Nigah

اکاخیل واقعے کی حقیقت اور گمراہ کن بیانیوں کا پردہ چاک

[post-views]

اکاخیل، باڑہ میں ہونے والا المناک دھماکا ایک دردناک سانحہ ہے جس پر پوری قوم افسردہ ہے۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ واقعہ خوارج دہشت گردوں کی جانب سے کواڈ کاپٹر کے ذریعے گرائے گئے بم کا نتیجہ تھا، نہ کہ پاکستانی سکیورٹی فورسز کی کارروائی۔ مگر افسوس کہ کچھ انتشار پسند عناصر نے حقائق سامنے آنے سے پہلے ہی اس سانحے کو ریاست اور فوج کے خلاف زہر پھیلانے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔ یہ رویہ نیا نہیں؛ جب بھی دہشت گرد معصوم شہریوں کو نشانہ بناتے ہیں، کچھ مخصوص گروہ اصل مجرموں سے توجہ ہٹا کر الزام ریاست پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ ہزاروں سکیورٹی اہلکاروں اور عام شہریوں نے اپنی جانیں قربان کیں تاکہ قبائلی اضلاع میں امن واپس آ سکے۔ ایسی ریاست اور ایسی فوج، جس نے اپنے ہی لوگوں کے تحفظ کے لیے اتنی بھاری قیمت ادا کی ہو، پر یہ الزام لگانا کہ وہ اپنے شہریوں کو نشانہ بنائے گی، سراسر غیر منطقی اور بدنیتی پر مبنی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خوارج دہشت گرد معصوم عوام کو نشانہ بنا کر خوف، انتشار اور بداعتمادی پیدا کرنا چاہتے ہیں۔

اکاخیل کا واقعہ دہشت گردی کی ایک بڑی لہر کا حصہ ہے۔ ماموند خیل، بنوں میں لڑکیوں کے اسکول کی تباہی، حسن خیل، پشاور میں مسجد پر ڈرون حملہ، دتہ خیل، شمالی وزیرستان میں گھر پر کواڈ کاپٹر حملہ، اور ہنگو میں پولیو ٹیم پر فائرنگ جیسے واقعات واضح کرتے ہیں کہ یہ عناصر نہ تعلیم کا احترام کرتے ہیں، نہ مساجد کا، نہ بچوں کا، نہ خواتین کا، اور نہ انسانی جان کا۔ ان کا مقصد صرف پاکستان کو غیر محفوظ دکھانا اور قبائلی معاشرے کے امن پسند تشخص کو مسخ کرنا ہے۔

اسی لیے اکا خیل واقعے کے بعد پھیلایا جانے والا گمراہ کن پروپیگنڈا بھی ایک منظم مہم محسوس ہوتا ہے۔ پی ٹی ایم اور اس کے حامی عناصر بغیر ثبوت کے فوج پر الزام لگاتے ہیں، مگر دہشت گردوں کی کارروائیوں پر خاموشی اختیار کر لیتے ہیں۔ یہ دوہرا معیار ان کے اصل ایجنڈے کو بے نقاب کرتا ہے۔ اگر واقعی انہیں عوام کا درد ہے تو وہ اسکول تباہ کرنے والوں، مسجدوں پر حملہ کرنے والوں، پولیو ورکرز کو نشانہ بنانے والوں اور گھروں پر ڈرون حملے کرنے والوں کے خلاف کیوں نہیں بولتے؟

ان بیانیوں کا تعلق صرف مقامی سیاست سے نہیں بلکہ بیرونی مفادات سے بھی جڑا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ پاکستان مخالف افغان-بھارتی پروپیگنڈا ہمیشہ یہی چاہتا ہے کہ عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلے پیدا کیے جائیں۔ بعض عناصر دانستہ یا نادانستہ طور پر انہی دشمن بیانیوں کو آگے بڑھاتے ہیں۔ افغانستان سے جنم لینے والے دہشت گرد گروہوں کے پاس جدید اسلحہ اور ٹیکنالوجی کی موجودگی، خاص طور پر غیر ملکی ہتھیاروں کے غلط ہاتھوں میں جانے کے بعد، ایک سنگین خطرہ ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ قوم جذباتی نعروں کے بجائے حقائق پر کھڑی ہو۔ اکا خیل کے متاثرین کے لیے انصاف کا مطلب یہ ہے کہ اصل دہشت گردوں کو بے نقاب کیا جائے، نہ کہ ان کے جرم کو ریاست کے سر ڈال کر انہیں سیاسی تحفظ فراہم کیا جائے۔ جو لوگ ہر سانحے کو پاکستان کے خلاف استعمال کرتے ہیں، وہ متاثرین کے ہمدرد نہیں بلکہ انتشار کے سوداگر ہیں۔

پاکستان کی بقا، امن اور ترقی قومی اتحاد سے وابستہ ہے۔ خوارج دہشت گردی، بیرونی مداخلت اور اندرونی انتشار پسند بیانیوں کے خلاف پوری قوم کو ایک صف میں کھڑا ہونا ہوگا۔ اکا خیل کے شہداء اور متاثرین سے حقیقی وفاداری یہی ہے کہ ہم جھوٹے پروپیگنڈے کو رد کریں، دہشت گردوں کے خلاف ریاستی کوششوں کی حمایت کریں، اور پاکستان کے امن کو کمزور کرنے والی ہر سازش کو ناکام بنائیں۔

Author

  • ڈاکٹر ظہیرال خان

    ظہیرال خان ایک مضبوط تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کے ساتھ، وہ بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتا ہے اور بڑے پیمانے پر سیکورٹی اور اسٹریٹجک امور کے ماہر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔