Nigah

مذہبی رواداری سے عالمی اعتماد تک

[post-views]

پاکستان مذہبی ہم آہنگی، اقلیتوں کے تحفظ اور بین المذاہب رابطوں کے ذریعے ایک ایسا مثبت قومی بیانیہ تشکیل دے رہا ہے جو داخلی وحدت کے ساتھ ساتھ علاقائی سفارت کاری کو بھی مضبوط بناتا ہے۔ 2025ء اور 2026ء کے دوران ہونے والی قانونی، انتظامی اور سماجی پیش رفت اس بات کا واضح اظہار ہے کہ پاکستان مذہبی تنوع کو کمزوری نہیں بلکہ اپنی تہذیبی طاقت سمجھتا ہے۔ ایک مسلم اکثریتی ملک ہونے کے باوجود پاکستان کی سرزمین صدیوں سے مختلف مذاہب، ثقافتوں اور روحانی روایات کا مرکز رہی ہے۔ یہی تاریخی ورثہ آج ریاستی پالیسی، مذہبی سیاحت اور عوامی سفارت کاری کی صورت میں دوبارہ نمایاں ہو رہا ہے۔

قومی کمیشن برائے حقوقِ اقلیت ایکٹ 2025ء اس سمت میں ایک نہایت اہم سنگِ میل ہے۔ اس قانون کے ذریعے اقلیتوں کو ایک مؤثر ادارہ جاتی آواز دی گئی ہے جو شکایات کے ازالے، حقوق کی نگرانی اور آئینی ضمانتوں کے نفاذ میں کردار ادا کر سکتا ہے۔ مسیحی، ہندو، سکھ، پارسی اور دیگر مذہبی برادریوں کے لیے یہ کمیشن محض ایک رسمی ادارہ نہیں بلکہ ریاستی سطح پر اعتماد سازی کا ذریعہ ہے۔ یہ اقدام اس حقیقت کو بھی مضبوط کرتا ہے کہ اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ خیر سگالی نہیں بلکہ آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

اسی تسلسل میں پنجاب میں اقلیتی برادریوں کی املاک کے تحفظ سے متعلق قانون سازی بھی قابلِ ستائش ہے۔ عبادت گاہوں، گرجا گھروں، مندروں، گوردواروں، تعلیمی اداروں اور مذہبی ورثے کو غیر قانونی قبضے یا غلط استعمال سے محفوظ بنانا صرف اقلیتوں کا مسئلہ نہیں بلکہ قومی ورثے کے تحفظ کا معاملہ ہے۔ جب ریاست مذہبی مقامات کی حفاظت کرتی ہے تو وہ دراصل شہریوں کو یہ پیغام دیتی ہے کہ ہر عقیدہ قابلِ احترام ہے اور ہر شہری برابر کا پاکستانی ہے۔

تعلیم کے شعبے میں غیر مسلم طلبہ کے لیے مذہبی تعلیم کے متبادل مضامین کی منظوری بھی ایک مثبت اور دور رس قدم ہے۔ مسیحی طلبہ کے لیے مسیحی تعلیم اور ہندو طلبہ کے لیے سناتن دھرم جیسے مضامین شناخت، احترام اور شمولیت کے احساس کو تقویت دیتے ہیں۔ ایک ایسا تعلیمی نظام جو مختلف عقائد کو جگہ دیتا ہے، مستقبل میں زیادہ برداشت، مکالمے اور سماجی ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔ ملازمتوں میں اقلیتوں کے لیے کوٹہ، اسمبلیوں میں نمائندگی اور مذہبی مقامات کی بحالی جیسے اقدامات بھی اسی جامع پالیسی کا حصہ ہیں۔

پاکستان کی مذہبی ہم آہنگی کا سب سے نمایاں پہلو سکھ یاتریوں کی سہولت کاری ہے۔ اپریل 2026ء میں بیساکھی تقریبات کے لیے ہزاروں بھارتی سکھ یاتریوں کو ویزے جاری کرنا ایک مضبوط سفارتی پیغام تھا۔ ننکانہ صاحب، کرتارپور صاحب، پنجہ صاحب اور ڈیرہ صاحب لاہور جیسے مقدس مقامات پر بہتر انتظامات، سکیورٹی، طبی سہولتیں اور مہمان نوازی پاکستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کرتی ہیں۔ جب یاتری واپس جا کر پاکستان کو ایک پرامن، محفوظ اور مہمان نواز ملک قرار دیتے ہیں تو یہ کسی سرکاری مہم سے زیادہ مؤثر عوامی سفارت کاری بن جاتی ہے۔

کرتارپور راہداری اس پورے عمل کی سب سے طاقتور علامت ہے۔ یہ منصوبہ مذہب، انسانیت اور امن کو سرحدی سیاست سے بلند کر کے دیکھنے کی مثال ہے۔ گرو نانک دیو جی سے وابستہ مقدس مقام تک رسائی فراہم کرنا نہ صرف سکھ برادری کے لیے روحانی اہمیت رکھتا ہے بلکہ جنوبی ایشیا میں اعتماد سازی کا ایک عملی راستہ بھی دکھاتا ہے۔ اسی طرح ہنگلاج یاترا، ہولی، دیوالی، کرسمس، ایسٹر اور دیگر مذہبی تہواروں کے لیے انتظامی تعاون یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان بین المذاہب ہم آہنگی کو وسیع قومی پالیسی کے طور پر آگے بڑھا رہا ہے۔

ان اقدامات کے سفارتی اور معاشی فوائد بھی اہم ہیں۔ مذہبی سیاحت مقامی معیشت، ہوٹلنگ، ٹرانسپورٹ، دستکاری اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دیتی ہے۔ ننکانہ صاحب اور کرتارپور جیسے مقامات پاکستان کو جنوبی ایشیا میں مذہبی سیاحت کا اہم مرکز بنا سکتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدامات عالمی سطح پر پاکستان کے بارے میں مثبت تاثر پیدا کرتے ہیں کہ ملک اقلیتوں کے حقوق، مذہبی آزادی اور انسانی احترام کے اصولوں کو سنجیدگی سے آگے بڑھا رہا ہے۔

بلاشبہ اصل کامیابی قوانین بنانے سے زیادہ ان کے مؤثر نفاذ میں ہے۔ اقلیتوں کے تحفظ، عبادت گاہوں کی حفاظت، تعلیمی اصلاحات اور یاتریوں کی سہولت کاری کو مستقل، شفاف اور غیر امتیازی بنیادوں پر جاری رکھنا ہوگا۔ اگر یہ رفتار برقرار رہی تو پاکستان مذہبی ہم آہنگی کو صرف سماجی اصول نہیں بلکہ قومی طاقت اور سفارتی اثاثہ بنا سکتا ہے۔ مجموعی طور پر حالیہ اقدامات یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پاکستان ایمان، شمولیت اور سفارت کاری کے امتزاج سے ایک ایسا مثبت ماڈل پیش کر رہا ہے جو قومی یکجہتی کو مضبوط اور عالمی سطح پر اس کے وقار کو بلند کر سکتا ہے۔

Author

  • ڈاکٹر مزمل خان

    مزمل خان سیاست اور بین الاقوامی معاشیات میں گہری دلچسپی کے ساتھ، ان کا تعلیمی کام اس بات کی کھوج کرتا ہے کہ کس طرح بنیادی ڈھانچہ اور جغرافیائی سیاسی حرکیات تجارتی راستوں اور علاقائی تعاون کو متاثر کرتی ہیں، خاص طور پر جنوبی اور وسطی ایشیا میں۔ موزممل شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے پالیسی مکالمے اور پائیدار ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے پرجوش ہے اور اس کا مقصد تعلیمی انکوائری اور عملی پالیسی سازی کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔