہوتا ہے۔ آج کے دور میں فتنہ انگیز گروہ، جیسے کہ FAK، اسی خوارجی سوچ کی جدید شکل ہیں۔ یہ لوگ قرآن و حدیث کی من مانی تشریحات کرتے ہیں، نوجوانوں کو جذباتی نعروں کے ذریعے گمراہ کرتے ہیں اور اپنے ذاتی مفادات یا بیرونی ایجنڈوں کے لیے اسلام کا نام استعمال کرتے ہیں۔ ان کا مقصد نہ دین کی خدمت ہے اور نہ امت کا اتحاد، بلکہ طاقت کا حصول اور خوف کا پھیلاؤ ہے۔

قرآن مجید میں واضح حکم دیا گیا ہے: “اللہ کی اطاعت کرو، رسول کی اطاعت کرو اور ان لوگوں کی جو تم میں سے صاحبِ اختیار ہیں” (النساء: 59)۔ یہ آیت اسلامی معاشرے میں نظم و ضبط اور ریاستی اختیار کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔ اس کے برعکس جو گروہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ہیں، وہ دراصل اسی نظام کو چیلنج کرتے ہیں جسے اسلام نے قائم کرنے کا حکم دیا ہے۔ اسلامی فقہ میں اس عمل کو بغاوت کہا جاتا ہے، اور بغاوت کو سختی سے منع کیا گیا ہے۔

اسلام انسانی جان کو انتہائی مقدس قرار دیتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ ایک بے گناہ انسان کا قتل پوری انسانیت کے قتل کے برابر ہے (المائدہ: 32)۔ اس کے باوجود دہشت گرد گروہ معصوم شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، مساجد پر حملے کرتے ہیں، تعلیمی اداروں کو تباہ کرتے ہیں اور معاشرے میں خوف و ہراس پھیلاتے ہیں۔ یہ تمام اعمال “فساد فی الارض” کے زمرے میں آتے ہیں، جن کی اسلام میں سخت مذمت کی گئی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے واضح طور پر عورتوں، بچوں اور غیر جنگجو افراد کو قتل کرنے سے منع فرمایا، جو اس بات کی کھلی دلیل ہے کہ دہشت گردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔

احادیث میں خوارج کے بارے میں سخت تنبیہات موجود ہیں۔ انہیں ایسے لوگ قرار دیا گیا ہے جو قرآن پڑھیں گے مگر اس کی روح کو نہیں سمجھیں گے، اور دین کے نام پر مسلمانوں کے خلاف تلوار اٹھائیں گے۔ آج کے شدت پسند گروہ اسی روش پر چل رہے ہیں۔ ان کے الفاظ مذہبی ہو سکتے ہیں، مگر ان کے اعمال اسلام کی بنیادی تعلیمات کے خلاف ہیں۔

پاکستان میں “پیغامِ پاکستان” کے نام سے ایک متفقہ بیانیہ بھی سامنے آ چکا ہے جس پر 1800 سے زائد علماء نے دستخط کیے۔ اس میں واضح طور پر اعلان کیا گیا کہ خودکش حملے، دہشت گردی اور ریاست کے خلاف مسلح کارروائیاں حرام ہیں۔ یہ محض ایک رائے نہیں بلکہ امت کے جید علماء کا اجتماعی فیصلہ ہے، جو ہر قسم کے انتہاپسند بیانیے کو مسترد کرتا ہے۔

اسلام میں جہاد کے بھی واضح اصول اور حدود ہیں۔ یہ کوئی انفرادی یا گروہی اعلان نہیں بلکہ ایک منظم اور جائز ریاست کا اختیار ہوتا ہے۔ اس کے لیے بھی سخت اخلاقی ضابطے مقرر ہیں جن میں بے گناہوں کا تحفظ اولین شرط ہے۔ لہٰذا جو گروہ اپنی مرضی سے ہتھیار اٹھاتے ہیں، وہ جہاد نہیں بلکہ دہشت گردی کر رہے ہوتے ہیں۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم خوارجی فکر کو پہچانیں اور اس کے فریب سے خود کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو بچائیں۔ پاکستان کا تحفظ، معصوم جانوں کا دفاع اور دہشت گردی کا رد صرف قومی فریضہ نہیں بلکہ ایک دینی ذمہ داری بھی ہے۔ اسلام امن، عدل اور اعتدال کا دین ہے، اور جو اس کے نام پر خون بہائے وہ دراصل اس کی تعلیمات کو مسخ کر رہا ہے۔

Author

  • ڈاکٹر حسین جان

    حسین جان کے علمی مفادات بین الاقوامی سلامتی، جغرافیائی سیاسی حرکیات، اور تنازعات کے حل میں ہیں، خاص طور پر یورپ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے۔ انہوں نے عالمی تزویراتی امور سے متعلق مختلف تحقیقی فورمز اور علمی مباحثوں میں حصہ ڈالا ہے، اور ان کا کام اکثر پالیسی، دفاعی حکمت عملی اور علاقائی استحکام کو تلاش کرتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔