Nigah

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی کیوں ناگزیر ہوئی؟

[post-views]

خیبر پختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے نفاذ کو محض ایک سیاسی فیصلے کے طور پر دیکھنا شاید اس بحران کی سنگینی کو سمجھنے کے لیے کافی نہیں۔ وفاقی کابینہ نے 11 اکتوبر 2026 کو صوبے کی سیکیورٹی اور انتظامی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت غیر معمولی اقدامات کی منظوری دی۔ صدر آصف علی زرداری نے بھی بعد ازاں اس فیصلے کی منظوری دی۔ وفاقی حکومت کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ صوبے میں دہشت گردی کی شدت، قانون نافذ کرنے والے اداروں پر مسلسل حملوں اور انسداد دہشت گردی کی پالیسی میں بڑھتے خلا نے معمول کے انتظامی طریقہ کار کو ناکافی بنا دیا تھا۔

اس فیصلے کا سب سے اہم پس منظر دہشت گردی کے واقعات میں غیر معمولی اضافہ ہے۔ وزیراعظم کو پیش کی گئی خیبر پختونخوا پولیس اور حساس اداروں کی دو سیکیورٹی رپورٹس کے مطابق یکم مارچ 2024 سے 23 ستمبر 2026 کے درمیان صوبے میں دہشت گردی کے واقعات میں 195 فیصد اضافہ ہوا۔ یہ محض اعداد کا اتار چڑھاؤ نہیں بلکہ ایک ایسی مسلسل سیکیورٹی خرابی کی نشاندہی ہے جس میں خطرہ تقریباً تین گنا بڑھ چکا ہے۔

دوسری بڑی تشویش یہ ہے کہ دہشت گردی کا سب سے بھاری بوجھ انہی اداروں نے اٹھایا جو شہریوں کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں۔ رپورٹس کے مطابق 2026 میں خیبر پختونخوا میں ہونے والے 73 فیصد دہشت گرد حملوں میں پولیس یا دیگر سیکیورٹی اداروں کو نشانہ بنایا گیا۔ جب پولیس تھانے، گشت کرنے والی ٹیمیں، چیک پوسٹیں اور انسداد دہشت گردی کے اہلکار مستقل ہدف بن جائیں تو مسئلہ صرف امن و امان تک محدود نہیں رہتا بلکہ ریاست کی عملی رٹ کا سوال بن جاتا ہے۔

تیسرا خطرناک پہلو دہشت گردوں کے طریقہ واردات میں تبدیلی ہے۔ 2024 میں پولیس اور سیکیورٹی اداروں پر دہشت گرد ڈرون حملوں کی کوئی مثال رپورٹ نہیں ہوئی تھی، مگر 2026 میں ایسے حملوں کی تعداد 170 تک پہنچنے کی اطلاع دی گئی۔ اسی طرح 2025 میں 181 آئی ای ڈی حملے ریکارڈ ہوئے جبکہ ستمبر 2026 تک مزید 159 واقعات سامنے آ چکے تھے۔ یہ اعداد ظاہر کرتے ہیں کہ دہشت گرد گروہ روایتی فائرنگ یا خودکش حملوں تک محدود نہیں رہے بلکہ ٹیکنالوجی، ریموٹ حملوں اور دھماکہ خیز آلات کا زیادہ منظم استعمال کر رہے ہیں۔

چوتھا مسئلہ صوبائی پولیس اور انسداد دہشت گردی کے نظام کی استعداد کا ہے۔ سیکیورٹی جائزوں میں پولیس میں نو ہزار سے زائد خالی آسامیوں، جدید ہتھیاروں کی کمی، نگرانی کے آلات، نائٹ وژن، تھرمل امیجنگ اور محفوظ گاڑیوں کی محدود دستیابی کی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان حالات میں دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر جنوبی اضلاع میں پولیس سے یہ توقع رکھنا کہ وہ جدید اور تیزی سے بدلتے ہوئے خطرات کا مقابلہ محدود وسائل کے ساتھ کرتی رہے، عملی طور پر مشکل ہے۔

پانچواں سوال نگرانی کے بنیادی ڈھانچے کا ہے۔ پورے صوبے کے لیے جدید سیف سٹی نظام ابھی تک بنیادی طور پر پشاور تک محدود ہے۔ بنوں، لکی مروت، ڈی آئی خان، کوہاٹ اور دوسرے حساس علاقوں میں ایسے مربوط نگرانی، کمانڈ اور ڈیٹا نظام کی ضرورت کہیں زیادہ شدید ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ اب صرف ناکوں اور گشت سے نہیں جیتی جا سکتی۔ جدید کیمروں، ڈیجیٹل نگرانی، انٹیلی جنس فیوژن اور فوری ردعمل کے نظام کو صوبائی سطح پر پھیلانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

چھٹا پہلو افغانستان سے جڑی سرحدی سیکیورٹی اور دہشت گرد نیٹ ورکس کا ہے۔ وفاقی حکومت کو پیش کردہ رپورٹس میں افغانستان میں موجود دہشت گرد عناصر، مقامی سہولت کاروں اور غیر قانونی سرگرمیوں کے درمیان روابط کو خطرے کا اہم سبب قرار دیا گیا ہے۔ اسی تناظر میں صوبائی حکومت کی پالیسی پر بھی سوال اٹھائے گئے ہیں اور وفاقی حلقوں کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی جیسے معاملے میں مرکز اور صوبے کے درمیان پالیسی کا بنیادی تضاد خود ایک کمزوری پیدا کرتا ہے۔

ساتواں مسئلہ سیاسی اور سیکیورٹی ترجیحات کے درمیان پیدا ہونے والا فاصلہ ہے۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے حالیہ حکومتی مذاکرات کے دوران کہا تھا کہ وفاقی حکومت نے خیبر پختونخوا سے نیشنل ایکشن پلان اور انسداد دہشت گردی اقدامات پر مکمل تعاون کا مطالبہ کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ سیاسی اختلاف اپنی جگہ لیکن دہشت گردی کے خلاف ریاستی پالیسی پر اختلاف کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔

آٹھواں اور نواں سبب باہم جڑے ہوئے ہیں۔ ایک طرف دہشت گرد نیٹ ورکس، مقامی سہولت کاری اور غیر قانونی معیشت کے روابط موجود ہیں، دوسری طرف اداروں کے درمیان کمانڈ، معلومات اور کارروائی کا خلا ہے۔ ایسے ماحول میں الگ الگ انتظامی اقدامات محدود نتائج دیتے ہیں۔ وفاقی حکومت اسی دلیل کی بنیاد پر زیادہ مربوط کمانڈ، بہتر انٹیلی جنس اشتراک اور مشترکہ انسداد دہشت گردی حکمت عملی کو ضروری سمجھتی ہے۔

دسواں اور سب سے حساس نکتہ آئینی جواز کا ہے۔ آرٹیکل 232 سنگین داخلی بدامنی سمیت غیر معمولی حالات میں ایمرجنسی کے آئینی فریم ورک سے متعلق ہے، جبکہ آرٹیکل 234 اس صورتحال سے متعلق ہے جب کسی صوبے کا انتظام آئین کے مطابق چلانا ممکن نہ رہے۔ اس لیے حکومت کا مؤقف یہ ہے کہ اقدام آئینی ڈھانچے سے باہر نہیں بلکہ اسی کے اندر اٹھایا گیا ہے۔ قومی اسمبلی کی سرکاری ویب سائٹ بھی آئین پاکستان کا تازہ متن فراہم کرتی ہے۔

تاہم ایمرجنسی کو کامیابی نہیں بلکہ ایک غیر معمولی عبوری بندوبست سمجھنا چاہیے۔ اگر اس عرصے میں پولیس کی استعداد نہ بڑھی، سیف سٹی نظام حساس اضلاع تک نہ پہنچا، سرحدی دہشت گرد نیٹ ورکس نہ توڑے گئے اور سیاسی عمل کی جلد بحالی کا واضح راستہ نہ بنایا گیا تو صرف انتظامی کنٹرول کی تبدیلی دیرپا امن فراہم نہیں کرے گی۔ اصل امتحان یہ ہوگا کہ غیر معمولی اختیارات کو محدود مدت، واضح اہداف اور قابل پیمائش سیکیورٹی اصلاحات کے لیے استعمال کیا جائے۔

خیبر پختونخوا کے عوام نے گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کی بہت بڑی قیمت ادا کی ہے۔ انہیں نہ سیاسی انتقام چاہیے اور نہ دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑا جا سکتا ہے۔ اگر ایمرجنسی کا مقصد واقعی ریاستی رٹ بحال کرنا، پولیس کو مضبوط بنانا اور شہریوں کا تحفظ ہے تو اس کی کامیابی کا معیار سیاسی فائدہ نہیں بلکہ یہ ہوگا کہ عام شہری دوبارہ خوف کے بغیر زندگی گزار سکیں۔

Author

  • Dr. Abbas Ahmed

    Abbas Ahmed is a scholar of International Relations and Strategic Studies with expertise in global politics, security affairs, regional dynamics, and contemporary strategic challenges. His academic interests include foreign policy, geopolitical competition, conflict and cooperation, and emerging security trends, with a focus on understanding their implications for regional and international stability.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔