Nigah

تین ممالک، ایک وژن، امن اور ترقی کی نئی بنیاد

[post-views]

مکہ مکرمہ میں پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے درمیان طے پانے والا نیا دفاعی معاہدہ بظاہر سلامتی اور مشترکہ دفاع کا بندوبست ہے، لیکن اس کی حقیقی اہمیت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہوسکتی ہے۔ سات اگست دو ہزار چھبیس کو طے پانے والے اس معاہدے کے تحت تینوں ممالک میں سے کسی ایک پر مسلح حملہ تینوں کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا۔ اس کا مقصد مشترکہ دفاعی صلاحیت، بازدار قوت اور علاقائی استحکام کو مضبوط بنانا ہے۔

یہ ایک اہم پیش رفت ہے، مگر کسی بھی دفاعی اتحاد کی کامیابی صرف اس بات سے نہیں ناپی جاسکتی کہ اس کے پاس کتنی عسکری طاقت ہے۔ اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ کیا یہ طاقت جنگ کو روکنے، معاشی غیر یقینی کم کرنے اور عام شہری کے لیے بہتر مستقبل پیدا کرنے میں کامیاب ہوتی ہے۔

گزشتہ کئی برسوں نے یہ ثابت کیا ہے کہ خطے میں ہونے والی جنگ صرف میدان جنگ تک محدود نہیں رہتی۔ اس کے اثرات بندرگاہوں، بازاروں، کارخانوں، ہوائی اڈوں اور گھروں تک پہنچتے ہیں۔ تیل مہنگا ہوتا ہے، نقل و حمل کے اخراجات بڑھتے ہیں، سرمایہ کار محتاط ہوجاتے ہیں، تجارت متاثر ہوتی ہے اور حکومتوں کو ترقی کے لیے مختص وسائل سلامتی کی فوری ضروریات پر خرچ کرنا پڑتے ہیں۔

اسی لیے علاقائی امن کسی سفارتی نعرے کا نام نہیں۔ یہ براہ راست معاشی ضرورت ہے۔

پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کے پاس اس وقت ایک ایسا موقع موجود ہے جسے صرف دفاعی زاویے سے دیکھنا دانشمندانہ نہیں ہوگا۔ تینوں ریاستیں مختلف صلاحیتیں رکھتی ہیں اور یہی فرق ان کی شراکت داری کی اصل طاقت بن سکتا ہے۔

سعودی عرب سرمایہ، توانائی اور بڑے ترقیاتی منصوبوں کی مالی معاونت کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ترکی صنعت، انجینئرنگ، تعمیرات اور جدید ٹیکنالوجی میں نمایاں تجربہ رکھتا ہے۔ پاکستان کے پاس ایک بڑی نوجوان آبادی، زرعی زمین، معدنی وسائل، صنعتی امکانات اور انتہائی اہم جغرافیائی محل وقوع موجود ہے۔

اگر ان صلاحیتوں کو ایک دوسرے سے جوڑا جائے تو ایک نئی علاقائی معاشی حقیقت جنم لے سکتی ہے۔

پاکستان میں ایسے مشترکہ صنعتی منصوبے قائم کیے جاسکتے ہیں جن میں سعودی سرمایہ، ترک ٹیکنالوجی اور پاکستانی افرادی قوت شامل ہو۔ پاکستان کے معدنی شعبے میں جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری لائی جاسکتی ہے۔ توانائی کے منصوبوں میں مشترکہ سرمایہ کاری ہوسکتی ہے۔ زراعت، خوراک کی تیاری اور محفوظ ذخیرہ اندوزی کے لیے نئی سہولتیں پیدا کی جاسکتی ہیں۔

یہ کام صرف بڑے شہروں تک محدود نہیں رہنے چاہئیں۔

اصل ترقی اس وقت ہوگی جب بلوچستان میں معدنی وسائل کے قریب روزگار پیدا ہو، جنوبی پنجاب اور سندھ کے زرعی علاقوں میں جدید فوڈ پروسیسنگ مراکز قائم ہوں، خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کو فنی تربیت اور روزگار ملے اور پاکستان کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار ترکی اور سعودی عرب کی منڈیوں تک پہنچ سکیں۔

اس معاہدے کو عوامی اہمیت اسی وقت ملے گی جب اس کے فوائد شہری کو نظر آئیں۔

نوجوانوں کے لیے خصوصی منصوبے اس شراکت داری کا بنیادی حصہ ہونے چاہئیں۔ تینوں ممالک مصنوعی ذہانت، انجینئرنگ، طب، توانائی، زراعت اور کاروبار کے شعبوں میں مشترکہ تعلیمی پروگرام شروع کرسکتے ہیں۔ جامعات کے درمیان طلبہ اور اساتذہ کے تبادلوں کو بڑھایا جاسکتا ہے۔ تحقیق کے لیے مشترکہ مالی معاونت دی جاسکتی ہے۔

پاکستان کا نوجوان ترکی کی کسی جامعہ میں نئی ٹیکنالوجی سیکھے، ترک محقق پاکستان میں زرعی تحقیق کرے اور سعودی سرمایہ کار دونوں ممالک کے نوجوانوں کے کاروباری منصوبوں کی مالی معاونت کرے تو یہی وہ تعاون ہوگا جو دہائیوں تک قائم رہ سکتا ہے۔

معاہدے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ اسے کسی مخصوص ملک کے خلاف اتحاد کے طور پر پیش نہیں کیا گیا۔ ترکی کی جانب سے واضح کیا گیا ہے کہ یہ بندوبست ایران یا کسی دوسرے ملک کو ہدف بنانے کے لیے نہیں ہے۔ یہ سوچ برقرار رہنا ضروری ہے۔

خطہ پہلے ہی بہت زیادہ تقسیم، جنگ اور سیاسی کشیدگی دیکھ چکا ہے۔ اسے مزید تقسیم کرنے والی کسی نئی صف بندی سے فائدہ نہیں ہوگا۔

ایک مضبوط اتحاد وہ نہیں جو ہر طرف دشمن تلاش کرے۔ مضبوط اتحاد وہ ہوتا ہے جو اپنے ارکان کو اتنا اعتماد دے کہ وہ جنگ سے بچ سکیں، مذاکرات کرسکیں اور بحران کو پھیلنے سے پہلے روک سکیں۔

پاکستان اس حوالے سے ایک اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔ پاکستان کے سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں، لیکن اس کے ساتھ وہ ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ بھی رابطے رکھتا ہے۔ ایسی صورت میں پاکستان مختلف علاقائی طاقتوں کے درمیان ایک رابطہ کار کی حیثیت اختیار کرسکتا ہے۔

مستقبل کی ضرورت بھی یہی ہے۔

پاکستان، ترکی اور سعودی عرب کو اپنے دفاعی تعاون کے ساتھ ایک مضبوط سفارتی نظام بھی بنانا چاہیے جس کے ذریعے کسی بحران کی صورت میں فوری رابطہ، ثالثی اور کشیدگی میں کمی کی کوشش کی جاسکے۔

تینوں ممالک پہلے ہی مصر کے ساتھ ایک وسیع علاقائی مشاورتی عمل کا حصہ رہے ہیں۔ جون دو ہزار چھبیس میں پاکستان، ترکی، سعودی عرب اور مصر کے وزرائے خارجہ نے قاہرہ میں علاقائی اور عالمی امور پر مشاورت کی تھی۔ یہ عمل اس بات کی مثال ہے کہ دفاعی تعاون کو وسیع علاقائی مکالمے کے ساتھ چلایا جاسکتا ہے۔

مستقبل میں اس تعاون کا دائرہ دہشت گردی کے انسداد، بحری سلامتی، قدرتی آفات سے نمٹنے، خوراک کے تحفظ، توانائی اور انسانی امداد تک بڑھایا جاسکتا ہے۔

تینوں ممالک کی افواج مشترکہ دفاعی مشقیں کرسکتی ہیں، مگر اسی کے ساتھ ان کے طبی ادارے مشترکہ ہنگامی منصوبے بھی بنا سکتے ہیں۔ ان کے سرمایہ کار مشترکہ صنعتیں قائم کرسکتے ہیں۔ ان کی جامعات تحقیق کرسکتی ہیں۔ ان کے نوجوان ایک دوسرے کے ملک میں تعلیم اور تربیت حاصل کرسکتے ہیں۔

تب اس شراکت داری کی تصویر مکمل ہوگی۔

ایک اور پہلو تجارت کا ہے۔ اگر تینوں ملک کاروباری افراد کے لیے آسان ویزا نظام، بہتر فضائی رابطے، زیادہ مؤثر بینکاری سہولتیں اور سرمایہ کاری کے واضح قوانین پیدا کریں تو نجی شعبہ سرکاری تعاون سے کہیں زیادہ تیزی سے تعلقات کو آگے بڑھا سکتا ہے۔

حکومتیں راستہ کھولتی ہیں، مگر معاشی تعلقات کو مستقل کاروبار بناتے ہیں۔

یہ بات بھی ذہن میں رکھنی چاہیے کہ دفاعی تحفظ بذات خود خوشحالی کی ضمانت نہیں۔ اگر ملک اندرونی معاشی اصلاحات نہ کریں، تعلیم بہتر نہ بنائیں، سرمایہ کاری کے لیے شفاف ماحول نہ دیں اور اداروں کی کارکردگی نہ بڑھائیں تو بہترین بین الاقوامی معاہدہ بھی محدود نتائج دے گا۔

اسی لیے پاکستان کے لیے اس معاہدے کا بہترین استعمال یہ ہوگا کہ بیرونی اعتماد کو اندرونی اصلاحات کے ساتھ جوڑا جائے۔

اگر نئی سرمایہ کاری آتی ہے تو اسے پیداواری شعبوں تک پہنچنا چاہیے۔ اگر صنعتی تعاون بڑھتا ہے تو مقامی مہارت بھی پیدا ہونی چاہیے۔ اگر معدنیات میں سرمایہ کاری ہوتی ہے تو مقامی آبادی کو روزگار اور بنیادی سہولتوں میں حقیقی حصہ ملنا چاہیے۔

آخرکار کسی بھی معاہدے کا سب سے بڑا امتحان یہی ہوتا ہے کہ اس نے انسان کی زندگی پر کیا اثر ڈالا۔

دس برس بعد کامیابی کا معیار صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان، ترکی اور سعودی عرب نے کتنی دفاعی مشقیں کیں۔

کامیابی یہ ہوگی کہ خطے میں جنگ کے امکانات کم ہوئے، تجارت بڑھی، سرمایہ کاری میں اضافہ ہوا، نئی صنعتیں قائم ہوئیں، نوجوانوں کو روزگار ملا، تعلیم اور تحقیق میں تعاون بڑھا اور عام شہری نے اپنے معیار زندگی میں بہتری محسوس کی۔

مکہ مکرمہ کا معاہدہ تین ممالک کو ایک دوسرے کے دفاع سے جوڑتا ہے۔ اب ضرورت اس بات کی ہے کہ وہ اپنے عوام کے مستقبل کو بھی ایک دوسرے کی ترقی سے جوڑیں۔

اگر ایسا ہوگیا تو یہ صرف دفاعی تعاون کا معاہدہ نہیں رہے گا۔ یہ ایک ایسے علاقائی تصور کی بنیاد بن سکتا ہے جس میں طاقت کا مقصد جنگ لڑنا نہیں بلکہ جنگ روکنا ہو، اور امن کا مقصد صرف خاموش سرحدیں نہیں بلکہ خوشحال معاشرے ہوں۔

Author

  • مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔