Nigah

نوکچہ آپریشن خوارج کے خلاف فیصلہ کن کارروائی

[post-views]

 

بلوچستان کے ضلع چاغی کے علاقے نوکچہ میں 27 اور 28 ستمبر کی درمیانی شب پیش آنے والا واقعہ محض ایک اور "کارروائی” نہیں بلکہ ایک ایسے مسلسل، منظم اور بتدریج مضبوط ہوتے سیکیورٹی ردِعمل کی کڑی ہے جو گزشتہ کئی ہفتوں سے بلوچستان میں دہشت گردی کے خلاف جاری ہے۔ جب کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کے دو ارکان نے ایک خالی واٹر باؤزر کو نذرِ آتش کرنے کے بعد فرار ہونے کی کوشش کی تو سیکیورٹی فورسز کی فوری اور بروقت کارروائی نے اُن کا تعاقب کیا اور جھڑپ میں دونوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ بظاہر یہ ایک محدود واقعہ لگتا ہے، مگر اس کے پس منظر اور تسلسل کو دیکھا جائے تو یہ بلوچستان میں جاری آپریشن ردالفتنہ 3 کے وسیع تر تناظر کا حصہ ہے، جس کی اہمیت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

یہ امر خاص طور پر قابلِ غور ہے کہ نوکچہ اس سے قبل بھی خوارج کی تخریبی سرگرمیوں کا مرکز رہا ہے۔ صرف چار ہفتے قبل، 31 اگست اور یکم ستمبر کی درمیانی شب، اسی علاقے اور ضلع پشین کے زیارت کراس میں سیکیورٹی فورسز نے ایک بڑا آپریشن کیا تھا جس میں 11 دہشت گرد مارے گئے تھے، تاہم اس کارروائی میں فورسز کو بھی بھاری قیمت چکانی پڑی، دو افسران اور محکمہ کسٹمز کے ایک اہلکار سمیت چھ جوان جامِ شہادت نوش کر گئے۔ اُس آپریشن کا مقصد قومی شاہراہ این 40 پر عوامی نقل و حرکت میں رکاوٹ ڈالنے اور کسٹمز حکام کو اُن کے قانونی فرائض کی انجام دہی سے روکنے کی خوارج کی سازش کو ناکام بنانا تھا، اور ہلاک شدگان سے بھاری اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد بھی برآمد ہوا تھا۔

اب، انہی چند ہفتوں بعد، وہی خوارج جنہوں نے پہلے بھی این 40 شاہراہ کے مختلف مقامات پر آتشزدگی کی کارروائیوں میں حصہ لیا تھا، دوبارہ اسی علاقے میں سرگرم ہوئے۔ اس بار ہدف ایک واٹر باؤزر تھا، بظاہر ایک عام سی سرکاری یا نجی گاڑی، لیکن دراصل ایک ایسی حکمتِ عملی کا حصہ جس کا مقصد علاقے میں خوف و ہراس پھیلانا، ترقیاتی و انفراسٹرکچر منصوبوں کو نقصان پہنچانا اور روزمرہ زندگی کو مفلوج کرنا ہے۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ سیکیورٹی ذرائع نے دونوں واقعات کے درمیان ممکنہ تعلق کا جائزہ لینے کی بات کی ہے۔ خوارج کا یہ رویہ بتاتا ہے کہ وہ کسی مربوط منصوبہ بندی کے تحت این 40 جیسی اہم شاہراہوں کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں، جو بلوچستان کی معیشت، تجارت اور مقامی آبادی کی نقل و حرکت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔

سیکیورٹی فورسز کا ردِعمل، دونوں مواقع پر، تیزی، پیشہ ورانہ مہارت اور نتیجہ خیزی کی بہترین مثال رہا۔ نوکچہ کے تازہ واقعے میں فورسز نے موقع پر موجود رہ کر فوری تعاقب کیا اور خوارج کو فرار ہونے کا موقع نہیں دیا۔ یہ حکمتِ عملی محض دفاعی نہیں بلکہ فعال (proactive) ہے، یعنی فورسز محض حملے کا انتظار نہیں کرتیں بلکہ خطرے کو ابھرتے ہی کچل دیتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہلاک ہونے والے دونوں افراد کی شناخت بی ایل اے کے تصدیق شدہ ارکان کے طور پر ہوئی، جو پہلے سے آتشزدگی کی وارداتوں میں ملوث تھے۔ یہ بات اس امر کی غماز ہے کہ سیکیورٹی ادارے مقامی سطح پر مؤثر انٹیلی جنس نیٹ ورک اور نگرانی کا نظام قائم کر چکے ہیں،

جس کی بدولت خوارج کے سابقہ کردار کی فوری تصدیق ممکن ہو سکی۔

یہ واقعہ الگ تھلگ نہیں۔ حالیہ ہفتوں کے دوران بلوچستان بھر میں آپریشن ردالفتنہ 3 کے تحت خوارج کے خلاف کارروائیوں میں نمایاں تیزی دیکھی گئی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق صرف 21 ستمبر سے اب تک صوبے بھر میں تینتیس سے زائد خوارج اور دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں نوشکی میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران گیارہ دہشت گردوں کی ہلاکت بھی شامل ہے۔ اسی دوران خیبرپختونخوا کے علاقے باڑہ میں بھی اسی نوعیت کی کارروائیوں میں کئی دہشت گرد مارے گئے۔ یہ سب اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ملک بھر میں سیکیورٹی ادارے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ایک مربوط، تسلسل بھرا اور نتیجہ خیز آپریشن چلا رہے ہیں، جو محض ردعمل تک محدود نہیں بلکہ خوارج کے نیٹ ورکس کو جڑ سے اکھاڑنے کی سنجیدہ کوشش ہے۔

نوکچہ کا تازہ واقعہ ایک اہم سبق بھی دیتا ہے: خوارج کی حکمتِ عملی بدل رہی ہے۔ بڑے پیمانے کے مسلح حملوں کے ساتھ ساتھ اب وہ چھوٹے، کم خطرے والے مگر معاشی طور پر نقصان دہ اہداف، جیسے واٹر باؤزر، سرکاری گاڑیاں یا شاہراہ کا انفراسٹرکچر، کو نشانہ بنا رہے ہیں، شاید اس امید پر کہ ایسی کارروائیوں پر سیکیورٹی فورسز کا ردِعمل کمزور یا سست ہوگا۔ لیکن نوکچہ کے واقعے نے ثابت کیا کہ یہ حکمتِ عملی بھی ناکام رہی۔ سیکیورٹی فورسز نے دکھایا کہ چاہے ہدف کتنا ہی معمولی کیوں نہ ہو،

خوارج کے خلاف جوابی کارروائی میں کوئی نرمی یا تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔

بلاشبہ نوکچہ کے بعد علاقے میں سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، اور خوارج کے سابقہ کردار سے متعلق مزید تحقیقات بھی جاری ہیں۔ یہ عمل اس بات کی ضمانت ہے کہ محض فوری ردِعمل پر اکتفا نہیں کیا جا رہا بلکہ طویل المدتی حکمتِ عملی کے تحت خوارج کے نیٹ ورکس، اُن کی مالی معاونت اور آئندہ کے ممکنہ عزائم کو بھی بے نقاب کیا جائے گا۔ یہی مسلسل، مربوط اور جامع نقطہ نظر ہے جو بالآخر بلوچستان میں پائیدار امن کی راہ ہموار کر سکتا ہے، ایک ایسا امن جس کی خاطر سیکیورٹی فورسز کے جوان مسلسل قربانیاں دے رہے ہیں۔

Author

  • Zubair Gul

    Zubair Gul is a lecturer and researcher with a particular interest in the China-Pakistan Economic Corridor, regional connectivity, development cooperation, and Pakistan-China relations. His academic work focuses on CPEC’s economic and strategic dimensions, infrastructure development, regional integration, and its broader implications for Pakistan’s growth and regional engagement.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔