Nigah

اسلام آباد صحافت کا چھوٹو گینگ

[post-views]

اسلام آباد کی صحافت ہمیشہ سے طاقت، ریاست، عدالت، سیاست اور عوامی رائے کے سنگم پر کھڑی رہی ہے۔ یہاں ایک لفظ بھی محض لفظ نہیں رہتا بلکہ بیانیہ بن جاتا ہے۔ اسی لیے دارالحکومت میں کام کرنے والے صحافیوں پر ذمہ داری عام صحافی سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔ جب کوئی صحافی اپنے منصب، رسائی یا ادارہ جاتی پلیٹ فارم کو ذاتی ایجنڈے، یک طرفہ بیانیے یا ریاستی موقف کو کمزور دکھانے کے لیے استعمال کرتا ہے تو سوال صرف اس فرد کا نہیں رہتا، بلکہ پوری صحافتی برادری کی ساکھ پر آتا ہے۔

مطیع اللہ جان، ثاقب بشیر اور اسد طور جیسے ناموں کے حوالے سے حالیہ بحث نے ایک بار پھر یہ بنیادی سوال اٹھا دیا ہے کہ کیا صحافت کا مطلب ہر معاملے کو اس انداز میں پیش کرنا ہے جس سے قومی ادارے، ریاستی موقف اور پاکستان کا بین الاقوامی تاثر مشکوک دکھائی دے؟ اختلافِ رائے ہر شہری کا حق ہے، صحافی کا بھی؛ مگر اختلاف اور غیر ذمہ داری میں فرق ہوتا ہے۔ صحافت اگر حقائق، توازن اور قومی حساسیت سے خالی ہو جائے تو وہ خدمت نہیں رہتی، محض شور بن جاتی ہے۔

نیشنل پریس کلب جیسے ادارے کا پلیٹ فارم کسی ایک شخص یا گروہ کے سیاسی یا فکری ایجنڈے کے لیے استعمال ہونا انتہائی سنجیدہ معاملہ ہے۔ یہ ادارہ صرف صحافیوں کا اجتماع نہیں بلکہ صحافتی وقار، پیشہ ورانہ اصولوں اور عوامی اعتماد کی علامت ہے۔ اگر اس پلیٹ فارم کو ایسے انداز میں استعمال کیا گیا جس سے ریاستی مؤقف کمزور، ادارے متنازع اور پاکستان کا چہرہ بیرونی دنیا کے سامنے منفی دکھائی دے، تو اس کی مکمل داخلی تحقیق ناگزیر ہے۔

یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ اس سارے عمل میں کون لوگ شامل تھے، کس نے اجازت دی، کس نے سہولت کاری کی، اور کیا پریس کلب کے کسی عہدے دار نے اپنے منصب کا غلط استعمال کیا؟ اگر ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوئی ہے تو اسے محض “آزادیِ اظہار” کے پردے میں چھپایا نہیں جا سکتا۔ آزادیِ اظہار ایک مقدس حق ہے، مگر یہ حق قومی مفاد، ادارہ جاتی وقار اور پیشہ ورانہ دیانت کے ساتھ مشروط ذمہ داری بھی رکھتا ہے۔

غیر ملکی صحافیوں یا عالمی فورمز کے سامنے داخلی معاملات کو اس انداز میں اٹھانا کہ ریاست کا مؤقف کمزور اور مخالف بیانیہ مضبوط دکھائی دے، کسی بھی ذمہ دار صحافت کا معیار نہیں ہو سکتا۔ دنیا کے ہر ملک میں قومی مفاد، حساس معاملات اور عدالتی یا ریاستی امور پر رپورٹنگ کے کچھ غیر تحریری مگر تسلیم شدہ اصول ہوتے ہیں۔ پاکستان میں بھی یہی اصول لاگو ہونے چاہییں۔ صحافت کا مقصد سوال اٹھانا ضرور ہے، مگر فیصلہ سنانا نہیں؛ احتساب کا مطالبہ کرنا ضرور ہے، مگر اداروں کو کٹہرے میں کھڑا کرکے خود منصف بن جانا نہیں۔

یہ طرزِ عمل ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ کچھ افراد ہر اہم قومی موقع پر ایسا ماحول پیدا کرتے ہیں جس سے ریاستی بیانیہ دفاعی پوزیشن پر چلا جائے۔ یہ رویہ صحافت نہیں بلکہ بیانیاتی مہم جوئی محسوس ہوتا ہے۔ ایسے عناصر کو سمجھنا ہوگا کہ ملک کی ساکھ کسی فرد کی شہرت، یوٹیوب ویوز یا سیاسی وابستگی سے بڑی چیز ہے۔ پاکستان کے داخلی معاملات پر تنقید ضرور کی جائے، مگر تنقید ایسی ہو جو اصلاح کا راستہ کھولے، نہ کہ بیرونی سطح پر ملک کو کمزور دکھائے۔

نیشنل پریس کلب پر لازم ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لے۔ ایک شفاف داخلی کمیٹی بنائی جائے، تمام متعلقہ افراد سے وضاحت لی جائے، دستیاب شواہد کا جائزہ لیا جائے اور اگر کسی نے ادارے کے پلیٹ فارم کو ذاتی یا سیاسی مقصد کے لیے استعمال کیا ہے تو اس کے خلاف واضح تادیبی کارروائی کی جائے۔ یہ کارروائی کسی انتقام کے طور پر نہیں بلکہ ادارے کی ساکھ بچانے کے لیے ہونی چاہیے۔

اسی طرح میڈیا پلیٹ فارمز کے استعمال کے لیے واضح ضابطہ کار ضروری ہے۔ کون سا پروگرام کس نوعیت کا ہوگا، کس بنیاد پر اجازت دی جائے گی، مہمانوں کا انتخاب کیسے ہوگا، اور حساس قومی معاملات پر ادارے کی پالیسی کیا ہوگی؟ جب تک یہ اصول واضح نہیں ہوں گے، چند لوگ اجتماعی اداروں کو اپنی ذاتی مہمات کے لیے استعمال کرتے رہیں گے۔

ریاستی اداروں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ آزادیِ اظہار اور قومی مفاد کے درمیان توازن قائم رکھیں۔ کسی صحافی کے خلاف کارروائی اگر ضروری ہو تو وہ قانون کے مطابق، شفاف، منصفانہ اور قابلِ وضاحت ہونی چاہیے۔ غیر ضروری سختی صحافت کو مظلوم بناتی ہے، جبکہ مکمل خاموشی غیر ذمہ دار عناصر کو مزید حوصلہ دیتی ہے۔ درست راستہ یہی ہے کہ قانون، ضابطہ اخلاق اور پیشہ ورانہ معیار کی بنیاد پر احتساب کیا جائے۔

اسلام آباد کی صحافت کو چند بلند آوازوں کے ہاتھوں یرغمال نہیں بننے دیا جا سکتا۔ صحافت سوال کرنے کا نام ہے، مگر سوال کے نام پر قومی مفاد کو نقصان پہنچانا قابلِ قبول نہیں۔ نیشنل پریس کلب، صحافتی تنظیموں اور ریاستی اداروں کو مل کر یہ طے کرنا ہوگا کہ آزادی اور ذمہ داری ساتھ ساتھ چلیں گی۔ ورنہ صحافت کا مقدس نام چند افراد کی مہم جوئی میں ضائع ہوتا رہے گا۔

Author

  • ڈاکٹر اکرام احمد

    اکرام احمد یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز سے بین الاقوامی تعلقات میں گریجویٹ ہیں۔ باتھ یونیورسٹی میں، جہاں ان کی تحقیق تنازعات کے حل، عالمی حکمرانی، بین الاقوامی سلامتی پر مرکوز ہے۔ ایک مضبوط تعلیمی پس منظر اور عالمی امور میں گہری دلچسپی کے ساتھ، اکرام نے مختلف تعلیمی فورمز اور پالیسی مباحثوں میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ان کا کام بین الاقوامی تعلقات کی حرکیات اور عصری جغرافیائی سیاسی مسائل پر ان کے اثرات کو سمجھنے کے لیے گہری وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔