آزاد کشمیر کے مستقبل پر گفتگو اکثر سیاسی نعروں، احتجاجی سرگرمیوں اور فوری نوعیت کے مطالبات کے گرد گھومتی ہے۔ یہ مباحث اپنی جگہ اہم ہیں، کیونکہ کسی بھی معاشرے میں شہریوں کو بہتر حکمرانی، شفافیت اور بنیادی سہولیات کا مطالبہ کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ لیکن آزاد کشمیر کی مکمل تصویر صرف احتجاجی سیاست سے نہیں بنتی۔ اس خطے کو سمجھنے کے لیے بجٹ، تعلیم، صحت، شاہرات، بجلی، ڈیجیٹل رابطہ کاری، روزگار، نوجوانوں کے مواقع اور پاکستان کی وفاقی حکومت کے ساتھ مالی و ترقیاتی تعلق کو ایک ساتھ دیکھنا ضروری ہے۔
مالی سال 2025–26 کا بجٹ اس تناظر میں ایک اہم مثال ہے۔ آزاد کشمیر حکومت نے 310.20 ارب روپے کا مجموعی بجٹ پیش کیا، جو اس وقت خطے کی تاریخ کا سب سے بڑا بجٹ قرار دیا گیا۔ اس میں 49 ارب روپے ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص کیے گئے۔ سرکاری بجٹ دستاویزات کے مطابق مواصلات و تعمیرات کے لیے 15 ارب، صحت کے لیے 6 ارب، تعلیم کے لیے 5 ارب، مقامی حکومت و دیہی ترقی کے لیے 5 ارب جبکہ توانائی و آبی وسائل کے لیے 4.8 ارب روپے رکھے گئے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی، تحقیق، سیاحت، نوجوانوں، زراعت اور دیگر سماجی و پیداواری شعبے بھی ترقیاتی پروگرام کا حصہ تھے۔
یہ اعداد ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ آزاد کشمیر میں ترقی کا تصور اب صرف سڑک یا سرکاری عمارت تعمیر کرنے تک محدود نہیں رہ سکتا۔ جدید معیشت میں انسانی سرمایہ، ہنرمند نوجوان، ڈیجیٹل رسائی، صحت، توانائی اور کاروباری مواقع اتنے ہی اہم ہیں۔ 2025–26 کے ترقیاتی پروگرام میں جاری منصوبوں کے لیے 52 فیصد اور نئے منصوبوں کے لیے 48 فیصد وسائل مختص کیے گئے، جبکہ سیکڑوں منصوبوں کی تکمیل کا ہدف بھی رکھا گیا تھا۔
مالی سال 2026–27 میں مجموعی بجٹ 286 ارب روپے رکھا گیا، جس میں 250 ارب روپے غیر ترقیاتی اور 36 ارب روپے ترقیاتی اخراجات کے لیے مختص ہوئے۔ بظاہر ترقیاتی حجم گزشتہ سال سے کم ہے، اس لیے اصل سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ کتنی رقم مختص ہوئی بلکہ یہ بھی کہ دستیاب رقم کہاں، کس رفتار سے اور کس معیار کے ساتھ خرچ ہوتی ہے۔ ترقیاتی بجٹ کی حقیقی کامیابی اس وقت ثابت ہوتی ہے جب کوئی سڑک سفر کا وقت کم کرے، کوئی ہسپتال مریض کو دوسرے شہر جانے سے بچائے اور کوئی تعلیمی منصوبہ نوجوان کو روزگار کے قابل بنائے۔
وفاقی سطح پر بھی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو خصوصی علاقوں کے طور پر ترقیاتی وسائل فراہم کیے جا رہے ہیں۔ وفاقی ترقیاتی بجٹ 2026–27 میں دونوں علاقوں کے لیے تقریباً 89 ارب روپے مختص کیے گئے۔ یہ سرمایہ کاری اس امر کو نمایاں کرتی ہے کہ پاکستان اور آزاد کشمیر کے تعلق کو محض سیاسی وابستگی کی زبان میں بیان کرنا کافی نہیں۔ اس تعلق کا ایک عملی پہلو مالی معاونت، انفراسٹرکچر، صحت، توانائی اور مواصلات کے منصوبوں میں بھی دکھائی دیتا ہے۔
صحت کے شعبے میں حالیہ پیش رفت اس شراکت کی نمایاں مثال ہے۔ 16 جنوری 2026 کو وزیراعظم ہیلتھ کارڈ پروگرام کو آزاد کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد تک توسیع دی گئی، جس کا مقصد شہریوں کو علاج تک مالی رسائی فراہم کرنا ہے۔ اس سے چند ہفتے قبل، 28 دسمبر 2025 کو مظفرآباد میں کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف نیوکلیئر میڈیسن، آنکولوجی اینڈ ریڈیوتھراپی اور میرواعظ مولوی محمد فاروق شہید میڈیکل کالج کا افتتاح ہوا۔ کینسر کے علاج کی جدید سہولت کا مظفرآباد میں قیام خاص طور پر اس لیے اہم ہے کہ ماضی میں بہت سے مریضوں کو علاج کے لیے اسلام آباد یا دوسرے شہروں کا سفر کرنا پڑتا تھا۔
توانائی اور طبی انفراسٹرکچر میں بھی منصوبے سامنے آئے ہیں۔ جون 2026 میں مرکزی ترقیاتی ورکنگ پارٹی نے آزاد کشمیر کے ضلعی اور تدریسی ہسپتالوں میں سی ٹی اسکین اور ایم آر آئی مشینوں کی فراہمی کے تقریباً 5.48 ارب روپے کے منصوبے کی منظوری دی، جبکہ آزاد کشمیر کے بجلی کے ترسیلی نظام کو مضبوط بنانے کے تقریباً 10 ارب روپے کے منصوبے کو مزید منظوری کے لیے آگے بڑھایا گیا۔
اسی طرح ڈیجیٹل رابطہ کاری محض موبائل فون کی سہولت کا معاملہ نہیں رہی۔ اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن کے منصوبوں کے تحت آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں نئے موبائل مقامات، فور جی اپ گریڈیشن اور ڈیٹا استعداد میں اضافے پر کام کیا گیا ہے۔ ایس سی او کے مطابق 96 نئی جگہوں پر موبائل سائٹس کی تنصیب، 91 مقامات پر ٹو جی سے فور جی اپ گریڈیشن اور درجنوں مقامات پر فور جی استعداد بڑھانے کے اقدامات شامل ہیں۔ منصوبہ بندی کمیشن نے بھی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے 30 شہروں کے لیے 2.15 ارب روپے کے ایک ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی منصوبے کا ذکر کیا ہے۔
اس تمام پیش رفت کا مطلب یہ نہیں کہ آزاد کشمیر میں مسائل ختم ہو چکے ہیں۔ روزگار، مہنگائی، مقامی حکمرانی، عوامی خدمات کی فراہمی، منصوبوں پر بروقت عمل درآمد اور ترقیاتی وسائل کی شفافیت جیسے سوالات اپنی جگہ موجود ہیں اور ان پر تنقیدی بحث ضروری ہے۔ اسی طرح احتجاج جمہوری معاشروں میں مطالبات سامنے لانے کا ایک تسلیم شدہ ذریعہ ہے۔ لیکن احتجاج کے طریقۂ کار کا جائزہ بھی عوامی مفاد کی کسوٹی پر ہونا چاہیے۔ جب شاہراہوں کی طویل بندش مریضوں، طلبہ، مزدوروں، تاجروں یا ضروری اشیا کی ترسیل کو متاثر کرے تو اس کے سماجی اور معاشی نتائج پر سوال اٹھانا بھی جائز ہے۔ پرامن احتجاج اور شہری آزادی کے ساتھ عام لوگوں کی نقل و حرکت اور بنیادی ضروریات کا تحفظ ایک دوسرے کے متبادل نہیں ہونے چاہئیں۔
آزاد کشمیر کو اس وقت ایسے ترقیاتی مکالمے کی ضرورت ہے جس میں حکومت سے جواب دہی بھی مانگی جائے اور موجود منصوبوں کو محض سیاسی اختلاف کی وجہ سے نظر انداز بھی نہ کیا جائے۔ بجٹ کے اعداد اپنی جگہ اہم ہیں مگر اصل پیمانہ ان کا نتیجہ ہے۔ کتنے نوجوانوں کو روزگار ملا، کتنے مریضوں کو بہتر علاج ملا، کتنے دیہات سڑک اور انٹرنیٹ سے منسلک ہوئے اور کتنے کاروبار نئی معاشی سرگرمی کا حصہ بنے، مستقبل میں ترقی کا فیصلہ انہی سوالات سے ہونا چاہیے۔
پاکستان اور آزاد کشمیر کے تعلق کی پائیدار بنیاد بھی یہی عملی شراکت ہو سکتی ہے۔ مالی وسائل، جدید ہسپتال، تعلیمی ادارے، بجلی، سڑکیں، ڈیجیٹل نیٹ ورک اور نوجوانوں کے لیے مواقع جب عام شہری کی زندگی میں حقیقی تبدیلی پیدا کریں گے تو ترقی محض سرکاری دستاویز کا لفظ نہیں رہے گی۔ آزاد کشمیر کا مستقبل نعروں اور شکایات کے درمیان انتخاب کا نام نہیں، بلکہ حقوق، جواب دہی، مواقع اور قابلِ پیمائش ترقی کو ایک ساتھ آگے بڑھانے کا تقاضا کرتا ہے۔
Author
-
View all posts
Muhammad Sudais is pursuing a PhD in International Relations, with a research focus on United States interests and strategic engagement in Asia. His academic work examines American foreign policy, regional power competition, security dynamics, and the evolving geopolitical importance of Asia within the broader international system.