بلوچستان کے ضلع قلعہ عبداللہ میں انگوروں سے لدی تین تجارتی گاڑیاں چھیننا اور پھر وہ مال عوام میں بانٹ کر خود کو محافظ کہلوانا یہ منظر ایک عجیب تضاد پیش کرتا ہے۔ جو لوگ اپنے آپ کو وسائل کے محافظ کہتے ہیں وہ دراصل اس خطے کے سب سے بڑے معاشی دشمن ثابت ہو رہے ہیں۔ یہ محض رائے نہیں بلکہ گزشتہ کئی مہینوں کے ٹھوس واقعات اور ان کے نتائج کا سیدھا حساب ہے۔
قلعہ عبداللہ کا علاقہ کوئی سیاسی تجریدیت نہیں یہ بلوچستان کا وہ حصہ ہے جہاں آبادی کا دارومدار باغبانی اور زراعت پر ہے۔ انگور، آڑو، سیب، خوبانی اور چیری جیسے پھل اس کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ یہاں کے کسان، ٹرک ڈرائیور اور تاجر انہی فصلوں کو منڈیوں تک پہنچا کر اپنے گھر چلاتے ہیں۔ جب کوئی مسلح گروہ اس گاڑی کو روکتا ہے، اس کا مال چھینتا ہے اور پھر اسے انقلابی عمل قرار دیتا ہے تو دراصل وہ ایک محنت کش خاندان کی روزی لوٹ رہا ہوتا ہے نہ کہ کسی استحصالی نظام کو چیلنج کر رہا ہوتا ہے۔
تجارتی راستوں کی تباہی: عوام کا گلا گھونٹنا
حالیہ مہینوں میں بلوچستان کے اندر تجارتی راستوں پر جو کچھ ہوا اس کی تصویر کشی کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ بلوچستان میں اہم شاہراہوں کی بندش کے باعث تجارتی سرگرمیاں شدید متاثر ہوئی ہیں، ادویات اور خوراک سمیت ضروری اشیاء کی قلت کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ کوئٹہ چیمبر آف کامرس کے صدر محمد ایوب نے واضح الفاظ میں کہا کہ شاہراہوں کی بندش نے تاجروں اور کاروباری اداروں کے لیے سنگین مشکلات پیدا کر دی ہیں اور ممکنہ سرمایہ کاروں کو خطے میں آنے سے روک دیا ہے۔
بلوچستان کے تاجروں اور گڈز ٹرانسپورٹرز نے صوبائی حکومت کو سخت الٹی میٹم دیا کہ شاہراہوں پر بگڑتے سیکیورٹی حالات کو فوری طور پر قابو میں لایا جائے ورنہ صوبے بھر میں مکمل اور غیر معینہ معاشی ہڑتال کی جائے گی۔ یہ مطالبہ دہشت گردوں کے خلاف نہیں تھا یہ انہی لوگوں کی فریاد تھی جن کے تحفظ کا دعویٰ کیا جاتا ہے۔
گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 کے مطابق بلوچستان میں پاکستان کے کل 1,045 دہشت گردانہ واقعات میں سے تقریباً تین چوتھائی گزشتہ سال ہوئے جو ملک کا 2013 کے بعد سب سے مہلک سال تھا۔
یہ اعداد محض سیکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ بلوچستان کی معیشت کے لیے ایک سست زہر ہیں۔
گاڑیاں جلانا، پل اڑانا: ترقی کا راستہ بند کرنا
بلوچستان کی شاہراہوں پر اقتصادی محاصرے کے اعلان کے بعد سے اب تک 200 سے زائد گاڑیاں نذرِ آتش کی جا چکی ہیں۔ جون 2026 میں سی پیک روٹ پر دو پل دھماکوں سے اڑا دیے گئے۔ خاران کراچی شاہراہ پر بھاری مشینری سے ایک پل تباہ کر دیا گیا جس سے ٹریفک مکمل طور پر بند ہو گئی۔
یہ پل کسی استعمار نے نہیں بنائے تھے یہ بلوچستان کے عام لوگوں کی نقل و حرکت، ان کے بچوں کے اسکول جانے، اور بیمار افراد کے ہسپتال پہنچنے کا راستہ تھے۔ کوئٹہ چیمبر آف سمال انڈسٹری کے سربراہ نے کہا کہ شاہراہوں کی بندش نے مریضوں کو علاج کے لیے کوئٹہ پہنچنے سے روک دیا ہے جبکہ خوراک، ادویات اور ایندھن کی سپلائی شدید متاثر ہوئی ہے۔
اصل نقصان کس کا
جولائی 2026 تک بلوچستان کی مرکزی تاجر تنظیم نے واضح خبردار کیا کہ منظم بھتہ خوری کے نیٹ ورک خوراک، ایندھن اور ادویات کی سپلائی چین کو شدید خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ تاجروں کے نمائندوں کے مطابق کلات، سراب، خضدار، تافتان، پنجگور اور دلبندین سے گزرنے والی اہم شاہراہیں انتہائی غیر محفوظ ہو چکی ہیں اور ٹرانسپورٹرز کو اغوا، بھتہ خوری، ڈاکہ زنی اور گاڑیوں پر حملوں کا سامنا ہے۔
ذرا سوچیں جو ڈرائیور ہزاروں کلومیٹر سفر کر کے انگور لاتا ہے جس کسان نے مہینوں محنت کی جس ٹرک کمپنی نے اپنی جمع پونجی لگائی وہ سب اس وسائل کے تحفظ کے نام پر لٹ رہے ہیں۔ مال چھین کر عوام میں بانٹنے کا ڈراما ایک پرانا حربہ ہے جو تاریخ میں کبھی بھی انقلاب نہیں بن سکا یہ محض لوٹ مار کو عوامی رنگ دینے کی ناکام کوشش ہے۔
دہشت گردی معاشی حل نہیں
شاہراہوں کی بندش کا خمیازہ سب سے زیادہ مقامی آبادی کو بھگتنا پڑتا ہے ضروری اشیاء کی قلت، قیمتوں میں اضافہ اور سپلائی چین کی تباہی ان کا نتیجہ ہے۔ یہ مستقل عدم استحکام نہ صرف بلوچستان کی اندرونی معیشت کو نقصان پہنچاتا ہے بلکہ سرمایہ کاروں، انجینئرنگ کمپنیوں اور ترقیاتی اداروں کو بھی دور کرتا ہے۔
فتنہ الہندوستان کے یہ دہشت گرد اور ان کا نظریاتی ایجنڈا بلوچستان کے عوام کو کسی آزادی کی طرف نہیں لے جا رہا وہ انہیں روزگار سے، بازار سے، ہسپتال سے اور ترقی سے کاٹ رہا ہے۔ انگوروں سے بھری گاڑی چھیننا قومی وسائل کا تحفظ نہیں یہ ایک غریب ڈرائیور کا رزق چھیننا ہے اور اسے کسی بھی نام سے پکارا جائے یہ جرم ہی رہے گا۔
بلوچستان کے لوگ ذہین اور تجربہ کار ہیں۔ وہ خوب جانتے ہیں کہ لوٹ مار اور ترقی ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ انہیں محافظوں کی نہیں سڑکوں کی حفاظت چاہیے۔ انہیں اقتصادی محاصرے کی نہیں کھلی منڈیوں کی ضرورت ہے۔ اور انہیں وہ نہیں چاہیے جو ان کے نام پر ان کا گلا گھونٹے۔
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔
Author
-
View all postsمصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔