انڈین فوج نے دعویٰ کیا کہ بڈگام ضلع میں ایک کارروائی کے دوران پاکستان میں مقیم لشکرِ طیبہ کے ایک کارکن محمد آصف عرف ہاشم موسیٰ کی لاش برآمد کی گئی۔ انڈین میڈیا نے اس خبر کو بریکنگ نیوز کی طرح چلایا، سروس نمبر، تصویر اور پاکستانی فوج سے وابستگی تک سب کچھ بتا دیا۔ مگر اگلے ہی روز پاکستانی فوج کے ترجمان نے وہ کچھ کیا جو شاید کسی کارروائی سے زیادہ مؤثر تھا، انھوں نے محمد آصف کو میڈیا کے سامنے پیش کر دیا، جنھوں نے بتایا کہ وہ ضلع اٹک کے علاقے پنڈی گھیب سے تعلق رکھتے ہیں اور سوشل میڈیا سے پتہ چلا کہ انڈیا نے انھیں کشمیر میں "شہید” کر دیا ہے۔
یہ واقعہ کوئی عام میڈیا غلطی نہیں تھا۔ یہ ایک مکمل، منظم، اور سوچے سمجھے جھوٹ کی کہانی تھی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے پریس کانفرنس میں کہا کہ انڈین فوج، حکومت اور میڈیا کے بیانات میں آپس میں تضاد پایا گیا، اور یہ کہ انڈیا کے مطابق آصف ایک "سپرمین” تھا جس نے کشمیر میں تمام بڑی کارروائیاں انجام دی تھیں۔ پہلوام، کشمیر کے مختلف علاقے، اور اب بڈگام، سب آصف کے کھاتے میں ڈال دیے گئے۔ بھارتی نیوز ایجنسی نے سروس نمبر کے ساتھ تفصیلات بھی جاری کیں۔
لیکن جس آدمی کو مردہ ثابت کیا جا رہا تھا، وہ راولپنڈی میں ہنسی خوشی زندگی گزار رہا تھا۔
اس قسم کی پروپیگنڈہ مہم کا ایک پس منظر ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔ EU DisinfoLab کی تحقیقات نے یہ ثابت کیا ہے کہ انڈین نیوز ایجنسی ANI غیر موجود ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے پاکستان اور چین کے خلاف پروپیگنڈہ پھیلاتی رہی ہے اور اس کا مواد Yahoo News جیسے بڑے پلیٹ فارمز پر بھی نظر آیا۔ یہ کوئی اتفاق نہیں، بلکہ ایک پندرہ سالہ آپریشن کا حصہ ہے جس کا مقصد انڈیا کے حریف ممالک کے خلاف جھوٹی خبروں کو دنیا میں پھیلانا تھا۔
محمد آصف والا معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ یہ پہلگام سانحے کے بعد کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ اپریل 2025 میں پہلگام میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کے بعد انڈیا نے پاکستان پر الزامات عائد کیے اور چار روزہ فوجی تناؤ کا مرحلہ آیا۔ اس کے بعد سے انڈین میڈیا نے آزاد کشمیر کے حوالے سے بھی پرانی ویڈیوز کو نئے واقعات کے طور پر پیش کیا اور مصنوعی طور پر بے چینی پھیلانے کی کوشش کی گئی۔
مئی 2025 کے عسکری تناؤ کے دوران انڈین ٹیلی ویژن چینلز بار بار غلط خبریں نشر کرتے رہے اور انھیں بے نقاب کیا جاتا رہا، مگر یہ سلسلہ نہیں رکا۔ یہی مسئلہ ہے، جب میڈیا کو سچ سے زیادہ ریٹنگ کی فکر ہو، تو جھوٹ قومی بیانیہ بن جاتا ہے۔
ایسے واقعات میں سب سے زیادہ نقصان عام لوگوں کا ہوتا ہے۔ جب کسی زندہ انسان کو مرا ہوا ثابت کیا جائے اور دشمن ملک کا دہشت گرد بنا کر پیش کیا جائے، تو اس کے گھر والوں، محلے والوں اور جاننے والوں پر کیا گزرتی ہے؟ محمد آصف نے خود بتایا کہ انھیں دوستوں کے فون آئے اور پھر انڈیا سے بھی فون آنے لگے جو ان کی ذاتی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ معلومات جمع کرنا ایک منظم مہم کا حصہ تھا۔
بڈگام واقعے میں جو بات سب سے زیادہ قابلِ توجہ ہے، وہ یہ ہے کہ انڈیا کی مختلف اداروں کے بیانات میں واضح تضاد تھا۔ فوج نے کچھ کہا، حکومت نے اس سے مختلف بات کی، اور میڈیا نے تیسری ہی کہانی گھڑ لی۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ بھارتی فوج کے بعد بھارتی حکومت کی تفصیلات بھی آئیں لیکن دونوں میں صریح اختلاف موجود تھا۔ یعنی پروپیگنڈہ اتنا جلدی بنایا گیا کہ باہم مربوط بھی نہ ہو سکا۔
پاکستان کی جوابی حکمتِ عملی اس بار نہ صرف مؤثر رہی بلکہ دنیا کے سامنے ایک واضح، قابلِ تصدیق ثبوت پیش ہوا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے محمد آصف کو تلاش کیا اور انھیں میڈیا کے سامنے پیش کر کے بھارت کا جھوٹ بے نقاب کر دیا۔ کوئی لمبی چوڑی تقریر نہیں، کوئی ردِ عمل میں جذباتیت نہیں، بس ایک زندہ انسان کو کیمرے کے سامنے لا کھڑا کیا گیا۔
سوال یہ ہے کہ آگے کیا ہو گا؟ جولائی 2026 میں انڈیا کی نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے پہلگام سے متعلق نئے الزامات لگائے جنھیں تجزیہ کاروں نے سیاسی ڈرامے سے زیادہ کچھ نہیں قرار دیا، اور اب انڈیا کا پروپیگنڈہ بیانیہ کمزور پڑتا نظر آتا ہے جبکہ AI سے بنائی گئی مزید ویڈیوز کا سہارا لیا جا رہا ہے۔
یہ لڑائی اب میدانِ جنگ سے زیادہ اسکرین پر لڑی جا رہی ہے۔ جدید معلوماتی جنگ میں وہ ملک جیتتا ہے جو سچ کو سب سے پہلے، سب سے واضح اور سب سے ثابت شدہ طریقے سے پیش کر سکے۔
بڈگام کے اس واقعے میں ایک زندہ آدمی نے وہ کام کر دکھایا جو کوئی بھی دلیل یا تردید نہیں کر سکتی تھی۔ وہ سامنے آ گیا۔ بس یہی کافی تھا۔
Author
-
View all postsProfessor Dr. Hamid Gul is an academic and international affairs expert with extensive knowledge of security, climate change, politics, and economic issues. He is currently serving as a professor at Central Asian University, where he contributes to teaching, research, and policy-oriented discussion on regional and international issues.