پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہمیشہ عوام کے لیے تشویش کا باعث بنتا ہے، کیونکہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں روزمرہ زندگی کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کرتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ کے کرایوں سے لے کر اشیائے خوردونوش کی ترسیل تک، زراعت سے صنعت تک، ہر جگہ توانائی کی لاگت بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ اسی لیے جب بھی پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا ہے تو عوامی ردعمل شدید ہوتا ہے۔ تاہم کسی بھی معاشی فیصلے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اسے جذبات، سیاسی نعروں یا سطحی تنقید کے بجائے حقائق، عالمی حالات اور ملکی معاشی مجبوریوں کی روشنی میں دیکھا جائے۔ حالیہ عرصے میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں جو اضافہ کیا گیا، اسے بعض حلقوں نے بے جواز اور یکطرفہ فیصلہ قرار دیا، مگر اعدادوشمار اس مؤقف کی مکمل تائید نہیں کرتے۔
فروری دو ہزار چھبیس کے وسط سے مئی دو ہزار چھبیس کے وسط تک عالمی خام تیل کی قیمتوں میں تقریباً بہتر فیصد اضافہ ہوا۔ یہ اضافہ معمولی نہیں تھا بلکہ عالمی توانائی منڈی کے لیے ایک بڑا جھٹکا تھا۔ خام تیل کی قیمتوں میں اتنی تیزی سے اضافہ کسی بھی درآمدی معیشت کے لیے سنگین چیلنج بن جاتا ہے۔ پاکستان چونکہ تیل پیدا کرنے والا بڑا ملک نہیں بلکہ تیل درآمد کرنے والا ملک ہے، اس لیے عالمی منڈی میں قیمتوں کی تبدیلی کا اثر براہ راست اس کی مقامی قیمتوں، درآمدی بل، زرمبادلہ کے ذخائر اور مجموعی معاشی توازن پر پڑتا ہے۔ اس حقیقت کو نظر انداز کر کے صرف مقامی سطح پر ہونے والے اضافے کو تنقید کا نشانہ بنانا درست معاشی تجزیہ نہیں کہلا سکتا۔
اسی عرصے کے دوران پاکستان میں پیٹرول کی قیمت میں تقریباً انسٹھ فیصد جبکہ ڈیزل کی قیمت میں تقریباً انچاس فیصد اضافہ ہوا۔ اگر ان اعدادوشمار کا عالمی خام تیل کی قیمتوں میں بہتر فیصد اضافے سے موازنہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ پاکستان میں قیمتوں کا اضافہ عالمی شرحِ اضافہ سے کم رہا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل جس رفتار سے مہنگا ہوا، پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں اس پوری رفتار سے نہیں بڑھائی گئیں۔ اگر عالمی قیمتوں کا مکمل اثر عوام تک منتقل کیا جاتا تو مقامی سطح پر اضافہ اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔ یہی نکتہ اس بحث میں بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
عالمی خام تیل کی قیمتوں میں سب سے بڑا اضافہ مارچ اور اپریل دو ہزار چھبیس کے دوران دیکھنے میں آیا۔ اس اضافے کی بڑی وجہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے گرد تیل کی سپلائی سے متعلق خدشات تھے۔ آبنائے ہرمز عالمی تیل کی ترسیل کا نہایت اہم راستہ ہے۔ جب اس خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو عالمی منڈی فوری طور پر ردعمل دیتی ہے، کیونکہ سرمایہ کاروں، درآمد کنندگان اور توانائی کمپنیوں کو خدشہ ہوتا ہے کہ تیل کی رسد متاثر ہو سکتی ہے۔ سپلائی میں رکاوٹ کا امکان بھی قیمتوں میں اضافہ کر دیتا ہے، چاہے رکاوٹ عملی طور پر فوری طور پر پیدا نہ ہوئی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے اوپر گئیں۔
پاکستان جیسے ملک کے لیے اس قسم کے عالمی جھٹکوں سے مکمل طور پر محفوظ رہنا ممکن نہیں۔ جب عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوتا ہے تو پاکستان کو بھی وہی تیل زیادہ قیمت پر خریدنا پڑتا ہے۔ اس کے ساتھ جہاز رانی، بیمہ، ریفائننگ، تقسیم، شرحِ مبادلہ اور دیگر اخراجات بھی حتمی قیمت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے یہ کہنا کہ حکومت مقامی قیمتوں کو عالمی حالات سے مکمل طور پر الگ رکھ سکتی تھی، حقیقت پسندانہ بات نہیں۔ حکومت کے پاس ایسے مواقع پر چند ہی راستے ہوتے ہیں: یا تو عالمی قیمتوں کا پورا بوجھ عوام پر ڈال دیا جائے، یا بھاری سبسڈی دے کر قومی خزانے پر دباؤ بڑھایا جائے، یا پھر ایک درمیانی راستہ اختیار کیا جائے۔ حالیہ فیصلے میں بظاہر یہی درمیانی راستہ اپنایا گیا۔
حکومت نے عالمی قیمتوں کے مکمل اثرات عوام پر منتقل کرنے کے بجائے اس بوجھ کا ایک حصہ خود برداشت کیا۔ اس کا ثبوت یہی ہے کہ عالمی خام تیل کی قیمتوں میں بہتر فیصد اضافے کے مقابلے میں پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ نسبتاً کم رہا۔ یقیناً عوام کے لیے قیمتوں میں اضافہ تکلیف دہ ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب عام آدمی پہلے ہی مہنگائی، آمدنی کی کمی اور روزمرہ اخراجات کے دباؤ کا سامنا کر رہا ہو۔ مگر معاشی پالیسی کا جائزہ لیتے وقت صرف عوامی تکلیف کو نہیں بلکہ اس فیصلے کے پس منظر، عالمی حالات اور مالی گنجائش کو بھی دیکھنا ضروری ہوتا ہے۔
یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو مصنوعی طور پر بہت زیادہ کم رکھنا طویل مدت میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر حکومت عالمی قیمتوں میں اضافے کے باوجود مقامی قیمتیں نہ بڑھائے تو اسے بھاری سبسڈی دینا پڑتی ہے۔ اس سے بجٹ خسارہ بڑھتا ہے، قرضوں کا بوجھ زیادہ ہوتا ہے اور آخرکار یہی مالی دباؤ عوام پر کسی نہ کسی صورت واپس آتا ہے۔ دوسری طرف اگر حکومت سارا بوجھ فوری طور پر عوام پر منتقل کر دے تو مہنگائی کی شدت بڑھ جاتی ہے۔ اس لیے دانشمندانہ پالیسی وہی ہوتی ہے جو عوامی ریلیف اور معاشی استحکام کے درمیان توازن قائم کرے۔
لہٰذا پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ کسی بے جواز یا یکطرفہ فیصلے کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ فیصلہ ایک ایسے عالمی ماحول میں کیا گیا جہاں خام تیل کی قیمتیں تیزی سے بڑھ رہی تھیں، مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی تیل کی سپلائی کے لیے خطرات پیدا کر رہی تھی اور پاکستان اپنی درآمدی ضروریات کے باعث براہ راست متاثر ہو رہا تھا۔ تنقید ہر شہری کا حق ہے، مگر تنقید کی بنیاد مکمل معلومات اور درست موازنے پر ہونی چاہیے۔ یہ تاثر کہ پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ بغیر کسی وجہ کے کیا گیا، حقائق کے منافی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی منڈی کے شدید دباؤ کے باوجود پاکستان میں قیمتوں کا اضافہ عالمی شرح سے کم رکھا گیا، اور یہی بات اس فیصلے کو سمجھنے کے لیے سب سے اہم ہے۔
Author
-
View all postsڈاکٹر مجدد نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ وہ تین ماسٹرز ڈگریوں اور اسٹریٹجک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کے حامل ہیں۔ وہ پاکستان ایئر فورس میں ۳۳ سال خدمات انجام دینے والے سابق کمیشنڈ آفیسر بھی رہ چکے ہیں۔