یکم اکتوبر 2026 کی صبح کے پونے پانچ بجے، ہلمند کے ضلع گرمسیر میں ایک کمپاؤنڈ خاکستر ہو گیا۔ یہ عام عمارت نہیں تھی۔ یہ وہ جگہ تھی جہاں سے بلوچستان کے معصوم نوجوانوں کے ذہن زہر آلود کیے جا رہے تھے، جہاں سے جھوٹ کی فیکٹری چل رہی تھی، اور جہاں سے فتنہ الہندوستان کا میڈیا آپریشن سینٹر پاکستان کے خلاف پروپیگنڈا مہم چلا رہا تھا۔ پاکستانی سرجیکل سٹرائیک نے نہ صرف 9 دہشت گردوں کو جہنم واصل کیا بلکہ ایک سوال کو بھی دنیا کے سامنے رکھ دیا کہ کابل کے دعوے اور کابل کی حقیقت میں کتنا فرق ہے؟
افغانستان: الفاظ اور اعمال کا تضاد
افغان طالبان حکومت بارہا کہہ چکی ہے کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔ یہ الفاظ دوحہ معاہدے کا بھی حصہ تھے۔ مگر زمینی حقائق کچھ اور ہی کہانی سنا رہے ہیں۔ گرمسیر میں جس کمپاؤنڈ سے بی ایل اے کا میڈیا آپریشن چل رہا تھا، وہ طالبان کے اپنے بارڈر فورس کمانڈر ملا نادر کی ملکیت تھا۔ یعنی جو شخص سرحد کی نگرانی کا ذمہ دار تھا، وہی دہشت گردوں کی چھت بنا ہوا تھا۔ اس سے بڑا ثبوت اور کیا چاہیے؟
اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی نگرانی کمیٹی کی حالیہ رپورٹ، جو دسمبر 2025 سے جون 2026 کے عرصے کو محیط ہے، افغان طالبان کی ٹی ٹی پی کو مسلسل حمایت کو پاکستان میں دہشت گردانہ حملوں کی تعداد اور شدت میں اضافے کا سبب قرار دیتی ہے۔ اسی رپورٹ میں ٹی ٹی پی، القاعدہ، داعش خراسان اور بلوچ لبریشن آرمی کے درمیان بڑھتے ہوئے عملیاتی روابط اور سہولت کاری کے تعلقات کی نشاندہی بھی کی گئی۔ یہ رپورٹ کوئی پاکستانی ادارے کی نہیں، یہ وہ دستاویز ہے جو بین الاقوامی ماہرین نے تیار کی ہے۔
پروپیگنڈا فیکٹری کیوں اہم تھی؟
جنگ صرف میدان میں نہیں لڑی جاتی۔ آج کے دور میں ذہنوں کی جنگ اتنی ہی اہم ہے جتنی بندوق کی جنگ۔ بی ایل اے کا یہ میڈیا سینٹر ایک طرح سے نوجوانوں کو بھرتی کرنے، تشدد کو جائز ثابت کرنے اور پاکستان مخالف داستانیں پھیلانے کا مرکز تھا۔ کمانڈر شیروان، حذیفہ، فاروق اور حضرت بلوچ جیسے لوگ یہاں سے وہ مواد تیار کرتے تھے جو معصوم بلوچ نوجوانوں کو گمراہ کرتا تھا۔
حالیہ ذرائع کے مطابق، افغانستان کے جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس نے بی ایل اے اور ٹی ٹی پی کے درمیان روابط قائم کرنے میں فعال کردار ادا کیا، اور اگست 2026 میں قندہار میں ایک ہنگامی اجلاس منعقد ہوا جس میں افغان طالبان قیادت کی سرپرستی میں ٹی ٹی پی، بی ایل اے اور القاعدہ کی قیادت نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں پاکستان میں دہشت گردانہ کارروائیوں کو ایک مربوط میڈیا حکمت عملی کے ذریعے پیش کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ گرمسیر کا میڈیا سینٹر اسی حکمت عملی کا حصہ تھا۔
بڑھتی دہشت گردی اور پاکستان کا جواب
یہ کوئی اچانک کارروائی نہیں تھی۔ پاکستان نے طالبان حکومت کو بارہا خبردار کیا، سفارتی راستوں سے بات کی، بین الاقوامی فورمز پر شواہد رکھے۔ مگر جب الفاظ بے کار ثابت ہوئے تو پھر پاکستان نے وہی زبان استعمال کی جو دہشت گرد سمجھتے ہیں۔
جنوبی ایشیا ٹیرر ازم پورٹل کے مطابق، 2025 میں پاکستان میں 1,709 دہشت گردانہ واقعات رپورٹ ہوئے جن میں تقریباً 3,967 افراد ہلاک ہوئے، یہ 2021 میں افغان طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سب سے پرتشدد سال تھا۔ پاکستانی فوج کے ترجمان نے واضح الفاظ میں کہا کہ افغانستان 2025 میں خطے کا سب سے بڑا دہشت گردی کا مرکز بن گیا۔
آپریشن غضب للحق کے تحت پاکستان نے فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے ٹھکانوں کے خلاف ہدفی اور درست فضائی کارروائیاں جاری رکھیں۔ پاکستانی وزارتِ اطلاعات نے واضح کیا کہ افغانستان دہشت گردی کا مرکز بنا ہوا ہے اور پاکستان کو درپیش خطرہ افغانستان سے آ رہا ہے۔
بلوچستان کا اصل دشمن کون؟
ایک سوال جو ہر محبِ وطن پاکستانی کے ذہن میں ہے: کیا بی ایل اے واقعی بلوچوں کا ہمدرد ہے؟ جو تنظیم افغان سرزمین پر بیٹھ کر بلوچ نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے پر اکساتی ہو، جو بلوچستان کے ہی معصوم عوام کو خون میں نہلاتی ہو، جو مارچ 2025 میں جعفر ایکسپریس کو یرغمال بنائے اور بے گناہ مسافروں کو نشانہ بنائے، وہ بلوچ عوام کی ہمدرد نہیں بلکہ ان کی دشمن ہے۔ گرمسیر میں ہلاک ہونے والے دہشت گرد بلوچ نوجوانوں کی فلاح نہیں بلکہ ان کی تباہی کے لیے کام کر رہے تھے۔ وہ بیرونی ایجنڈوں کے آلہ کار تھے۔
بین الاقوامی شواہد اور پاکستان کا مؤقف
پاکستان کا مؤقف اب صرف دعوؤں پر نہیں بلکہ ٹھوس بین الاقوامی شواہد پر قائم ہے۔ پاکستان نے افغان طالبان انتظامیہ سے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ افغان سرزمین پر موجود دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کیے جائیں، خاص طور پر وہ جو پاکستان کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔ مگر جب الفاظ کا جواب خاموشی سے ملا تو پاکستان نے ہلمند، کنڑ اور دیگر علاقوں میں دہشت گردوں کے ٹھکانے تباہ کیے۔ یہ کوئی جنگ کی خواہش نہیں، یہ اپنے شہریوں کی حفاظت کا حق ہے۔
آگے کا راستہ
گرمسیر کا آپریشن ایک واضح پیغام ہے، محض فوجی نہیں بلکہ سیاسی اور سفارتی بھی۔
جب تک دہشت گردوں کو افغانستان میں محفوظ ماحول میسر رہے گا، پاکستان کی کوششیں پائیدار کامیابی حاصل نہیں کر سکتیں۔ اس لیے طویل مدتی حل سفارت کاری میں ہے۔ افغانستان کو دوحہ معاہدے کی پابندی کرنی ہوگی، بین الاقوامی برادری کو کابل پر دباؤ ڈالنا ہوگا، اور علاقائی ممالک کو مل کر دہشت گردی کی جڑیں کاٹنی ہوں گی۔
پاکستان کا عزم اور ارادہ بالکل واضح ہے۔ فتنہ الہندوستان ہو یا فتنہ الخوارج، ان کا ٹھکانہ جہاں بھی ہو، پاکستان انہیں تلاش کر کے نیست و نابود کرے گا۔
ہلمند میں اٹھنے والا دھواں اس عزم کی گواہی ہے۔
جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ سرحد پار بیٹھ کر وہ محفوظ ہیں، یکم اکتوبر کی صبح نے ان کی یہ غلط فہمی دور کر دی۔