خیبرپختونخوا کے لیے وار آن ٹیرر کی مد میں گزشتہ سترہ برسوں کے دوران 799 ارب 35 کروڑ 90 لاکھ روپے جاری ہو چکے ہیں۔ یہ رقم کم نہیں، مگر اس سے بڑا سوال یہ ہے کہ اس کا حساب کہاں ہے اور اس کا اثر زمین پر کتنا نظر آتا ہے۔
فنڈ کی بنیاد اور بڑھتا ہوا حجم
ساتویں این ایف سی ایوارڈ پر دسمبر 2009 میں اتفاق ہوا اور یکم جولائی 2010 سے یہ نافذ ہوا۔ اس میں فیصلہ ہوا کہ دہشتگردی سے متاثرہ صوبے کو انفراسٹرکچر، تجارت اور دیگر مالی نقصانات کے ازالے کے لیے قابل تقسیم پول سے ایک فیصد اضافی حصہ ملے گا۔ یہ فیصلہ درست اور بروقت تھا، کیونکہ اس صوبے نے قربانیاں سب سے زیادہ دی ہیں۔
اعداد و شمار دیکھیں تو 2010 11 میں تخمینہ 15 ارب 23 کروڑ روپے تھا اور 14 ارب 56 کروڑ روپے ملے۔ 2024 25 میں 112 ارب 29 کروڑ 60 لاکھ روپے جاری ہوئے اور 2025 26 میں 128 ارب 23 کروڑ 40 لاکھ روپے۔ رواں مالی سال 2026 27 کے لیے 149 ارب 76 لاکھ روپے کا تخمینہ ہے، جس میں سے ستمبر تک 23 ارب 69 لاکھ روپے مل چکے ہیں۔ یعنی سترہ سال میں سالانہ رقم تقریباً دس گنا ہو گئی ہے۔
تخمینے اور وصولی کا فرق
سترہ سال کے مجموعی تخمینے کوئی 958 ارب 48 کروڑ روپے کے تھے، جبکہ ملے 799 ارب سے کچھ زیادہ۔ اس فرق کو سمجھنا ضروری ہے۔ رواں سال کا تخمینہ پورے سال کا ہے جبکہ وصولی صرف ڈھائی مہینے کی ہے، اس لیے پورے فرق کو کمی نہیں کہا جا سکتا۔ مکمل ہو چکے سالوں میں بھی کچھ کمی ہے۔ 2019 20 میں 54 ارب 46 کروڑ کے تخمینے کے مقابلے میں 40 ارب 25 کروڑ روپے ملے۔
اس کے برعکس 2015 16، 2021 22 اور 2022 23 میں وصولی تخمینے سے زیادہ رہی۔
سیکریٹری خزانہ کامران آفریدی نے درست نشاندہی کی کہ یہ رقم وفاقی ٹیکس وصولی سے جڑی ہے۔ ایف بی آر ہدف پورا کرے تو فنڈ بھی پورا ملتا ہے، ورنہ کمی آتی ہے، اور صوبہ اپنا بجٹ اسی ہدف کے مطابق بناتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ رقم دہشتگردی کے خلاف اخراجات کی مد نہیں، بلکہ نقصانات کے ازالے کی مد ہے، اور دوسرے صوبوں کو بھی اپنا حصہ ملتا ہے۔ یہ وضاحت اہم ہے، مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ عوام کو حساب دینے کی ذمہ داری ختم ہو گئی۔
اصل مسئلہ شفافیت کا ہے
خیبرپختونخوا کو ملنے والی یہ رقم صوبائی کنسولیڈیٹڈ فنڈ، یعنی اکاؤنٹ ون میں جاتی ہے اور اس کا کوئی الگ ہیڈ نہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ کوئی شہری، صحافی یا ماہر یہ نہیں بتا سکتا کہ 799 ارب میں سے کتنا بحالی پر لگا، کتنا متاثرہ اضلاع کی تعمیرِ نو پر، کتنا پولیس پر اور کتنا تعلیم و صحت پر۔ قانونی طور پر رقم کو عمومی خزانے میں ملانا غلط نہیں ہو سکتا، لیکن اخلاقی اور انتظامی طور پر جب ایک رقم کسی خاص مقصد کے نام پر دی جائے تو اس کا الگ ٹریک ہونا عوام کے اعتماد کی بنیاد ہے۔ میری رائے میں صوبائی حکومت کو چاہیے کہ اس فنڈ کے لیے ایک الگ ہیڈ بنائے اور ہر سال شائع کرے کہ رقم کہاں گئی۔

پولیس: قربانی اور بجٹ
اس بحث میں پولیس سب سے نمایاں ہے۔ سرکاری اعداد کے مطابق اس سال جنوری سے 29 ستمبر تک خیبرپختونخوا میں 173 پولیس اہلکار اور افسران شہید ہو چکے ہیں۔ تازہ واقعات اس کی تصدیق کرتے ہیں۔ 18 ستمبر کو کوہاٹ پولیس لائنز پر خودکش حملہ ہوا جس میں پولیس اہلکاروں سمیت کئی لوگ شہید ہوئے۔ اسی ہفتے شمالی وزیرستان اور ہنگو میں کارروائیوں میں دس خوارج مارے گئے، جبکہ 17 ستمبر کو ایک دھماکے میں چھ جوان شہید ہوئے۔ 28 ستمبر کو ٹانک کے علاقے وزیرآباد میں خوارج کے حملے میں تین ٹریفک وارڈن شہید ہوئے۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ جنگ ابھی ختم نہیں ہوئی اور ہمارے پولیس جوان اگلی صف میں کھڑے ہیں۔
مشیرِ خزانہ مزمل اسلم کے مطابق صوبے کے کل بجٹ کا دس فیصد پولیس کو دیا جاتا ہے۔ رواں سال پولیس کا بجٹ بڑھا کر 191 ارب 40 کروڑ روپے کیا گیا ہے، آپریشنل بجٹ 15 ارب سے بڑھ کر 30 ارب 20 کروڑ روپے ہو گیا ہے، اور منظور شدہ آسامیاں ایک لاکھ 39 ہزار 318 تک پہنچ گئی ہیں۔ یہ مثبت پیش رفت ہے۔ صحت اور تعلیم کے بعد سب سے زیادہ توجہ پولیس کو مل رہی ہے، جو خوارج اور دہشتگردوں کے خلاف صف اول کی قوت ہے۔
مگر یہاں بھی وہی سوال ہے۔ بجٹ بڑھانا ایک بات ہے اور اس کا اثر میدان میں پہنچنا دوسری۔ جدید اسلحہ، بلٹ پروف گاڑیاں، تھانوں کی حفاظتی دیواریں، انٹیلی جنس کا نظام اور شہداء کے خاندانوں کی کفالت جیسے کام گنوائے جائیں تو عوام کو اندازہ ہوگا کہ پیسہ کہاں لگ رہا ہے۔ اگر وار آن ٹیرر فنڈ کا ایک واضح حصہ ان مدات کے لیے مخصوص ہو تو اعتماد کہیں زیادہ بڑھے گا۔
عوام کی آواز
ضلع خیبر کے نوجوانوں سے بات کریں تو ان کی ترجیحات سیاست نہیں، روزی روٹی ہیں۔ جمرود کے شاہ کس کے ایک مزدور نوجوان کا کہنا ہے کہ ایک وقت کا کھانا مل جائے تو دوسرے وقت صبر کرنا پڑتا ہے۔ باڑہ کے نوجوان لانگ مارچ کے بجائے مذاکرات اور عدالتی راستے کو ترجیح دیتے ہیں، تیراہ کے متاثرین سے کیے گئے وعدوں کی تکمیل مانگتے ہیں، اور بہتر اسکولوں اور روزگار کی بات کرتے ہیں۔ ان کی بات کسی جماعت کے خلاف نہیں، بلکہ اس بنیادی مطالبے کی عکاسی ہے کہ وسائل کا رخ عام آدمی کی ضرورت کی طرف ہو۔ وار آن ٹیرر فنڈ کا اصل مقصد بھی یہی ہے کہ جن علاقوں نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا، وہاں امن کے ساتھ روزگار، تعلیم اور معاشی استحکام لوٹے۔
نئے صوبوں کے حوالے سے بھی لوگوں کی رائے مثبت ہے۔ عام شہری کہتے ہیں کہ چھوٹی انتظامی اکائیوں سے صحت، تعلیم اور ٹرانسپورٹ کے مسائل بہتر حل ہوں گے اور نئی قیادت کو موقع ملے گا۔ انتظامی اکائیاں چھوٹی ہوں تو حساب بھی آسان ہوتا ہے۔ یہ بحث جاری رہے گی، مگر اس کا سبق واضح ہے کہ عوام قریب سے جواب دہی چاہتے ہیں۔
آگے کا راستہ
میری رائے میں تین اقدام فوری ہونے چاہییں۔ پہلا، وار آن ٹیرر فنڈ کے لیے الگ ہیڈ یا شفاف رپورٹنگ کا نظام۔
دوسرا، ایف بی آر کے اہداف اور صوبائی بجٹ کے درمیان حقیقت پسندانہ ہم آہنگی تاکہ صوبہ ایسے تخمینوں پر منصوبے نہ بنائے جو پورے نہ ہوں۔ تیسرا، پولیس اور متاثرہ اضلاع پر خرچ کی سالانہ تفصیل عوام کے سامنے رکھنا۔
799 ارب روپے بہت بڑی رقم ہے، اور اس کے پیچھے ہمارے شہداء کا خون اور متاثرہ خاندانوں کے آنسو ہیں۔ جب حساب شفاف ہوگا تو ریاست اور صوبے، دونوں پر اعتماد بڑھے گا، اور خوارج اور دہشتگردوں کے خلاف قوم کی صف اور مضبوط ہوگی۔
Author
-
View all posts
ڈاکٹر حمزہ خان نے پی ایچ ڈی کی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں، اور یورپ سے متعلق عصری مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور لندن، برطانیہ میں مقیم ہے۔