Nigah

جب مذہب مفاد کا ہتھیار بن جائے

[post-views]

مذہب انسان کے ضمیر، اخلاق اور اجتماعی زندگی کو سنوارنے کی قوت رکھتا ہے، لیکن یہی تقدس اس وقت خطرناک طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے جب کوئی فرد یا گروہ سچی مذہبی باتوں کے ساتھ جھوٹ، سیاسی مفاد، ذاتی اقتدار یا تشدد کے جواز کو ملا دے۔ قرآن کا اصول اس معاملے میں نہایت واضح ہے۔ سورۃ البقرہ میں حکم دیا گیا کہ حق کو باطل کے ساتھ نہ ملاؤ اور جانتے بوجھتے حق کو نہ چھپاؤ۔ اس اصول کا مطلب یہ ہے کہ کسی تقریر میں قرآن کی درست آیت کا موجود ہونا باقی پوری دلیل کو خود بخود اسلامی نہیں بنا دیتا۔ اگر آیت کے ساتھ سیاق چھپا دیا جائے، بے گناہوں کے حقوق نظر انداز کیے جائیں یا تشدد کو مذہبی فریضہ بنا کر پیش کیا جائے تو مذہبی زبان اس تحریف کو پاکیزگی نہیں دے سکتی۔

رسول اللہ ﷺ نے دھوکے کے بارے میں بھی انتہائی سخت اصول بیان فرمایا۔ صحیح مسلم کی روایت میں آپ ﷺ نے فرمایا کہ جو دھوکا دے وہ آپ کے طریقے پر نہیں۔ یہ تعلیم صرف تجارت تک محدود اخلاقی سبق نہیں، بلکہ دیانت کا وسیع اصول پیش کرتی ہے۔ مذہبی پروپیگنڈا جب لوگوں کے خوف، غصے یا عقیدت سے فائدہ اٹھا کر حقائق چھپاتا ہے تو وہ اسی اخلاقی خرابی کا شکار ہوتا ہے۔ مذہبی جذبات کو کسی تنظیم، شخصیت یا سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرنے سے پہلے یہ سوال ضروری ہے کہ جو بات اللہ اور رسول ﷺ کی طرف منسوب کی جا رہی ہے، کیا وہ واقعی مکمل دینی تعلیم ہے یا منتخب حوالوں کے ذریعے تیار کیا گیا بیانیہ؟

قرآن اس سے بھی آگے بڑھ کر مذہب کے نام پر انسانی بات کو خدائی حکم بنانے کی مذمت کرتا ہے۔ سورۃ البقرہ کی آیت 79 ان لوگوں پر گرفت کرتی ہے جو اپنے ہاتھ سے بات لکھ کر اسے اللہ کی طرف منسوب کرتے اور اس کے ذریعے دنیاوی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اسی طرح سورۃ النحل میں اپنی طرف سے کسی چیز کو حلال یا حرام قرار دے کر اسے اللہ سے منسوب کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اس لیے کسی رہنما کا سیاسی پروگرام، تنظیمی حکمت عملی یا ذاتی فیصلہ محض اس وجہ سے حکمِ الٰہی نہیں بن جاتا کہ اس کے ساتھ چند مذہبی حوالے شامل کر دیے گئے ہوں۔ دین دلیل مانگتا ہے، اندھی شخصی وفاداری نہیں۔

سورۃ التوبہ میں مسجدِ ضرار کا واقعہ اس مسئلے کو مزید گہرائی دیتا ہے۔ قرآن ایک ایسی مسجد کا ذکر کرتا ہے جو بظاہر عبادت گاہ تھی، مگر اسے نقصان پہنچانے، تفریق پیدا کرنے اور مخاصمانہ مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔ اس واقعے میں ایک بڑا اصول پوشیدہ ہے۔ صرف مذہبی نام، عمارت، لباس یا نعرہ کسی عمل کو مقدس نہیں بناتا۔ عمل کا مقصد اور نتیجہ بھی دیکھا جائے گا۔ اگر کوئی مذہبی مقام، اجتماع یا تنظیم نفرت، فرقہ واریت، تشدد یا سماجی تقسیم کو فروغ دیتی ہے تو اس کا جائزہ اس کے طرزِ عمل سے لیا جائے گا، محض مذہبی شناخت سے نہیں۔

اسی طرح ظاہری قربانی بھی نیت کا قطعی ثبوت نہیں۔ صحیح مسلم کی معروف روایت میں ایسے جنگجو، عالم اور مال خرچ کرنے والے افراد کا ذکر آتا ہے جن کے بڑے اعمال کے باوجود ان کی نیت اللہ کی رضا کے بجائے شہرت اور تعریف حاصل کرنا تھی۔ اس حدیث کا تعلق کسی ایک عہد سے نہیں بلکہ انسانی نفس کی ایک مستقل کمزوری سے ہے۔ مذہبی جدوجہد، قربانی، علم یا مالی تعاون کو سیاسی اثرورسوخ، شہرت یا قیادت کے حصول کا ذریعہ بنا دیا جائے تو ظاہری عظمت باطنی اخلاص کی ضمانت نہیں رہتی۔

اسی لیے تشدد کو جائز قرار دینے کا اختیار کسی پُرجوش مقرر، مقبول کمانڈر یا سوشل میڈیا مبلغ کو نہیں دیا جا سکتا۔ قرآن اللہ کے نام پر اپنی طرف سے حلال و حرام بنانے سے روکتا ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے ایسے دور سے خبردار کیا جب لوگ ناواقف افراد کو رہنما بنا لیں گے اور وہ علم کے بغیر مذہبی فیصلے دے کر خود بھی گمراہ ہوں گے اور دوسروں کو بھی گمراہ کریں گے۔ مذہبی حکم کے لیے علمی اہلیت، اصولِ فقہ، سیاق، معتبر دلائل اور اخلاقی ذمہ داری درکار ہوتی ہے۔ بھرتی کے پمفلٹ، جذباتی ویڈیو اور چند منتخب آیات اس علمی عمل کا متبادل نہیں بن سکتیں۔

کسی مسلمان مخالف کو کافر قرار دینا بھی سیاسی اختلاف کا ہتھیار نہیں بن سکتا۔ سورۃ النساء میں ایسے شخص کے ایمان سے انکار سے روکا گیا جو سلام اور امن کا اظہار کرے، خصوصاً جب اس انکار کے پیچھے دنیاوی فائدہ موجود ہو۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی کسی مسلمان کو بلاجواز کافر کہنے کے معاملے میں سخت تنبیہ فرمائی۔ اس لیے تکفیر کو سیاسی وفاداری ناپنے، مخالفین کے خلاف نفرت پیدا کرنے یا خونریزی کی راہ ہموار کرنے کا ذریعہ بنانا اسلامی احتیاط اور نبوی تعلیم دونوں سے متصادم ہے۔

اسی طرح اسلام کسی انسانی رہنما کو لامحدود اطاعت کا حق نہیں دیتا۔ نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ایک امیر نے اپنے ساتھیوں کو آگ میں داخل ہونے کا حکم دیا تو رسول اللہ ﷺ نے واضح فرمایا کہ اللہ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت نہیں، اطاعت صرف معروف اور درست کام میں ہے۔ اس اصول کے بعد کوئی جماعتی سربراہ یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ تنظیمی وفاداری جھوٹ، ظلم، قتل یا بے گناہوں پر تشدد کو جائز بنا دیتی ہے۔ مذہبی قیادت اطاعت کا مطالبہ کر سکتی ہے، مگر اللہ کی حدود کو منسوخ نہیں کر سکتی۔

انتہاپسند بیانیے اکثر حقیقی شکایات سے آغاز کرتے ہیں۔ کسی علاقے میں ناانصافی، محرومی، بدعنوانی یا سیاسی تنازع واقعی موجود ہو سکتا ہے، مگر حقیقی شکایت سے اخذ کیا گیا ہر نتیجہ درست نہیں ہوتا۔ قرآن حکم دیتا ہے کہ کسی قوم سے دشمنی بھی انسان کو انصاف سے نہ ہٹائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں مذہبی اخلاق اور سیاسی غصے میں فرق نمایاں ہوتا ہے۔ اسلام مظلوم کی حمایت کرتا ہے، لیکن جھوٹے الزامات، اجتماعی انتقام اور بے گناہوں کے قتل کو انصاف قرار نہیں دیتا۔

آج کے ڈیجیٹل ماحول میں اس اصول کی اہمیت اور بڑھ گئی ہے۔ سورۃ الحجرات میں خبر کی تصدیق کا حکم اس لیے دیا گیا کہ لاعلمی میں کسی قوم یا فرد کو نقصان نہ پہنچ جائے۔ رسول اللہ ﷺ نے سچائی کو نیکی اور جھوٹ کو برائی کی طرف لے جانے والا راستہ قرار دیا۔ اس لیے مذہبی عنوان کے ساتھ آنے والی ہر ویڈیو، آڈیو، پوسٹ یا دعوے کو آگے بڑھانا دینی خدمت نہیں۔ بعض اوقات ایک غیر مصدقہ پیغام کو شیئر کرنا کسی بڑے فریب، نفرت یا تشدد کے بیانیے کو طاقت دے سکتا ہے۔

پاکستان میں بھی یہی اصول ریاستی سطح پر انسدادِ انتہاپسندی کے فکری ڈھانچے کا حصہ بن چکا ہے۔ پیغامِ پاکستان میں مختلف مکاتبِ فکر کے علما نے دہشت گردی، خودکش حملوں، مسلح فرقہ واریت اور طاقت کے ذریعے مذہبی نظریہ مسلط کرنے کی مخالفت کی۔ بعد ازاں نیشنل پریوینشن آف وائلنٹ ایکسٹریمزم پالیسی 2024 نے تعلیم، سماجی ہم آہنگی، کمیونٹی شمولیت اور مؤثر ابلاغ کو انتہاپسندی کی روک تھام کے اہم ذرائع قرار دیا۔ مقصد مذہبی سرگرمی کو محدود کرنا نہیں بلکہ مذہب کے نام پر تشدد اور فریب کو مذہبی دیانت سے الگ کرنا ہے۔

اسلامی قیادت بالآخر ایک امانت ہے، لوگوں کے ضمیر کی ملکیت نہیں۔ قرآن امانتیں ان کے حق داروں تک پہنچانے اور لوگوں کے درمیان انصاف سے فیصلہ کرنے کا حکم دیتا ہے۔ جو مذہبی قیادت خیر چاہتی ہے وہ سوال سے نہیں ڈرتی، دلیل سے بات کرتی ہے، اصلاح کو قانونی اور پُرامن راستے سے آگے بڑھاتی ہے اور انسانی جان و عزت کا تحفظ کرتی ہے۔ مذہب کو سیاسی اقتدار، ذاتی شہرت یا تشدد کا پردہ بنانا دین کی خدمت نہیں۔ دین کی اصل خدمت یہ ہے کہ حق کو حق ہی رہنے دیا جائے، اسے باطل کی ضرورت کے مطابق نہ ڈھالا جائے۔

Author

  • Professor Dr. Waqas Khan

    Professor Dr. Waqas Khan is a scholar of climate change, security, diplomacy, and international affairs. He earned his PhD from Beijing University, China. His research focuses on the links between environmental challenges and global security, emphasizing international cooperation, strategic policy, and the role of diplomacy in addressing emerging global issues.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔