Nigah

عالمِ دین کا مقام اور مذہبی ذمہ داری

[post-views]

اسلامی معاشرے میں عالمِ دین کا مقام محض ایک مذہبی خطیب یا رسمی شخصیت کا نہیں، بلکہ ایک ایسے رہنما کا ہے جو علم، کردار، حکمت اور ذمہ داری کے ساتھ لوگوں کی دینی و اخلاقی رہنمائی کرتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ علمائے کرام نے معاشرتی اصلاح، تعلیم، فلاح، مصالحت، امن اور مشکل حالات میں قوموں کی فکری رہنمائی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ اسی لیے دینی علم اور اہلِ علم کا احترام ہماری مذہبی اور معاشرتی روایت کا بنیادی حصہ ہے۔ قرآنِ کریم بھی علم سے ناواقف معاملات میں اہلِ علم سے رجوع کی تعلیم دیتا ہے اور فرماتا ہے، "فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِنْ كُنْتُمْ لَا تَعْلَمُونَ”، یعنی اگر تم نہیں جانتے تو اہلِ علم سے پوچھو۔ یہ اصول جہاں مستند دینی قیادت کی اہمیت واضح کرتا ہے، وہیں یہ ذمہ داری بھی عائد کرتا ہے کہ ہم حقیقی علم اور محض مذہبی دعوے کے درمیان فرق کرنا سیکھیں۔

دینی منصب بنیادی طور پر ایک امانت ہے۔ جو شخص منبر، محراب، مدرسے یا کسی مذہبی پلیٹ فارم سے لوگوں کی رہنمائی کرتا ہے، اس کے الفاظ عام گفتگو کے مقابلے میں کہیں زیادہ اثر رکھتے ہیں۔ ایک عالم کی بات خاندانوں کے فیصلوں، نوجوانوں کی سوچ اور معاشرتی رویوں تک کو متاثر کر سکتی ہے۔ اسی لیے دینی منصب کو مالی فائدے، سیاسی رسوخ، ذاتی دشمنی، گروہی مفاد یا کسی مخصوص حلقے کی طاقت بڑھانے کے لیے استعمال کرنا اس امانت کی روح کے منافی ہے۔ مذہبی مقام جتنا بلند ہو، اس کے ساتھ وابستہ احتساب اور ذمہ داری بھی اتنی ہی زیادہ ہونی چاہیے۔

یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ کسی خاص لباس، لقب، وضع قطع یا مقبولیت کو علمی سند نہیں سمجھا جا سکتا۔ مستند دینی قیادت کے لیے باقاعدہ علم، معتبر اساتذہ سے استفادہ، علمی دیانت، اخلاق، تقویٰ، اعتدال، تحقیق اور اپنے الفاظ کے نتائج کا شعور بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔ معاشرہ اگر صرف خطابت، جذباتی انداز یا سوشل میڈیا کی مقبولیت کو علم کا پیمانہ بنا لے تو سنجیدہ علمی روایت کمزور ہو جاتی ہے۔ علم کی پہچان شور سے نہیں، دلیل، کردار اور ذمہ دارانہ رویے سے ہوتی ہے۔

مساجد، مدارس اور مذہبی اجتماعات ہمارے معاشرے کے اہم ترین سماجی اداروں میں شامل ہیں۔ انہیں کردار سازی، خیر خواہی، بھائی چارے، اصلاح، تعلیم اور تنازعات کے پُرامن حل کے مراکز ہونا چاہیے۔ اگر یہی مقامات فرقہ وارانہ نفرت، اشتعال یا سماجی تقسیم پیدا کرنے کے لیے استعمال ہونے لگیں تو نقصان صرف کسی ایک گروہ کا نہیں ہوتا، پورا معاشرہ اس کی قیمت ادا کرتا ہے۔ مذہبی اختلاف انسانی معاشروں کا حصہ رہے ہیں اور اسلامی علمی روایت خود فقہی اختلاف کی ایک طویل اور بھرپور تاریخ رکھتی ہے۔ اختلاف کو دشمنی میں تبدیل کرنا علم نہیں، بلکہ علمی روایت کی نفی ہے۔

اسی طرح کسی خبر، الزام یا دعوے کو مذہبی حیثیت دے کر پھیلانا انتہائی حساس معاملہ ہے۔ قرآنِ کریم نے غیر مصدقہ اطلاع کے بارے میں واضح اصول دیا، "فَتَبَيَّنُوا”، یعنی تحقیق کر لیا کرو۔ آج کے دور میں جب چند لمحوں میں جھوٹی خبر لاکھوں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے، یہ قرآنی اصول پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ کسی عالم، خطیب یا مذہبی مقرر کے لیے ضروری ہے کہ وہ سنی سنائی بات، افواہ یا غیر ثابت شدہ الزام کو اپنی زبان سے سند نہ بخشے۔ ایک غیر ذمہ دارانہ بیان کبھی کسی شخص کی عزت، کسی خاندان کی سلامتی اور بعض اوقات پورے علاقے کے امن کو خطرے میں ڈال سکتا ہے۔

تکفیر اور مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیزی کا معاملہ بھی اسی ذمہ داری سے جڑا ہوا ہے۔ کسی انسان کے عقیدے، نیت یا دینی حیثیت کے بارے میں فیصلہ عام محفلوں یا جذباتی اجتماعات کا موضوع نہیں ہونا چاہیے۔ فقہی اور اعتقادی اختلافات کے لیے علمی اصول، مستند اہلِ علم، قانونی طریقۂ کار اور ذمہ دارانہ مکالمہ موجود ہے۔ مذہب کے نام پر قانون ہاتھ میں لینا، تشدد پر اکسانا یا کسی فرد اور گروہ کے خلاف عوامی جذبات کو بھڑکانا نہ صرف سماجی امن کے لیے خطرناک ہے بلکہ خود دینی وقار کو بھی مجروح کرتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات میں مسلمان کی پہچان امن اور سلامتی سے جوڑی گئی ہے۔ صحیح بخاری کی معروف حدیث کے مطابق مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ رہیں۔ یہ تعلیم محض فرد کی اخلاقی تربیت تک محدود نہیں بلکہ مذہبی گفتگو کے پورے مزاج کی رہنمائی کرتی ہے۔ اگر دین کے نام پر ہونے والی گفتگو سے خوف، ذلت، نفرت یا تشدد پیدا ہو رہا ہو تو یہ سوچنا ضروری ہے کہ آیا ہم دینی پیغام کی اصل روح سے دور تو نہیں ہو رہے۔ عالمِ دین کا اصل وقار لوگوں کو مشتعل کرنے میں نہیں بلکہ انہیں انصاف، تحمل، اخلاق اور خیر کی طرف لے جانے میں ہے۔

خصوصاً نوجوان نسل کے لیے مستند علمائے کرام کا کردار نہایت اہم ہے۔ آج نوجوان مذہبی معلومات صرف مسجد یا مدرسے سے نہیں لیتے، بلکہ مختصر ویڈیوز، سوشل میڈیا کلپس اور غیر معروف آن لائن مقررین بھی ان کی سوچ تشکیل دے رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں قابلِ اعتماد علما نوجوانوں کو علمی تحقیق، اختلاف کے احترام، آئینی نظم، پُرامن بقائے باہمی اور ذمہ دار شہری کردار کی طرف رہنمائی دے سکتے ہیں۔ انہیں یہ باور کرایا جا سکتا ہے کہ دین انسان کو معاشرے سے کاٹتا نہیں، بلکہ اسے زیادہ ذمہ دار، منصف اور خیر خواہ بناتا ہے۔

اصل ضرورت یہ ہے کہ ہم دو انتہاؤں سے بچیں۔ ایک طرف اہلِ علم کی تحقیر اور ہر مذہبی رہنما کو شک کی نگاہ سے دیکھنا درست نہیں، اور دوسری طرف کسی مذہبی شخصیت کو تنقید، تحقیق یا احتساب سے بالاتر سمجھ لینا بھی مناسب نہیں۔ مستند عالم کا احترام دراصل علم، تقویٰ، دیانت اور خدمت کا احترام ہے۔ یہی احترام اس وقت زیادہ مضبوط ہوتا ہے جب مذہب کے نام پر ذاتی مفاد، سیاسی جوڑ توڑ، فرقہ وارانہ اشتعال اور عوامی جذبات کے استحصال کی واضح نفی کی جائے۔

دینی قیادت کی اصل طاقت اعتماد میں ہوتی ہے، اور اعتماد صرف علم اور کردار سے پیدا ہوتا ہے۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں معتبر علما کی عزت ہو، علمی اختلاف کو برداشت کیا جائے، مذہبی پلیٹ فارم امن و اصلاح کے لیے استعمال ہوں اور نفرت یا مفاد پرستی کو مذہبی تحفظ نہ ملے، وہاں دین تقسیم کا نہیں بلکہ اجتماعی خیر کا ذریعہ بنتا ہے۔ مستند دینی علم کا فروغ اور مذہب کے استحصال کی مخالفت ایک دوسرے کی ضد نہیں بلکہ ایک ہی مقصد کے دو پہلو ہیں۔ انہی دونوں کو ساتھ لے کر ہم مذہبی وقار، معاشرتی ہم آہنگی اور عوامی اعتماد کو مضبوط بنا سکتے ہیں۔

Author

  • Professor Dr. Hamid Gul is an academic and international affairs expert with extensive knowledge of security, climate change, politics, and economic issues. He is currently serving as a professor at Central Asian University, where he contributes to teaching, research, and policy-oriented discussion on regional and international issues.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔