افغانستان میں طالبان کی دوبارہ حکومت قائم ہوئے پانچ سال گزر چکے ہیں، مگر خطے کے لیے سب سے اہم سوال اب بھی اپنی جگہ موجود ہے۔ کیا طالبان نے واقعی افغان سرزمین کو دہشت گرد تنظیموں سے پاک کر دیا ہے؟ حالیہ بین الاقوامی جائزے اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔ اٹلانٹک کونسل کی 10 ستمبر 2026 کی ایک اہم رپورٹ میں جنوبی ایشیا میں دہشت گردی کے مستقبل کا جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا گیا ہے کہ طالبان کی حکومت نے متعدد شدت پسند تنظیموں کے لیے ایسا ماحول پیدا کیا ہے جہاں وہ اپنی موجودگی برقرار رکھ سکتی ہیں، دوبارہ منظم ہو سکتی ہیں اور مستقبل کے لیے اپنی صلاحیت بڑھا سکتی ہیں۔
یہ صورت حال اس لیے زیادہ تشویش ناک ہے کہ افغانستان کا مسئلہ اب اس کی سرحدوں تک محدود نہیں رہا۔ طالبان بارہا یہ مؤقف اختیار کرتے رہے ہیں کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی، لیکن زمینی حقائق اور بین الاقوامی جائزے اس دعوے سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی نگرانی کرنے والی ٹیم کی 2026 کی رپورٹ کے مطابق خطے کے ممالک افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیموں اور ان کے سرحد پار اثرات پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ رپورٹ کے مطابق کسی رکن ملک نے طالبان کے اس دعوے کی تائید نہیں کی کہ افغانستان میں دہشت گرد تنظیمیں موجود نہیں ہیں۔
پاکستان کے لیے سب سے فوری خطرہ تحریک طالبان پاکستان ہے۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے قیام کے بعد اس تنظیم کو ملنے والی عملی گنجائش پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں سب سے بڑی رکاوٹوں میں شامل ہو چکی ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ تحریک طالبان پاکستان کو افغانستان میں سرگرم بڑی دہشت گرد تنظیموں میں شمار کرتی ہے اور بتاتی ہے کہ اسے افغان حکام کی جانب سے دیگر گروہوں کے مقابلے میں زیادہ آزادی اور معاونت حاصل رہی، جس کے نتیجے میں پاکستان کے خلاف حملوں میں اضافہ ہوا۔ اٹلانٹک کونسل بھی نشاندہی کرتی ہے کہ تحریک طالبان پاکستان افغانستان اور پاکستان میں موجود ٹھکانوں کو استعمال کرتے ہوئے پاکستانی ریاست اور سکیورٹی فورسز کے خلاف حملے کر رہی ہے۔
یہ معاملہ محض پاکستان اور طالبان حکومت کے درمیان سیاسی اختلاف نہیں ہے۔ اگر کسی ریاست کے زیرِ انتظام علاقے سے ایک مسلح گروہ مسلسل ہمسایہ ملک کے خلاف کارروائیاں کرتا رہے تو یہ پورے علاقائی سلامتی کے نظام کے لیے خطرہ بن جاتا ہے۔ پاکستان نے گزشتہ برسوں میں بارہا کابل سے مطالبہ کیا کہ تحریک طالبان پاکستان کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کی جائے۔ لیکن تنظیم کی قیادت، جنگجوؤں اور عملی ڈھانچے کی افغانستان میں موجودگی سے متعلق بین الاقوامی رپورٹس یہ سوال اٹھاتی ہیں کہ طالبان حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتی یا سیاسی اور نظریاتی وجوہات کی بنا پر فیصلہ کن اقدام کرنے پر آمادہ نہیں۔
القاعدہ کا معاملہ مزید اہم ہے کیونکہ افغانستان کی جدید تاریخ میں اس تنظیم کی موجودگی کے نتائج پوری دنیا دیکھ چکی ہے۔ طالبان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ افغانستان میں القاعدہ کی کوئی منظم موجودگی نہیں، مگر اقوام متحدہ کی نگرانی کرنے والی ٹیم نے اس دعوے سے اختلاف کیا ہے۔ ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق القاعدہ نہ صرف افغانستان میں موجود ہے بلکہ وہ دوسرے شدت پسند گروہوں کو نظریاتی رہنمائی، تربیت، مشاورت اور رسد سے متعلق معاونت بھی فراہم کرتی ہے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ طالبان القاعدہ پر کنٹرول برقرار رکھتے ہوئے اسے پناہ اور معاونت فراہم کرتے ہیں۔
یہاں ایک بنیادی سبق نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ دہشت گرد تنظیمیں ہمیشہ فوری طور پر بڑے حملے نہیں کرتیں۔ بعض اوقات ان کے لیے سب سے قیمتی چیز وقت، محفوظ جگہ اور تنظیمی آزادی ہوتی ہے۔ یہی وقفہ انہیں نئی قیادت تیار کرنے، مالی ذرائع قائم کرنے، جنگجو بھرتی کرنے اور مستقبل کے اہداف کی منصوبہ بندی کرنے کا موقع دیتا ہے۔ اٹلانٹک کونسل نے اسی خطرے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ طالبان کی حکمرانی کمزور پڑ جانے والی تنظیموں، خصوصاً القاعدہ، کو دوبارہ منظم ہونے کے لیے جگہ فراہم کر رہی ہے۔
داعش خراسان کا معاملہ قدرے مختلف ہے۔ طالبان اور داعش خراسان اتحادی نہیں بلکہ دشمن ہیں اور طالبان نے اس تنظیم کے خلاف متعدد فوجی کارروائیاں بھی کی ہیں۔ اس حقیقت کو تسلیم کرنا ضروری ہے۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ ان کارروائیوں کے باوجود داعش خراسان ختم نہیں ہوئی۔ اقوام متحدہ کے مطابق تنظیم شدید دباؤ کے باوجود اپنی عملی اور جنگی صلاحیت برقرار رکھے ہوئے ہے اور آن لائن ذرائع کے ذریعے نئے جنگجو بھرتی کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہے۔
اس سے بھی زیادہ خطرناک پہلو داعش خراسان کی بین الاقوامی رسائی ہے۔ اقوام متحدہ کے ایک جائزے کے مطابق تنظیم نے سینکڑوں وسطی ایشیائی افراد، بالخصوص تاجکستان اور ازبکستان کے نوجوانوں کو بھرتی کیا۔ ان میں سے بعض افغانستان پہنچے، بعض اپنے ممالک میں رہے جبکہ بعض کو یورپ کی جانب بھیجا گیا۔ رپورٹ کے مطابق داعش خراسان کا مقصد عالمی سطح پر نمایاں حملوں کی صلاحیت دکھانا اور اسی بنیاد پر مزید افراد اور وسائل حاصل کرنا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ افغانستان میں شدت پسند نیٹ ورک کا مسئلہ صرف پاکستان یا وسطی ایشیا کا مسئلہ نہیں رہتا۔
مشرقی ترکستان اسلامی تحریک سمیت دوسرے وسطی ایشیائی شدت پسند گروہوں کی موجودگی اس سکیورٹی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بناتی ہے۔ اقوام متحدہ کے سابقہ جائزوں میں القاعدہ، تحریک طالبان پاکستان، مشرقی ترکستان اسلامی تحریک اور دیگر غیر افغان شدت پسند تنظیموں کے باہمی روابط کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ایسے گروہوں کے اہداف افغانستان تک محدود نہیں ہوتے۔ ان کی نظریاتی اور جغرافیائی دلچسپی وسطی ایشیا، پاکستان اور چین کے مغربی علاقوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ اسی لیے افغانستان میں ان کی موجودگی کا اثر پورے خطے کی سکیورٹی منصوبہ بندی پر پڑتا ہے۔
طالبان کے لیے اصل امتحان کابل، قندھار یا دیگر بڑے شہروں پر سیاسی کنٹرول برقرار رکھنا نہیں بلکہ یہ ثابت کرنا ہے کہ ان کی حکومت افغان سرزمین سے کام کرنے والے تمام مسلح غیر ریاستی گروہوں پر یکساں قانون نافذ کر سکتی ہے۔ داعش خراسان کے خلاف کارروائی لیکن تحریک طالبان پاکستان کے لیے نسبتاً نرم رویہ، یا القاعدہ کے ساتھ تاریخی روابط، طالبان کی انسداد دہشت گردی پالیسی کی ساکھ کو کمزور کرتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف پالیسی انتخابی نہیں ہو سکتی۔ ایک تنظیم کو دشمن اور دوسری کو قابلِ قبول اتحادی سمجھنے کا طرزِعمل بالآخر اسی شدت پسند ماحول کو زندہ رکھتا ہے جس سے پورا خطہ متاثر ہوتا ہے۔
افغانستان کے عوام بھی اس صورت حال کی قیمت ادا کرتے ہیں۔ دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی افغانستان کو اقتصادی تنہائی، سرحدی کشیدگی اور عالمی عدم اعتماد سے باہر آنے نہیں دیتی۔ پاکستان کے ساتھ کشیدہ تعلقات، وسطی ایشیائی ممالک کے بڑھتے ہوئے خدشات اور عالمی برادری کی محتاط پالیسی کا ایک بڑا سبب یہی سکیورٹی سوال ہے۔ اگر کابل اپنے ہمسایوں کو یہ یقین نہیں دلا سکتا کہ افغان سرزمین ان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی تو سیاسی تسلیم، سرمایہ کاری اور علاقائی رابطوں کے بڑے منصوبے بھی متاثر رہیں گے۔
طالبان حکومت کے سامنے انتخاب اب زیادہ واضح ہے۔ اسے دہشت گرد گروہوں کے ساتھ نظریاتی قربت اور تاریخی تعلقات سے اوپر اٹھ کر ایک ذمہ دار ریاستی طرزِعمل اختیار کرنا ہوگا۔ تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ، داعش خراسان، مشرقی ترکستان اسلامی تحریک اور دوسرے مسلح نیٹ ورکس کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائی کے بغیر محض یہ اعلان کافی نہیں کہ افغانستان محفوظ ہو چکا ہے۔ بین الاقوامی رپورٹس، سرحد پار حملے اور شدت پسند تنظیموں کی مسلسل موجودگی اس دعوے کو کمزور کرتی ہے۔
افغانستان کو دنیا کے لیے ایک بار پھر خطرے کی علامت بننے سے بچانا خود افغان حکمرانوں کی ذمہ داری ہے۔ اگر دہشت گرد تنظیموں کو محفوظ جگہ، وقت، بھرتی کے مواقع اور دوبارہ منظم ہونے کی آزادی ملتی رہی تو آج کا علاقائی خطرہ کل ایک بڑے بین الاقوامی بحران میں بدل سکتا ہے۔ اٹلانٹک کونسل اور اقوام متحدہ کے حالیہ جائزوں کا بنیادی پیغام بھی یہی ہے کہ طالبان کی حکومت بذاتِ خود امن کی ضمانت نہیں۔ اصل پیمانہ یہ ہے کہ افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد نیٹ ورکس کی پناہ گاہیں، تربیتی امکانات اور سرحد پار کارروائیوں کی صلاحیت حقیقی طور پر ختم ہوتی ہے یا نہیں۔ جب تک اس سوال کا جواب عملی طور پر مثبت نہیں ہوتا، افغانستان کو خطے کی سلامتی کا حل نہیں بلکہ اس کے سب سے بڑے چیلنجوں میں سے ایک سمجھا جاتا رہے گا۔
Author
-
View all postsProfessor Dr. Hamid Gul is an academic and international affairs expert with extensive knowledge of security, climate change, politics, and economic issues. He is currently serving as a professor at Central Asian University, where he contributes to teaching, research, and policy-oriented discussion on regional and international issues.