پشتون معاشرہ اپنی قدیم روایات، اجتماعی وقار، بہادری، مہمان نوازی اور اصول پسندی کی وجہ سے منفرد شناخت رکھتا ہے۔ پشتون ولی کا ضابطہ پشتونوں کی سماجی زندگی میں محض ایک ثقافتی علامت نہیں بلکہ امن، انصاف، ذمہ داری اور باہمی احترام کی بنیاد بھی ہے۔ بدقسمتی سے گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران دہشت گرد تنظیموں، بیرونی طاقتوں اور مفاد پرست سیاسی عناصر نے پشتونوں کی انہی روایات، محرومیوں اور قربانیوں کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔ پشتون تحفظ موومنٹ بھی پشتون حقوق کی نمائندگی کا دعویٰ کرتی ہے، لیکن اس کا مسلسل ریاست مخالف بیانیہ یہ سوال پیدا کرتا ہے کہ آیا اس کی سیاست واقعی پشتون عوام کے تحفظ کے لیے ہے یا قبائلی علاقوں میں پیدا ہونے والی مشکلات کو قومی اداروں کے خلاف سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
سابق قبائلی علاقوں میں دہشت گردی کے خلاف کیے جانے والے سکیورٹی آپریشنز کو اکثر مقامی آبادی کے خلاف کارروائیوں کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ان علاقوں میں برسوں تک مسلح دہشت گردوں نے مقامی بستیوں، گھروں، بازاروں، مدارس اور پہاڑی علاقوں کو اپنے محفوظ ٹھکانوں میں تبدیل کیے رکھا۔ انہوں نے شہری آبادی کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا اور عام لوگوں کے درمیان چھپ کر ریاستی اداروں، پولیس، فوج اور مقامی عمائدین کو نشانہ بنایا۔ ایسی صورت حال میں سکیورٹی اداروں کی کارروائی کا بنیادی مقصد پشتون آبادی کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ ان دہشت گرد نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنا تھا جنہوں نے قبائلی علاقوں میں متوازی نظام قائم کر رکھا تھا۔
سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مختصر ویڈیوز اور غیر مصدقہ الزامات کے ذریعے انسدادِ دہشت گردی کی پوری مہم کو مشکوک بنانا ایک خطرناک رجحان ہے۔ کسی بھی واقعے کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات ہونی چاہییں، لیکن نامکمل مناظر، جذباتی نعروں اور یک طرفہ معلومات کو حتمی سچائی کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا۔ اکثر یہ دیکھا گیا ہے کہ دہشت گرد شہری علاقوں میں کارروائی کرتے ہیں، مقامی لوگوں کو نشانہ بناتے ہیں اور پھر ان واقعات کی ذمہ داری ریاستی اداروں پر ڈالنے کے لیے منظم پروپیگنڈا شروع کر دیا جاتا ہے۔ پی ٹی ایم اور اس کے حامی حلقوں کو یہ واضح کرنا چاہیے کہ وہ دہشت گردوں کے شہری آبادی میں چھپنے، مقامی لوگوں کو خوف زدہ کرنے اور پشتون علاقوں کو جنگ کا میدان بنانے کی مذمت اتنی شدت سے کیوں نہیں کرتے جتنی شدت سے وہ سکیورٹی فورسز پر تنقید کرتے ہیں۔
پی ٹی ایم کے بیانیے کا سب سے نمایاں تضاد دہشت گردی کے متاثرین کے حوالے سے اس کی منتخب خاموشی ہے۔ تحریکِ طالبان پاکستان اور اس سے منسلک گروہوں نے ہزاروں پشتون شہریوں، فوجیوں، پولیس اہلکاروں، قبائلی مشران، سیاسی کارکنوں، اساتذہ اور مذہبی رہنماؤں کو قتل کیا۔ سکولوں کو بموں سے اڑایا گیا، جرگوں کو خودکش حملوں کا نشانہ بنایا گیا، کاروباری افراد سے بھتہ وصول کیا گیا اور نوجوانوں کو جبری طور پر مسلح گروہوں میں شامل کیا گیا۔ اس کے باوجود پی ٹی ایم کی سیاست میں ان مظالم کے خلاف وہ واضح، مسلسل اور منظم مزاحمت دکھائی نہیں دیتی جو ریاستی اداروں کے خلاف اس کی تقاریر اور احتجاجی سرگرمیوں میں نظر آتی ہے۔ انسانی حقوق کا اصول اس وقت قابلِ اعتماد بنتا ہے جب دہشت گرد اور ریاستی ادارے دونوں یکساں احتساب کے دائرے میں ہوں۔
پشتون ولی کی دو اہم روایات، پناہ ورکول اور مېلمستیا، کو دہشت گردوں نے سب سے زیادہ نقصان پہنچایا۔ پشتونوں نے اپنی روایتی مہمان نوازی کے تحت جن غیر ملکی اور مقامی افراد کو پناہ دی، انہی میں سے کئی نے بعد میں مقامی آبادی کو یرغمال بنا لیا۔ انہوں نے گھروں کو اسلحہ خانوں، تربیتی مراکز اور حملوں کی منصوبہ بندی کے مقامات میں تبدیل کیا۔ جو مقامی افراد ان کے نظریات یا احکامات سے اختلاف کرتے، انہیں مخبر، غدار یا ریاستی ایجنٹ قرار دے کر قتل کر دیا جاتا۔ اس طرح پشتونوں کی ایک قابلِ فخر روایت کو دہشت گردی کے لیے ڈھال بنایا گیا۔ اس تلخ تاریخی حقیقت کو نظرانداز کرکے پورے تنازعے کی ذمہ داری صرف ریاست پر ڈالنا دہشت گردوں کے کردار کو چھپانے کے مترادف ہے۔
اسی طرح دہشت گرد تنظیموں نے بدَل کے تصور کو بھی مسخ کیا۔ پشتون معاشرے میں بدلہ ایک پیچیدہ روایتی تصور رہا ہے، لیکن شدت پسند گروہوں نے اسے مذہبی اور سیاسی انتقام میں تبدیل کرکے نوجوانوں کو تشدد کی طرف مائل کیا۔ ذاتی تنازعات، خاندانی دشمنیوں اور تربورولی کو مسلح بغاوت سے جوڑ دیا گیا۔ ایک خاندان کے فرد کی موت کو پورے قبیلے اور ریاست کے خلاف جنگ کی بنیاد بنایا گیا۔ نوجوانوں کے جذبات کو استعمال کرکے انہیں خودکش حملہ آور، سہولت کار یا مسلح جنگجو بنایا گیا۔ پی ٹی ایم جب تاریخی شکایات کو مسلسل ریاست مخالف غصے میں تبدیل کرتی ہے تو وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر اسی ماحول کو مضبوط کرتی ہے جس سے دہشت گرد تنظیموں کو فائدہ پہنچتا ہے۔
قبائلی اضلاع میں امن کی بحالی کوئی معمولی کامیابی نہیں تھی۔ اس کے لیے پاکستان کی مسلح افواج، پولیس، فرنٹیئر کور، لیویز، قبائلی عمائدین اور عام پشتون شہریوں نے بے مثال قربانیاں دیں۔ ہزاروں فوجی اور شہری شہید ہوئے، لاکھوں افراد نے نقل مکانی کی تکلیف برداشت کی اور کئی خاندانوں نے اپنے گھر، کاروبار اور عزیز کھوئے۔ مقامی لشکروں اور امن کمیٹیوں کے ارکان نے دہشت گردوں کے خلاف کھڑے ہو کر اپنی جانیں قربان کیں۔ آج قبائلی اضلاع میں تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، سڑکوں، بازاروں، مواصلاتی نظام اور انتظامی ڈھانچے کی بحالی انہی قربانیوں کا نتیجہ ہے۔ ان تمام کوششوں کو مسترد کرنا پشتون عوام کی اپنی جدوجہد اور قربانیوں کی توہین ہے۔
یہ بھی ضروری ہے کہ ریاست قبائلی اضلاع میں ترقی، روزگار، انصاف اور سیاسی شمولیت کے عمل کو مزید تیز کرے۔ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف فوجی کارروائی سے مستقل نہیں بن سکتی۔ نوجوانوں کے لیے معیاری تعلیم، کاروباری مواقع، صحت کی سہولتیں، پولیس اصلاحات اور مؤثر عدالتی نظام ناگزیر ہیں۔ تاہم حقیقی مسائل کے حل کا راستہ ریاستی اداروں کو دشمن قرار دینا، نسلی تقسیم کو ہوا دینا یا ہر واقعے کو بیرونی پروپیگنڈے کے مطابق پیش کرنا نہیں ہے۔ اختلاف اور احتجاج آئینی حق ہیں، لیکن یہ حق دہشت گردی کے حقائق کو چھپانے یا قومی اداروں کے خلاف نفرت پھیلانے کا جواز فراہم نہیں کرتا۔
حقیقی پشتون شناخت امن، عزت، وفاداری اور وطن کے دفاع سے وابستہ ہے۔ پشتون پاکستان کی مسلح افواج، سیاست، تعلیم، عدلیہ، تجارت، کھیل اور سول سروس میں نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ کسی ایک تحریک کو پوری پشتون قوم کا نمائندہ قرار دینا پشتون معاشرے کے سیاسی اور سماجی تنوع سے انکار ہے۔ پی ٹی ایم کی متنازع سیاست پشتون عوام کی مکمل آواز نہیں بلکہ ایک محدود سیاسی بیانیہ ہے۔ پشتون ورثے کا حقیقی تحفظ اسی وقت ممکن ہے جب پشتون ولی کو نفرت، انتقام اور ریاستی تصادم کے بجائے امن، مصالحت، ترقی اور قومی یکجہتی کے لیے استعمال کیا جائے۔
Author
-
View all postsڈاکٹر مجدد نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ وہ تین ماسٹرز ڈگریوں اور اسٹریٹجک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کے حامل ہیں۔ وہ پاکستان ایئر فورس میں ۳۳ سال خدمات انجام دینے والے سابق کمیشنڈ آفیسر بھی رہ چکے ہیں۔