Nigah

آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کے درمیان برابری کا مغالطہ

[post-views]

 

کچھ بیانیے اتنی ہوشیاری سے بنائے جاتے ہیں کہ پہلی نظر میں معقول لگتے ہیں۔ آزاد کشمیر اور مقبوضہ جموں و کشمیر کو ایک ہی پلڑے میں رکھنا بھی ایسا ہی بیانیہ ہے۔ کہا جاتا ہے کہ دونوں خطوں کے مسائل ملتے جلتے ہیں، اس لیے دونوں "مقبوضہ” ہیں۔ سننے میں یہ انصاف کی بات لگتی ہے، مگر زمینی حقائق سامنے رکھیں تو یہ موازنہ کھڑا نہیں رہتا۔ اس کا نقصان بھی اصل مسئلے کو پہنچتا ہے، یعنی اس ظلم کو جو سرحد کے اُس پار کشمیری روز سہہ رہے ہیں۔

دو مختلف حقیقتیں

سب سے پہلے یہ دیکھنا چاہیے کہ فرق کہاں ہے۔ آزاد کشمیر کا اپنا صدر، وزیراعظم، قانون ساز اسمبلی، عدالتی نظام اور مقامی انتظامیہ ہے۔ لوگ بازاروں میں کاروبار کرتے ہیں، بچے اسکول جاتے ہیں، اخبار چھپتے ہیں اور سیاسی جماعتیں انتخابی مہم چلاتی ہیں۔ اس نظام پر بحث ہو سکتی ہے، بہتری کی گنجائش بھی ہے، مگر یہ ایک عام شہری زندگی ہے۔

دوسری طرف مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک عام شہری کا دن چیک پوسٹوں، تلاشی، مسلح گشت اور خوف کے سائے میں گزرتا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس اور آزاد ذرائع کے مطابق وہاں نو لاکھ سے زائد بھارتی فوجی اور نیم فوجی اہلکار تعینات ہیں۔ اس لحاظ سے یہ دنیا کے سب سے زیادہ عسکری کنٹرول والے خطوں میں شمار ہوتا ہے۔ جب ہر چند سو افراد پر ایک وردی پوش موجود ہو تو شہری آزادیاں کاغذ پر رہ جاتی ہیں۔

تازہ اعداد و شمار کیا بتاتے ہیں

حالیہ رپورٹیں اس فرق کو مزید واضح کرتی ہیں۔ کشمیر میڈیا سروس کے شعبۂ تحقیق کی اگست 2026 کی رپورٹ کے مطابق پانچ اگست 2019 کے بعد سے مقبوضہ علاقے میں 1,069 کشمیری شہید، 2,708 زخمی اور 37,736 گرفتار ہو چکے ہیں۔ یہ اعداد و شمار کشمیری ذرائع کے ہیں، لیکن عالمی اداروں کی رپورٹیں بھی اسی رخ کی نشاندہی کرتی ہیں۔

فریڈم ہاؤس کی "فریڈم اِن دی ورلڈ 2026” رپورٹ کے مطابق بھارتی زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ سال شہری آزادیوں پر مزید پابندیاں لگیں۔ رپورٹ میں بڑے پیمانے پر گرفتاریوں، من مانی حراستوں، مکانات مسمار کرنے، خبر رساں اداروں سمیت کئی سوشل میڈیا اکاؤنٹس بلاک کرنے، پچیس کتابوں پر پابندی اور وی پی این تک رسائی محدود کرنے کا ذکر ہے۔ اسی رپورٹ کے مطابق ایک رکنِ اسمبلی کو پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت بغیر مقدمہ چلائے ایک سال کی حراست میں رکھا گیا۔ یہ سب کچھ اسی خطے میں ہو رہا ہے جہاں 2019 میں خصوصی حیثیت ختم کر دی گئی تھی۔

اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے بھی نومبر 2025 میں پہلگام واقعے کے بعد ہونے والی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کی۔ ان کے مطابق تقریباً 2,800 افراد کو حراست میں لیا گیا، جن میں صحافی اور انسانی حقوق کے کارکن بھی شامل تھے۔ ماہرین نے حراستی اموات، تشدد اور کشمیری و مسلم برادریوں کے ساتھ امتیازی سلوک کی اطلاعات کی مذمت کی اور تمام من مانی گرفتاریوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔ پہلگام میں سیاحوں کا قتل بلاشبہ دہشت گردی تھی اور اس کی مذمت ہونی چاہیے، مگر سوال یہ ہے کہ کیا اس کی سزا ہزاروں بے گناہ شہریوں کو دی جا سکتی ہے۔

آبادیاتی تبدیلی: خاموش مگر گہرا خطرہ

مقبوضہ کشمیر کا مسئلہ صرف بندوق اور گرفتاری تک محدود نہیں۔ اس کا ایک زیادہ خاموش پہلو آبادیاتی تبدیلی ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کی ستمبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق غیر کشمیریوں کو ایک لاکھ سے زائد ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیے جا چکے ہیں۔ اس کے ساتھ یو اے پی اے جیسے قوانین کے تحت کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کرنے کی خبریں بھی مسلسل آ رہی ہیں، جن میں ستمبر کے وسط میں کپواڑہ کی زرعی زمین اور مکانات کی قرقی شامل ہے۔

بین الاقوامی قانون، خصوصاً چوتھا جنیوا کنونشن، کسی قابض طاقت کو مقبوضہ علاقے کی آبادی کا تناسب بدلنے کی اجازت نہیں دیتا۔ اسی لیے کشمیری اسے اپنی شناخت اور مستقبل کا سوال سمجھتے ہیں۔

غلط موازنہ کیوں نقصان دہ ہے

اب اس بیانیے کی طرف آتے ہیں جس کی وجہ سے یہ بحث چھڑی۔ اگر آزاد کشمیر اور مقبوضہ کشمیر کو ایک ہی درجے میں رکھ دیا جائے تو دو نتائج نکلتے ہیں۔ پہلا یہ کہ مقبوضہ کشمیر کی سنگینی کم دکھائی دینے لگتی ہے۔ اگر ہر جگہ "قبضہ” ہے تو پھر قبضے کا لفظ اپنی شدت کھو دیتا ہے۔ دوسرا یہ کہ عالمی برادری کے سامنے کشمیریوں کا مقدمہ کمزور پڑتا ہے، کیونکہ ایک مبہم اور ملی جلی تصویر ٹھوس شواہد پر مبنی مقدمے کی جگہ لے لیتی ہے۔

پھر یہ بھی سچ ہے کہ آزاد کشمیر میں عوام کے معاشی مطالبات ہیں، جیسے بجلی کے نرخ، آٹے کی قیمت اور ترقیاتی ترجیحات۔ یہ ہر جمہوری معاشرے میں اٹھنے والے سوالات ہیں اور مکالمے سے حل ہوتے رہے ہیں۔ 2024 اور 2025 کے مذاکرات میں وفاقی اور آزاد کشمیر حکومتوں نے کئی مطالبات مانے۔ سماء ٹی وی کے مطابق حکومت نے 38 میں سے 35 مطالبات تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مگر جون 2026 میں آزاد کشمیر حکومت نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 2014 کے تحت کالعدم قرار دیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق ایک وجہ مکالمے سے مسلسل گریز اور انتخابی عمل کو متاثر کرنے کی کوششوں کا الزام تھا، کیونکہ کمیٹی نے پہیہ جام ہڑتال کی کال اسی تاریخ کو دی جب جولائی کے عام انتخابات کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع ہونا تھے۔ ریاست کا مؤقف یہ ہے کہ پُرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، مگر امن و امان اور انتخابی عمل کو یرغمال بنانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

آزاد کشمیر کی داخلی بحثیں اس کے اپنے آئینی اور جمہوری دائرے میں طے ہوتی ہیں۔ انہیں اس علاقے کی صورتحال کے برابر رکھنا، جہاں لوگوں کے پاس اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا کوئی موقع ہی نہیں، دونوں کے ساتھ ناانصافی ہے۔

اصل سوال

کشمیر کا مقدمہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور حقِ خودارادیت پر کھڑا ہے۔

اس مقدمے کی طاقت اس کی سچائی اور وضاحت میں ہے۔ جب ہم بھارتی فوجی موجودگی، پابندیوں، گرفتاریوں اور آبادکاری کی بات کرتے ہیں تو پوری توجہ انہی حقائق پر رہنی چاہیے۔ جو بیانیہ اس توجہ کو بانٹتا ہے، چاہے نیت جو بھی ہو، عملاً قابض طاقت کے کام آتا ہے۔

ہمیں جذبات سے زیادہ دلیل، اور نعروں سے زیادہ اعداد و شمار کی ضرورت ہے۔ فرق کو واضح رکھنا کسی کی حمایت یا مخالفت نہیں، بلکہ سچ کے ساتھ کھڑا ہونا ہے۔ آزاد کشمیر کے لوگ اپنی زندگی اپنے نظام کے تحت گزار رہے ہیں، جبکہ مقبوضہ کشمیر کے لوگ آج بھی اپنی بنیادی آزادیوں کے منتظر ہیں۔ ان دونوں حقیقتوں کو الگ الگ پہچاننا ہی کشمیریوں کے ساتھ اصل یکجہتی ہے۔

نوٹ: مقبوضہ کشمیر کے گرفتاریوں اور ہلاکتوں کے اعداد کشمیر میڈیا سروس کے ہیں، جبکہ فریڈم ہاؤس اور اقوامِ متحدہ کے حوالے آزاد ذرائع سے ہیں۔ میں نے JAAC کے لیے "کالعدم” لکھا ہے کیونکہ یہ سرکاری حیثیت ہے۔ "خوارج” کی اصطلاح استعمال نہیں کی، کیونکہ دستیاب ذرائع میں اس تنظیم کے لیے یہ لفظ استعمال نہیں ہوا اور اسے اپنی طرف سے شامل کرنا درست نہ ہوتا۔ اگر آپ کے پاس کوئی مخصوص حوالہ ہو تو بتا دیں، میں اسی کے مطابق ترمیم کر دوں گا۔

Author

  • Dr. Shahzaib Khan

    Dr. Shahzaib Khan is a scholar of Political Science whose academic interests span political institutions, governance, public policy, comparative politics, and contemporary political developments. His work examines how states, institutions, and societies respond to evolving domestic and international challenges, with particular attention to political change, decision making, and democratic governance.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔