بلوچستان کے حوالے سے برسوں سے ایک منظم بیانیہ چلایا جاتا رہا ہے۔ "گمشدہ افراد” کی آڑ میں ریاست پاکستان کو کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش کی جاتی رہی، بین الاقوامی فورمز پر اشکبار چہرے پیش کیے جاتے رہے اور سوشل میڈیا پر ہمدردی کی لہریں اٹھتی رہی ہیں۔ لیکن کوئٹہ کی عدالتوں سے آنے والے فیصلوں نے اس بیانیے کی بنیادیں ہلا دی ہیں اور اس پروپیگنڈے کا اصل چہرہ بے نقاب ہو گیا ہے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی رکنہ گلزادی بلوچ کو قتل کے جرم میں عمر قید کی سزا سنائی گئی۔ یہ محض ایک قانونی فیصلہ نہیں بلکہ اس جھوٹ کا بھی فیصلہ ہے جو سالوں سے پھیلایا جاتا رہا۔
مقدمے کی سماعت میں ایک انکشاف ہوا جو اس پورے بیانیے کی قلعی کھول دیتا ہے: گلزادی کا بھائی عبدالودود ستکزے، جسے یہ تنظیم برسوں تک "جبری گمشدہ” کہہ کر ریاست پر الزام لگاتی رہی، وہ درحقیقت بی ایل اے کا دہشت گرد نکلا جو سیکیورٹی فورسز کے خلاف لڑتے ہوئے ہلاک ہوا۔
یہ ایک جملے میں اس پورے بیانیے کو ختم کر دینے کے لیے کافی ہے۔
بی وائی سی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کیس بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ کوئٹہ کی انسداد دہشت گردی عدالت نے ماہ رنگ بلوچ اور صبغت اللہ شاہ کو گوادر میں 2024 کے احتجاج کے دوران فرنٹیئر کور کے اہلکار شبیر بلوچ کے قتل میں دہشت گردی، غداری اور قتل کے جرائم میں عمر قید کی سزا سنائی۔ عدالت نے واضح کیا کہ ملزمان ناجائز اجتماع میں فعال طور پر شامل تھے اور انہوں نے سیکیورٹی اہلکار کے قتل میں "مشترکہ مقصد” رکھا۔
اس ضمن میں بی ایل اے کی حقیقت بھی سمجھنا ضروری ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے اگست 2025 میں بی ایل اے اور اس کی معاون تنظیم مجید بریگیڈ کو خارجی دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ یہ وہی تنظیم ہے جس نے کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس ٹرین پر حملہ کر کے 31 شہریوں اور سیکیورٹی اہلکاروں کو شہید کیا اور 300 سے زائد مسافروں کو یرغمال بنایا۔
بی ایل اے نے بلوچستان بھر میں 51 سے زائد مقامات پر 71 مربوط حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ یہ خوارج صرف سیکیورٹی فورسز پر نہیں بلکہ مسافر ٹرینوں، بسوں اور کوئلہ کانوں پر کام کرنے والے عام محنت کشوں پر بھی وار کرتے ہیں۔ یہ کوئی آزادی کی تحریک نہیں بلکہ خالص دہشت گردی ہے۔
امریکی قومی انسداد دہشت گردی مرکز کے مطابق بی ایل اے جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی اور صلاحیت کے اعتبار سے خطرناک ترین دہشت گرد تنظیموں میں شامل ہے جس کے دو ہزار سے پانچ ہزار تک جنگجو ہیں۔ یہ وہ تنظیم ہے جس کے لیے "انسانی حقوق” کے پردے میں آواز اٹھائی جاتی ہے۔
سوال یہ اٹھتا ہے کہ جب ایک شخص بی ایل اے کا خونی کارندہ ہو اور لڑتے ہوئے ہلاک ہو، تو اسے "جبری گمشدہ” کہنا کہاں کا انصاف ہے؟ یہ نہ صرف حقیقت سے فرار ہے بلکہ ریاست اور سیکیورٹی فورسز کو بدنام کرنے کی منظم مہم کا حصہ ہے۔ ایسی تنظیمیں جو دہشت گردوں کے لواحقین کو "متاثرین” بنا کر پیش کریں اور سیکیورٹی فورسز کو قاتل ثابت کرنے کی کوشش کریں، ان کا حقیقی مقصد انسانی حقوق نہیں بلکہ ریاست کو کمزور کرنا ہے۔
بلوچستان ایک حساس صوبہ ہے جہاں حقیقی مسائل بھی موجود ہیں، ترقی کی ضرورت بھی ہے اور عوامی شکایات کو دور کرنا بھی ریاست کی ذمہ داری ہے۔ لیکن ان حقیقی مسائل کو بی ایل اے جیسے خوارجی دہشت گردوں کی سیاسی ڈھال نہیں بنایا جا سکتا۔ جو لوگ ایک طرف "انسانی حقوق” کا نعرہ لگائیں اور دوسری طرف ان دہشت گردوں کو "گمشدہ” ثابت کرنے پر تلے رہیں جو خود قتل و غارت کی راہ پر نکلے، ان کی اصل نیت سب کے سامنے ہے۔
کوئٹہ کی عدالتوں کے فیصلے اس بات کا واضح اعلان ہیں کہ پاکستانی ریاست اور اس کا عدالتی نظام اندھا نہیں ہے۔ جرم جرم ہوتا ہے، خواہ اسے کسی بھی لبادے میں چھپایا جائے۔ انسانی حقوق کا نعرہ لگانے والے اگر خود قتل میں ملوث ہوں یا دہشت گردوں کی پشت پناہی کریں تو قانون انہیں معافی نہیں دے گا۔
جو بیانیہ برسوں سے پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے استعمال ہوتا رہا، اس کی اینٹ اینٹ الگ ہو رہی ہے۔ مظلومیت کا ناٹک اس وقت ختم ہو جاتا ہے جب عدالتی ریکارڈ پر حقیقت درج ہو جائے۔
اور اب یہ حقیقت ریکارڈ پر ہے کہ "گمشدہ” بھائی خوارج کا دہشت گرد تھا اور "انسانی حقوق کی علمبردار” بہن قتل میں ملوث تھی۔
بلوچستان کا امن پاکستان کے امن کا لازمی حصہ ہے۔ وہاں کے عوام ترقی، روزگار، تعلیم اور محفوظ زندگی کے مستحق ہیں۔ لیکن یہ تمام مقاصد اسی وقت حاصل ہو سکتے ہیں جب خوارجی دہشت گردی کو انسانی حقوق کے لبادے سے الگ کر دیا جائے۔ پاکستانی عدالتیں یہ کام کر رہی ہیں اور یہی اس وقت سب سے بڑی خوشخبری ہے۔
Author
-
View all posts
Dr. Shahzaib Khan is a scholar of Political Science whose academic interests span political institutions, governance, public policy, comparative politics, and contemporary political developments. His work examines how states, institutions, and societies respond to evolving domestic and international challenges, with particular attention to political change, decision making, and democratic governance.