Nigah

ہر مسئلے کا نام پاکستان نہیں رکھا جا سکتا

[post-views]

بھارت میں جب بھی کوئی بڑا سکیورٹی آپریشن ہوتا ہے، کوئی مشتبہ شخص گرفتار کیا جاتا ہے، کوئی اسلحہ برآمد ہونے کا دعویٰ سامنے آتا ہے یا کسی مبینہ خفیہ نیٹ ورک کی خبر بنتی ہے، تو ایک نام حیرت انگیز تسلسل کے ساتھ سرخیوں میں پہنچ جاتا ہے، پاکستان۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے بھارت کی سیاسی اور سکیورٹی لغت میں بہت سے پیچیدہ داخلی سوالات کا سب سے آسان جواب سرحد کے دوسری طرف تلاش کر لیا گیا ہو۔

اگست 2026 کی کارروائی اس طرز فکر کی ایک تازہ مثال ہے۔ بھارتی وزارت داخلہ کے مطابق چودہ ریاستوں میں شاہزاد بھٹی سے منسوب ایک مبینہ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کی گئی، 253 افراد کو حراست میں لیا گیا، 80 سے زیادہ ایف آئی آرز درج ہوئیں اور مجموعی طور پر 200 سے زیادہ گرفتاریاں رپورٹ کی گئیں۔ بھارتی حکام نے آئی ای ڈیز، اسلحہ، کارتوس، نگرانی کے آلات اور پاکستان آرڈیننس فیکٹری کے نشانات والے گرینیڈ برآمد کرنے کا بھی دعویٰ کیا۔

یہ الزامات معمولی نہیں ہیں۔ اگر واقعی کسی شخص نے دہشت گردی، جاسوسی یا بے گناہ شہریوں کے خلاف تشدد کی منصوبہ بندی کی ہے تو اس کے خلاف قانون کو پوری قوت سے حرکت میں آنا چاہیے۔ لیکن اسی مقام پر ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ کیا گرفتاری خود جرم کا ثبوت ہے؟

جواب نفی میں ہے۔

کسی بھی مہذب عدالتی نظام میں پولیس کا شبہ، انٹیلی جنس رپورٹ، ایف آئی آر اور عدالتی طور پر ثابت شدہ جرم ایک ہی چیز نہیں ہوتے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تحقیقات مکمل ہونے سے پہلے ہی ٹیلی ویژن سکرین پر کسی شخص کو ’’پاکستانی ماڈیول‘‘ کا حصہ قرار دے دیا جائے۔ عدالت میں ثبوت آنے سے پہلے میڈیا عدالت اپنا فیصلہ سنا دے، تو بعد میں ملزم بے گناہ بھی نکل آئے تو اس پر لگا ہوا داغ شاید کبھی نہ مٹے۔

یہاں ایک اور پہلو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ ایسے بہت سے مقدمات میں جن لوگوں کو گرفتار یا حراست میں لیا جاتا ہے وہ پاکستانی نہیں بلکہ بھارتی شہری ہوتے ہیں۔ اگر بھارتی حکومت کا موقف درست مان بھی لیا جائے کہ بیرون ملک بیٹھے عناصر ان افراد سے رابطے میں تھے، تب بھی سوال صرف پاکستان تک محدود نہیں رہتا۔ سوال یہ بھی بنتا ہے کہ بھارتی معاشرے کے اندر ایسا خلا کیوں موجود ہے جسے کوئی مجرمانہ یا شدت پسند نیٹ ورک استعمال کر سکتا ہے؟

اگر نوجوانوں میں محرومی ہے تو یہ ایک داخلی سوال ہے۔ اگر منظم جرائم کے گروہ ریاستوں میں جڑیں بنا رہے ہیں تو یہ پولیس اور گورننس کا سوال ہے۔ اگر فرقہ وارانہ کشیدگی افراد کو شدت پسندی کی طرف دھکیلتی ہے تو یہ سماجی پالیسی کا سوال ہے۔ اور اگر کسی شخص کو واقعی بیرونی قوت استعمال کر رہی ہے تو یہ داخلی انسداد دہشت گردی نظام کی کامیابی یا ناکامی کا سوال بھی بنتا ہے۔

ہر سوال کو صرف ’’پاکستان‘‘ کہہ کر ختم کرنا دراصل اصل سوالات سے فرار کا راستہ بن سکتا ہے۔

کسی زمانے میں بھارتی حکومت کے لیے بیرونی مداخلت کا الزام شاید صرف پاکستان کے ساتھ تعلقات تک محدود رہتا تھا۔ اب صورت حال بدل چکی ہے۔ خود بھارت کو امریکہ اور کینیڈا میں ایسے سنگین الزامات کا سامنا کرنا پڑا ہے جنہیں محض پاکستانی موقف قرار دے کر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔

امریکی محکمہ انصاف نے اکتوبر 2024 میں وکاش یادو نامی ایک بھارتی سرکاری ملازم پر نیویارک میں ایک امریکی شہری کے قتل کی مبینہ سازش سے متعلق الزامات عائد کیے۔ بعد میں اسی مقدمے میں نکھل گپتا نے فروری 2026 میں قتل کے لیے اجرت دینے کی سازش اور متعلقہ جرائم کے الزامات قبول کرتے ہوئے قصور کا اقرار کیا۔ امریکی استغاثہ کا موقف تھا کہ وہ ایک بھارتی سرکاری ملازم کی ہدایت پر کام کر رہا تھا۔

یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ کسی فرد کے خلاف الزام پورے بھارتی معاشرے کو مجرم نہیں بناتا اور نہ ہی کسی الزام کو عدالتی فیصلے سے پہلے حتمی حقیقت کہنا درست ہوگا۔ لیکن یہی اصول پھر پاکستان کے معاملے میں بھی لاگو ہونا چاہیے۔ اگر بھارت اپنے لیے قانونی احتیاط اور ثبوت کا مطالبہ کرتا ہے تو پاکستانی تعلق کے الزام کے ساتھ گرفتار کیے گئے بھارتی شہریوں کو بھی وہی اصول ملنا چاہیے۔

کینیڈا کا معاملہ شاید اس سے بھی زیادہ اہم ہے۔ اکتوبر 2024 میں رائل کینیڈین ماؤنٹڈ پولیس نے غیر معمولی طور پر عوامی بیان جاری کیا اور کہا کہ اس کی تحقیقات میں بھارتی حکومت کے ایجنٹوں اور قتل، تشدد، منظم جرائم، خفیہ معلومات جمع کرنے اور جنوبی ایشیائی کمیونٹی کو نشانہ بنانے جیسی سرگرمیوں کے درمیان روابط کے شواہد سامنے آئے ہیں۔

بھارت نے ان الزامات کے مختلف پہلوؤں کو مسترد کیا اور سفارتی سطح پر شدید اختلاف بھی سامنے آیا۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ اب سرحد پار مداخلت کا سوال یک طرفہ نہیں رہا۔ نئی دہلی دنیا سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب بھارت الزام عائد کرے تو اسے قومی سلامتی کی ناقابل تردید حقیقت سمجھا جائے، لیکن جب کسی دوسرے ملک کا قانون نافذ کرنے والا ادارہ بھارت سے متعلق سوال اٹھائے تو اسے سیاسی دشمنی قرار دے دیا جائے۔

ستمبر 2025 میں کینیڈا نے بشنوئی گینگ کو اپنے قانون کے تحت دہشت گرد اداروں کی فہرست میں شامل کیا۔ یہ پیش رفت بھی بتاتی ہے کہ جنوبی ایشیا سے منسلک منظم جرائم اور مبینہ سرحد پار سرگرمیوں کی بحث اب صرف اسلام آباد اور نئی دہلی کے درمیان الزامات کا تبادلہ نہیں رہی۔

پاکستان کے پاس بھی اپنے سوالات ہیں۔ کلبھوشن سدھیر جادھو کا معاملہ ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے دونوں ملکوں کے بیانیوں کا حصہ ہے۔ پاکستان نے اسے جاسوسی اور دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث قرار دیا جبکہ بھارت مقدمہ عالمی عدالت انصاف تک لے گیا۔ 2019 میں عالمی عدالت نے ویانا کنونشن کے تحت قونصلر رسائی کے معاملے پر پاکستان کی ذمہ داریوں سے متعلق فیصلہ دیا اور سزا پر مؤثر نظرثانی کا تقاضا کیا۔

یہ مقدمہ ایک سبق بھی دیتا ہے۔ ریاستیں الزامات لگاتی ہیں لیکن بین الاقوامی اور قومی عدالتیں جذبات نہیں دیکھتیں، انہیں قانونی سوالات، دستاویزات اور ثبوت درکار ہوتے ہیں۔

بھارت کو شاید یہی اصول اپنی داخلی سیاست میں زیادہ مضبوطی سے اپنانے کی ضرورت ہے۔

ایک بڑا ملک اپنی طاقت اس بات سے ثابت نہیں کرتا کہ اس نے کتنے لوگ گرفتار کیے۔ اس کی طاقت اس بات سے ظاہر ہوتی ہے کہ کتنے مقدمات عدالت میں ثابت ہوئے، کتنے ثبوت غیر جانبدارانہ جانچ میں درست نکلے اور کتنے بے گناہ لوگ غلط الزام سے محفوظ رہے۔ اگر ایک کارروائی میں سینکڑوں افراد حراست میں لیے جاتے ہیں تو اتنا ہی بڑا بوجھ ریاست پر آتا ہے کہ وہ ہر شخص کے خلاف الگ، واضح اور قابل قبول ثبوت پیش کرے۔

خصوصاً بھارتی مسلمانوں یا دوسری اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے شہریوں کے معاملات میں یہ حساسیت اور بھی ضروری ہے۔ کسی دہشت گرد کا مذہب دیکھ کر اسے رعایت نہیں ملنی چاہیے، لیکن کسی پورے مذہبی یا سماجی گروہ کو چند مشتبہ افراد کے اعمال سے بھی نہیں ناپا جا سکتا۔ ریاستی سلامتی اور اجتماعی بدگمانی میں بہت باریک مگر نہایت اہم فرق موجود ہے۔

پاکستان کے لیے بھی اس بحث میں جذباتی فتح تلاش کرنا مناسب نہیں۔ امریکہ یا کینیڈا میں بھارتی عناصر کے خلاف سامنے آنے والے معاملات یہ ثابت نہیں کرتے کہ بھارت کا ہر ادارہ کسی خفیہ مہم کا حصہ ہے۔ پاکستان کا مضبوط مقدمہ الزام کا جواب الزام سے دینا نہیں بلکہ ایک ہی معیار کا مطالبہ کرنا ہے۔

اگر پاکستان سے کوئی شخص بھارت میں دہشت گردی کروا رہا ہے تو اس کے ثبوت دنیا کے سامنے رکھے جائیں۔ اگر رقم منتقل ہوئی ہے تو مالی ریکارڈ دکھایا جائے۔ اگر ڈیجیٹل رابطہ ہوا ہے تو اس کی فارنزک تصدیق ہو۔ اگر ہتھیار سرحد پار سے آئے ہیں تو ان کی مکمل چین آف کسٹڈی واضح کی جائے۔ پھر مقدمہ عدالت میں لے جایا جائے اور فیصلہ قانون کو کرنے دیا جائے۔

لیکن اگر ثبوت کی جگہ ٹی وی مباحثہ، سیاسی تقریر اور ’’پاکستانی ہاتھ‘‘ کا پرانا جملہ لے لے تو مسئلہ صرف پاکستان اور بھارت کا نہیں رہتا۔ تب سوال بھارتی جمہوریت کی اپنی ساکھ کا بن جاتا ہے۔

بھارت کے اندر بے روزگاری، سیاسی تقسیم، اقلیتی بے چینی، علاقائی تنازعات، فرقہ وارانہ کشیدگی اور حکومت مخالف آوازیں موجود ہیں۔ ہر بڑے اور متنوع معاشرے کی طرح بھارت کو بھی اپنے داخلی تضادات کا سامنا ہے۔ ان میں سے ہر مسئلے کو کسی بیرونی سازش کا نتیجہ قرار دینا شاید سیاسی طور پر آسان ہو، مگر ریاستی حکمت عملی کے طور پر یہ دیرپا حل نہیں۔

پاکستان بھارت کا ہمسایہ ہے، حریف بھی ہے، دونوں کے تعلقات میں جنگیں اور تلخیاں بھی رہی ہیں۔ اس لیے حقیقی سکیورٹی خطرات کو نظر انداز کرنا دانش مندی نہیں ہوگی۔ لیکن اتنی ہی بڑی غلطی یہ ہے کہ ’’پاکستان‘‘ کو ایک ایسی مہر بنا دیا جائے جو ہر مشکل سوال کے اوپر لگا کر بحث ختم کر دے۔

آخرکار سوال یہ نہیں ہونا چاہیے کہ نئی دہلی نے کتنے ’’پاکستانی ماڈیول‘‘ ختم کرنے کا اعلان کیا۔ سوال یہ ہونا چاہیے کہ آزاد عدالتوں کے سامنے کتنے مقدمات میں پاکستان سے حقیقی تعلق ناقابل تردید شواہد کے ساتھ ثابت ہوا۔

ریاست کی ساکھ پریس کانفرنس سے نہیں، ثبوت سے بنتی ہے۔ اور جب کسی ملک کو اپنے ہر داخلی زخم کے لیے ہمسایہ ذمہ دار دکھائی دینے لگے تو شاید وقت آ جاتا ہے کہ نقشے کے دوسری طرف دیکھنے سے پہلے ایک نظر آئینے میں بھی ڈال لی جائے۔

Author

  • صحافت میں ایک ممتاز کیریئر کے ساتھ ، میں نے یو ایس اے ٹوڈے اور وائس آف امریکہ کے نامہ نگار کے طور پر خدمات انجام دیں ، اے ایف پی اور اے پی کے لیے رپورٹنگ کی ، اور ڈیلی خبرائن اور اردو نیوز جیسے بڑے آؤٹ لیٹس کے لیے بیورو چیف اور رہائشی ایڈیٹر سمیت سینئر کردار ادا کیے ۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔