احتجاج کسی بھی جمہوری معاشرے میں اختلاف رائے کے اظہار کا جائز ذریعہ ہے۔ شہریوں کو اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھانے، حکومت کی پالیسیوں سے اختلاف کرنے اور پُرامن اجتماع منعقد کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ لیکن اسی جمہوری اصول کے ساتھ ایک بنیادی حد بھی جڑی ہوئی ہے۔ احتجاج اس وقت تک احتجاج رہتا ہے جب تک وہ دلیل، سیاسی مطالبے اور پُرامن اجتماعی عمل کے دائرے میں ہو۔ اگر کسی تحریک کے دوران پولیس اہلکاروں کو اغوا کیا جائے، انہیں یرغمال بنایا جائے، تشدد کا نشانہ بنایا جائے اور مسلح دھمکیوں کے ذریعے ان سے مخصوص نعرے لگوانے کی کوشش کی جائے تو پھر اسے محض ’’پُرامن احتجاج‘‘ کہہ دینا حقائق سے نظریں چرانے کے مترادف ہے۔
راولاکوٹ کے قریب اغوا کیے گئے آٹھ پولیس اہلکاروں کی بازیابی اور اس کے بعد ان کے بیانات نے اسی بنیادی سوال کو دوبارہ سامنے لا کھڑا کیا ہے۔ اہلکاروں کے مطابق وہ آزاد کشمیر کے انتخابات میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرکے واپس جا رہے تھے جب انہیں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی سے وابستہ مسلح عناصر نے گھیر کر یرغمال بنا لیا۔ بازیاب اہلکاروں نے بتایا کہ دوران حراست ان کے ساتھ پُرتشدد رویہ اختیار کیا گیا، جبکہ اغوا کار جدید اسلحے اور دستی بموں سے لیس تھے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان سے زبردستی پاکستان اور پاک فوج مخالف نعرے لگوانے کی کوشش کی گئی۔ یہ الزامات اپنی نوعیت میں انتہائی سنگین ہیں اور ان کی مکمل قانونی تحقیقات ضروری ہیں۔ (ایکسپریس اردو)
یہ واقعہ کسی معمولی سیاسی تلخی یا مظاہرین اور پولیس کے درمیان وقتی دھکم پیل کے زمرے میں نہیں آتا۔ کسی وردی پوش اہلکار کو اس کی ڈیوٹی کے دوران یا اس کے فوراً بعد اغوا کرنا دراصل ریاستی عمل داری کو براہ راست چیلنج کرنا ہے۔ پولیس اہلکار کسی سیاسی جماعت کے نمائندے نہیں ہوتے۔ وہ قانون کے نفاذ کی ذمہ داری انجام دیتے ہیں۔ انہیں یرغمال بنا کر مطالبات منوانے کی کوشش کسی بھی سیاسی تحریک کو جمہوری جدوجہد کے دائرے سے باہر لے جاتی ہے۔
اس معاملے کو ایک الگ تھلگ واقعہ سمجھ کر نظر انداز کرنا بھی مشکل ہے۔ رواں سال آزاد کشمیر میں ہونے والی کشیدگی کے دوران قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر مسلح حملوں کے متعدد الزامات سامنے آ چکے ہیں۔ جون میں راولاکوٹ میں جھڑپوں کے دوران چار پولیس اہلکار جان سے گئے اور بیس سے زیادہ زخمی ہوئے۔ پولیس حکام نے اس واقعے کو مسلح اور منظم حملہ قرار دیا، جبکہ کمبائنڈ ملٹری ہسپتال راولاکوٹ میں پیش آنے والے واقعات نے صورت حال کو مزید تشویش ناک بنایا۔
ہسپتال کسی بھی سیاسی تنازع میں مقدس نوعیت کا شہری مقام سمجھا جاتا ہے۔ وہاں مریض ہوتے ہیں، زخمی ہوتے ہیں، ڈاکٹر اور طبی عملہ اپنی ذمہ داریاں انجام دے رہے ہوتے ہیں۔ جب سیاسی تصادم ہسپتالوں، سرکاری تنصیبات یا دیگر عوامی اداروں تک پہنچ جائے تو یہ سوال لازمی پیدا ہوتا ہے کہ تحریک کی قیادت اپنے کارکنوں اور مسلح عناصر پر کس حد تک کنٹرول رکھتی ہے۔ اگر احتجاج کے نام پر طبی سہولیات متاثر ہوں، املاک کو نقصان پہنچے یا قانون نافذ کرنے والے اہلکار نشانہ بنیں تو محض لفظ ’’پُرامن‘‘ استعمال کرنے سے زمینی حقیقت تبدیل نہیں ہو جاتی۔ راولاکوٹ کے CMH سے متعلق پولیس نے بھی الزام عائد کیا تھا کہ ہسپتال کا گھیراؤ اور وہاں کشیدگی پیدا ہونے سے طبی خدمات متاثر ہوئیں۔
یہاں ایک اہم اصول فراموش نہیں ہونا چاہیے۔ کسی تحریک کے سیاسی مطالبات اپنی جگہ جائز یا قابل بحث ہو سکتے ہیں۔ حکومت سے اختلاف، آئینی مطالبات، مہنگائی، نمائندگی یا انتظامی معاملات پر اعتراض کرنا شہریوں کا حق ہے۔ ریاستی اقدامات پر تنقید بھی ہونی چاہیے اور جہاں طاقت کا غیرضروری استعمال ہو وہاں آزادانہ تحقیقات بھی ضروری ہیں۔ لیکن سیاسی شکایات کسی فرد یا گروہ کو تشدد کا لائسنس نہیں دیتیں۔ کسی مطالبے کی مقبولیت اغوا کو جائز نہیں بنا سکتی اور کسی سیاسی بیانیے کی شدت یرغمال بنانے کو جمہوری طریقہ نہیں بنا دیتی۔
اسی لیے احتجاج اور تشدد کے درمیان لکیر بہت واضح رہنی چاہیے۔ ہاتھ میں پلے کارڈ لے کر مطالبہ کرنا احتجاج ہے۔ سڑک پر بیٹھ کر حکومت سے مذاکرات کا مطالبہ کرنا احتجاج ہے۔ عدالت سے رجوع کرنا، میڈیا کے ذریعے آواز بلند کرنا اور جلسہ کرنا سیاسی حق ہے۔ لیکن اسلحہ اٹھانا، پولیس اہلکار کو پکڑنا، اسے قید کرنا، مارپیٹ کرنا یا جان سے مارنے کی دھمکی دینا احتجاج نہیں۔ یہ ایسے افعال ہیں جن کا فیصلہ سیاسی نعروں سے نہیں بلکہ قانون کے تحت ہونا چاہیے۔
آٹھ پولیس اہلکاروں کی بحفاظت بازیابی اسی تناظر میں اہم ہے۔ ریاست کی ذمہ داری صرف اپنی رٹ قائم کرنا نہیں بلکہ یہ بھی یقینی بنانا ہے کہ کارروائی قانون، ثبوت اور عدالتی عمل کے مطابق ہو۔ تشدد کا جواب غیرقانونی تشدد نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کسی شخص نے اغوا، حملے، فائرنگ یا تشدد میں حصہ لیا ہے تو اس کے خلاف ٹھوس شواہد جمع کیے جائیں، مقدمہ چلایا جائے اور عدالت کو فیصلہ کرنے دیا جائے۔ یہی طریقہ ریاست اور مسلح جتھے کے درمیان بنیادی فرق قائم رکھتا ہے۔
اس معاملے کا ایک بین الاقوامی پہلو بھی ہے۔ بیرونی میڈیا اور انسانی حقوق کے حلقوں کو آزاد کشمیر میں احتجاجی سرگرمیوں کا جائزہ لیتے ہوئے صرف ایک فریق کے ’’پُرامن احتجاج‘‘ کے دعوے تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔ ریاستی طاقت کے استعمال کی جانچ یقیناً ہونی چاہیے، مگر اسی معیار پر مظاہرین یا سیاسی گروہوں سے وابستہ عناصر کے مبینہ تشدد، اغوا، مسلح حملوں اور سرکاری و طبی اداروں کو نشانہ بنانے کے واقعات کی بھی چھان بین ضروری ہے۔ انسانی حقوق کا اصول انتخابی نہیں ہو سکتا۔ احتساب کا پیمانہ سب کے لیے ایک ہونا چاہیے۔
آخرکار معاملہ کسی ایک تنظیم، حکومت یا سیاسی اختلاف سے بڑا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم سیاسی جدوجہد کے لیے کس قسم کا معیار قبول کرنا چاہتے ہیں۔ اگر اغوا، اسلحہ، تشدد اور دھمکی کو بھی احتجاج کے وسیع مفہوم میں سمو دیا جائے تو پھر حقیقی پُرامن سیاسی کارکن اور مسلح گروہ کے درمیان فرق ختم ہو جائے گا۔ جمہوریت اختلاف کو جگہ دیتی ہے، تشدد کو نہیں۔ مطالبات سنے جانے چاہئیں، مذاکرات ہونے چاہئیں اور شکایات کا حل سیاسی طریقے سے نکلنا چاہیے، لیکن پولیس اہلکاروں کو یرغمال بنا کر کسی تحریک کو ’’پُرامن‘‘ ثابت نہیں کیا جا سکتا۔ امن کا سب سے پہلا ثبوت یہی ہے کہ اختلاف کرنے والا اپنے مخالف کی جان، آزادی اور بنیادی حقوق کا احترام کرے۔
Author
-
View all posts
Muhammad Sudais is pursuing a PhD in International Relations, with a research focus on United States interests and strategic engagement in Asia. His academic work examines American foreign policy, regional power competition, security dynamics, and the evolving geopolitical importance of Asia within the broader international system.