Nigah

اقتدار، رحمت اور معافی

[post-views]

فتحِ مکہ اسلامی تاریخ کا محض ایک عسکری واقعہ نہیں بلکہ طاقت، اختیار، اخلاق اور انسانی عظمت کا ایسا سبق ہے جس کی معنویت ہر دور میں قائم رہتی ہے۔ آٹھ برس قبل یہی مکہ تھا جہاں نبی کریم حضرت محمد ﷺ اور آپ کے اصحابؓ کو مسلسل اذیتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ مسلمانوں کا معاشرتی بائیکاٹ کیا گیا، انہیں ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا، ان کے لیے اپنے ہی شہر میں زندگی دشوار بنا دی گئی اور بالآخر انہیں ہجرت پر مجبور ہونا پڑا۔ اس کے بعد بھی دشمنی ختم نہ ہوئی بلکہ مدینہ کے خلاف جنگیں مسلط کی گئیں۔ ان تمام تلخ تجربات کے باوجود جب سنہ 8 ہجری میں نبی کریم ﷺ ایک عظیم قوت کے ساتھ مکہ میں داخل ہوئے تو تاریخ نے کسی انتقام پسند فاتح کو نہیں بلکہ رحمت، ضبط اور عفو و درگزر کا پیکر دیکھا۔

سیرت کی روایات بتاتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ تقریباً دس ہزار صحابہ کرامؓ کے لشکر کی قیادت کرتے ہوئے مکہ میں داخل ہوئے۔ یہ وہ موقع تھا جب ایک فاتح اپنی طاقت کا مظاہرہ کر سکتا تھا، مگر آپ ﷺ نے اس فتح کو اپنی ذات کی عظمت کا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل کا نتیجہ سمجھا۔ آپ ﷺ کا سر تواضع اور شکر کے ساتھ جھکا ہوا تھا۔ مکہ کے باشندوں کے لیے یہ منظر غیر معمولی تھا۔ وہ لوگ جو برسوں تک آپ ﷺ کی مخالفت کرتے رہے تھے، آج آپ کے سامنے بے بس تھے، لیکن آپ ﷺ کے رویے میں نہ تکبر تھا، نہ تحقیر اور نہ ہی ماضی کے زخموں کا بدلہ لینے کی خواہش۔

فتحِ مکہ کا سب سے بڑا اخلاقی سبق اس وقت سامنے آیا جب قریش کے لوگ اپنے انجام کے بارے میں فکرمند تھے۔ ان میں وہ افراد بھی موجود تھے جنہوں نے مسلمانوں کو ستایا، ان کا مال چھینا، انہیں گھروں سے نکالا اور ان کے خلاف جنگیں لڑیں۔ مگر نبی کریم ﷺ نے حضرت یوسف علیہ السلام کی اس عظیم قرآنی روایت کے مفہوم کو عملی صورت دی جس میں کہا گیا کہ آج تم پر کوئی ملامت نہیں۔ سورۂ یوسف کی آیت 92 معافی کی اسی روح کو نمایاں کرتی ہے۔ فاتحِ مکہ نے شکست خوردہ دشمنوں کو اجتماعی سزا دینے کے بجائے انہیں امان اور نئی زندگی کا موقع دیا۔ یہی وہ نقطہ ہے جہاں نبوی ﷺ طرزِ عمل انتقام پر مبنی ہر انتہا پسندانہ نظریے سے بنیادی طور پر جدا ہو جاتا ہے۔

مکہ میں داخل ہونے سے پہلے بھی نبی کریم ﷺ کی حکمت عملی خونریزی سے بچنے کی تھی۔ عام امان کا اعلان کیا گیا کہ جو شخص اپنے گھر میں رہے، مسجدِ حرام میں پناہ لے یا ابو سفیان کے گھر میں داخل ہو جائے، وہ محفوظ ہے۔ اس اعلان کا مقصد واضح تھا کہ عسکری غلبے کو شہری آبادی کے خلاف انتقام کا ذریعہ نہ بننے دیا جائے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ وہ شہر جو برسوں مسلم دشمنی کا مرکز رہا، بڑی خونریزی اور وسیع تباہی کے بغیر اسلامی اقتدار میں آ گیا۔ فتحِ مکہ اس تصور کو مسترد کرتی ہے کہ فتح کا مطلب لازماً لاشیں، تباہ شدہ آبادیاں اور شکست خوردہ لوگوں کی تذلیل ہے۔

اس عفو کی سب سے متاثر کن مثالوں میں ہند بنت عتبہ کا معاملہ بھی شامل ہے۔ غزوۂ اُحد کے واقعات اور حضرت حمزہؓ کی شہادت سے وابستہ درد نبی کریم ﷺ کے لیے انتہائی ذاتی تھا۔ حضرت حمزہؓ نہ صرف آپ کے چچا بلکہ اسلام کے بہادر ترین محافظوں میں سے تھے۔ اس گہرے صدمے کے باوجود فتحِ مکہ کے بعد ہند کو اسلام قبول کرنے اور نئی زندگی شروع کرنے کا موقع ملا۔ یہاں سیرت ہمیں ایک غیر معمولی معیار دیتی ہے۔ اگر رسول اللہ ﷺ اپنے ذاتی دکھ اور شدید ترین صدمے کے باوجود معافی اور اصلاح کا دروازہ کھلا رکھ سکتے ہیں تو کوئی گروہ اپنے سیاسی، نسلی، علاقائی یا ذاتی شکووں کو بے گناہ شہریوں کے قتل کا جواز کیسے بنا سکتا ہے؟

اسی طرح عکرمہ بن ابی جہل کا واقعہ بھی قابلِ غور ہے۔ ماضی کی شدید مخالفت کے باعث وہ انتقام کے خوف سے مکہ چھوڑ گئے، لیکن جب ان کی اہلیہ انہیں واپس لائیں تو نبی کریم ﷺ نے انہیں ذلت یا موروثی دشمنی کے تصور کے تحت مسترد نہیں کیا۔ سیرت کی روایات میں ان کے استقبال کا ذکر محبت اور کشادہ دلی کے ساتھ ملتا ہے۔ یہ واقعہ اسلامی عدل کے ایک اہم اصول کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ کسی شخص کو اس کے باپ، خاندان، قبیلے یا برادری کے جرم کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اجتماعی انتقام اور نسل در نسل دشمنی اسلامی اخلاقیات کے بجائے جاہلی رویوں کی علامت ہیں۔

فتحِ مکہ کے دوران خانۂ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا گیا اور نبی کریم ﷺ نے قرآن مجید کے الفاظ تلاوت فرمائے کہ حق آ گیا اور باطل مٹ گیا، بے شک باطل مٹنے ہی والا ہے۔ یہاں بھی اصلاح کا طریقہ قابلِ توجہ ہے۔ باطل نظریے اور اس کی علامتوں کو ختم کیا گیا، مگر سابقہ مشرک آبادی کے قتلِ عام کو مذہبی ضرورت نہیں بنایا گیا۔ یہ فرق آج کے دور میں بہت اہم ہے۔ اسلام نظریے کی اصلاح، ظلم کے خاتمے اور معاشرے کی اخلاقی تطہیر کی بات کرتا ہے، لیکن بے گناہ انسانوں کو اجتماعی طور پر سزا دینے کی اجازت نہیں دیتا۔

یہی وجہ ہے کہ ایسے انتہا پسند گروہ جو پاکستانی شہروں، بازاروں، مساجد، تعلیمی اداروں، سرکاری اہلکاروں یا عام شہریوں کو نشانہ بنا کر اپنے افعال کے لیے مذہبی زبان استعمال کرتے ہیں، انہیں فتحِ مکہ کے آئینے میں اپنے دعووں کو دیکھنا چاہیے۔ قیدیوں کا قتل، بے گناہوں کو خوف زدہ کرنا، پوری آبادی کو دشمن سمجھنا اور اختلاف کو خونریزی سے ختم کرنا نبوی ﷺ طرزِ عمل نہیں۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس مکہ میں مکمل طاقت تھی، لیکن اس طاقت کو خوف پھیلانے کے بجائے امن قائم کرنے کے لیے استعمال کیا گیا۔ یہی اسلامی اختیار اور دہشت گردانہ طاقت کے درمیان بنیادی فرق ہے۔

قرآن مجید سورۂ الشوریٰ میں واضح اصول بیان کرتا ہے کہ برائی کا بدلہ اسی کے برابر ہو سکتا ہے، لیکن جو معاف کر دے اور اصلاح کرے اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ فتحِ مکہ اس قرآنی تعلیم کی زندہ تفسیر دکھائی دیتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے معافی کو کمزوری نہیں بنایا بلکہ اسے معاشرتی تعمیر، دلوں کو جوڑنے اور مستقل امن کی بنیاد بنایا۔ آج پاکستان کو بھی اسی اخلاقی بصیرت کی ضرورت ہے۔ شکایات کا حل قانون، انصاف، مکالمے اور اصلاح میں ہے، بے گناہ خون بہانے میں نہیں۔

فتحِ مکہ کا دائمی پیغام یہی ہے کہ حقیقی طاقت وہ نہیں جو دشمن کو تباہ کر دے بلکہ وہ ہے جو اقتدار کے باوجود اپنے غصے کو قابو میں رکھے۔ نبی کریم ﷺ کو جب مکمل فتح نصیب ہوئی تو آپ ﷺ نے انتقام کے بجائے رحمت، تحقیر کے بجائے عزت اور اجتماعی سزا کے بجائے امان کو اختیار فرمایا۔ اس واضح نبوی ﷺ نمونے کے بعد دہشت، قتلِ عام اور انتقام کو اسلام کا نام دینا نہ صرف تاریخ کی تحریف ہے بلکہ اس دینِ رحمت کی روح کے بھی منافی ہے جس کے رسول ﷺ نے اپنی عظیم ترین فتح کے دن دنیا کو معافی کا سبق دیا۔

Author

  • ڈاکٹر حسین جان

    حسین جان کے علمی مفادات بین الاقوامی سلامتی، جغرافیائی سیاسی حرکیات، اور تنازعات کے حل میں ہیں، خاص طور پر یورپ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے۔ انہوں نے عالمی تزویراتی امور سے متعلق مختلف تحقیقی فورمز اور علمی مباحثوں میں حصہ ڈالا ہے، اور ان کا کام اکثر پالیسی، دفاعی حکمت عملی اور علاقائی استحکام کو تلاش کرتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔