آزاد کشمیر کے عوام نے ہمیشہ اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کی ہے، اور یہ آواز جمہوری معاشروں میں نہ صرف جائز بلکہ ضروری بھی سمجھی جاتی ہے۔ مہنگائی، بجلی کے بل، آٹے کی قیمت، صحت و تعلیم کی سہولیات، روزگار، میرٹ اور گورننس جیسے مسائل عام شہری کی روزمرہ زندگی سے جڑے ہوئے ہیں۔ کوئی بھی ذمہ دار حکومت ان مسائل کو نظر انداز نہیں کر سکتی۔ مگر اسی کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ عوامی حقوق کی تحریک اسی وقت مؤثر اور باوقار رہتی ہے جب اس کا مقصد مسائل کا حل ہو، نہ کہ ہر قیمت پر احتجاج کو زندہ رکھنا۔
حکومت اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان ہونے والا معاہدہ اسی لیے اہم تھا کہ عوامی مطالبات کو ایک منظم، قانونی اور انتظامی راستے پر ڈالا جائے۔ اس معاہدے کے بعد اگر حکومت نے متعدد نکات پر عملدرآمد شروع کیا، مالی ریلیف دیا، ایف آئی آرز واپس لیں، متاثرہ خاندانوں کو معاوضہ دیا، بجلی بلوں میں رعایت دی، سرچارجز ختم کیے، بقایاجات کو اقساط میں تقسیم کیا، صحت کارڈ کی سہولت دی اور ترقیاتی منصوبوں کو فزیبلٹی، منظوری، PC-I، ٹینڈرنگ اور عملدرآمد کے مراحل میں داخل کیا، تو پھر سیاسی سنجیدگی کا تقاضا یہ تھا کہ ان اقدامات کی نگرانی کی جاتی، ٹائم لائن مانگی جاتی اور جہاں تاخیر ہوتی وہاں دلیل کے ساتھ سوال اٹھایا جاتا۔
لیکن جب ہر پیش رفت کو نظر انداز کر کے دوبارہ شٹر ڈاؤن، پہیہ جام اور ہڑتال کی سیاست کو ہوا دی جائے تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ مقصد واقعی عوامی ریلیف ہے یا سیاسی دباؤ؟ اگر 177 ایف آئی آرز واپس ہو چکی ہیں، جاں بحق افراد کے ورثاء اور زخمیوں کو کروڑوں روپے کے معاوضے دیے جا چکے ہیں، 5KW ٹیرف ایڈجسٹمنٹ نافذ ہو چکی ہے، سرچارجز ختم ہو چکے ہیں، بجلی بقایاجات 36 اقساط میں تقسیم ہو چکے ہیں، صحت کارڈ سہولت بڑھائی جا چکی ہے، کابینہ اور محکموں کے حجم میں کمی کی گئی ہے اور اوپن میرٹ پالیسی نافذ کی گئی ہے، تو پھر عوام کو دوبارہ سڑکوں پر لانے کی ضد کس لیے ہے؟
ہر باشعور شہری جانتا ہے کہ بڑے ترقیاتی منصوبے ایک دن میں مکمل نہیں ہوتے۔ MRI اور CT Scan مشینوں کے منصوبے ہوں، ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن ہو، بجلی نظام کی بہتری ہو، نیلم ویلی یا کہوٹہ آزاد پتن روڈ کی فزیبلٹی ہو یا پانی کی فراہمی کی اسکیمیں، ان سب کے لیے فنی جائزہ، مالی منظوری، PC-I، ٹینڈرنگ، خریداری اور عملدرآمد کے مراحل ضروری ہوتے ہیں۔ ان مراحل کو وقت لگتا ہے۔ انہیں جان بوجھ کر “حکومتی ناکامی” بنا کر پیش کرنا عوام کو مکمل حقیقت نہ بتانے کے مترادف ہے۔
جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت اگر واقعی عوامی مفاد میں سنجیدہ ہے تو اسے یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ نگرانی اور احتساب کا راستہ بندش اور تصادم سے بہتر ہے۔ حکومت سے پوچھا جائے کہ فلاں منصوبہ کس مرحلے میں ہے، کتنی رقم مختص ہوئی، ٹینڈر کب ہوگا، عملدرآمد کب شروع ہوگا اور تکمیل کی مدت کیا ہے۔ مگر یہ کہنا کہ چونکہ منصوبہ آج مکمل نہیں ہوا لہٰذا پورا کشمیر بند کر دو، یہ سیاسی جذباتیت تو ہو سکتی ہے، مسئلے کا حل نہیں۔
ہڑتال کا سب سے بڑا نقصان ہمیشہ عام آدمی کو ہوتا ہے۔ مزدور کی دیہاڑی رک جاتی ہے، دکاندار کا کاروبار بند ہو جاتا ہے، طالب علم کی پڑھائی متاثر ہوتی ہے، مریض ہسپتال پہنچنے سے محروم رہتا ہے، ٹرانسپورٹ ورکر کی آمدنی ختم ہو جاتی ہے اور غریب گھرانے کا چولہا ٹھنڈا پڑ جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہڑتال کی کال دینے والے رہنما بھی یہی قیمت ادا کرتے ہیں؟ کیا ان کے بچوں کی تعلیم رکتی ہے؟ کیا ان کے گھروں کا چولہا بند ہوتا ہے؟ کیا ان کے کاروبار متاثر ہوتے ہیں؟ اگر نہیں، تو پھر عوام کو قربانی کا ایندھن کیوں بنایا جا رہا ہے؟
عوامی تحریک کا اصل حسن یہ ہوتا ہے کہ وہ عوام کو بااختیار بناتی ہے، انہیں نقصان نہیں پہنچاتی۔ اگر احتجاج کا نتیجہ ہر چند ماہ بعد بند بازار، بند سڑکیں، بند تعلیمی ادارے، خوف، بے یقینی اور معاشی نقصان ہو تو پھر عوام کو سوچنا ہوگا کہ یہ تحریک ان کے لیے ہے یا ان کے نام پر کسی اور کی سیاست کے لیے۔ عوامی حقوق کے نام پر عوام ہی کو اذیت دینا انصاف نہیں، سیاسی استحصال ہے۔
سب سے زیادہ تشویشناک پہلو یہ ہے کہ بعض حلقوں کی جانب سے عوامی مطالبات کو آئینی معاملات، پاکستان کے ساتھ کشمیر کے تعلق اور مہاجر نشستوں جیسے حساس موضوعات سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ بجلی، آٹا، ٹیکس اور گورننس کے مطالبات ایک چیز ہیں، مگر کشمیر کاز کی سیاسی بنیادوں کو متنازع بنانا بالکل مختلف اور خطرناک معاملہ ہے۔ آزاد کشمیر کی سیاست میں اختلاف رائے ہو سکتا ہے، حکومت پر تنقید ہو سکتی ہے، اصلاحات کا مطالبہ ہو سکتا ہے، لیکن ایسے بیانیے سے گریز ضروری ہے جو کشمیری وحدت، پاکستان کے ساتھ تعلق اور مسئلہ کشمیر کے تاریخی مؤقف کو کمزور کرے۔
مہاجر نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ بھی اسی تناظر میں نہایت حساس ہے۔ یہ نشستیں محض انتخابی حلقے نہیں بلکہ اُن کشمیریوں کی سیاسی نمائندگی کی علامت ہیں جو مقبوضہ جموں و کشمیر سے بے گھر ہوئے، مگر ریاست جموں و کشمیر کے مستقبل سے اپنا رشتہ نہیں توڑا۔ ان نشستوں کو ختم کرنے سے نہ بجلی سستی ہوگی، نہ آٹا سستا ہوگا، نہ روزگار بڑھے گا، نہ ہسپتال بہتر ہوں گے۔ البتہ اس سے مہاجر کشمیریوں کی سیاسی آواز کمزور ہوگی اور کشمیر کاز کے تسلسل کو نقصان پہنچے گا۔ عوامی حقوق کی تحریک کو ایسے مطالبات سے دور رہنا چاہیے جو عوامی ریلیف کے بجائے سیاسی تقسیم پیدا کریں۔
آزاد کشمیر کو آج نعروں سے زیادہ سنجیدہ قیادت کی ضرورت ہے۔ حکومت کو اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی چاہئیں، وعدوں پر عملدرآمد تیز کرنا چاہیے، منصوبوں کی تفصیلات عوام کے سامنے رکھنی چاہئیں اور جہاں تاخیر ہے وہاں جواب دینا چاہیے۔ لیکن اسی طرح احتجاجی قیادت کو بھی یہ حق نہیں کہ وہ ہر پیش رفت کے باوجود عوام کو مسلسل بے چینی، ہڑتال اور تصادم کی طرف دھکیلے۔ قیادت کا مطلب صرف کال دینا نہیں، قوم کو نقصان سے بچانا بھی ہے۔
عام کشمیری اب یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ اگر مسائل حل ہونے کے باوجود احتجاج جاری رہے گا تو پھر مطالبات کا مقصد کیا تھا؟ اگر ہر رعایت کے بعد نیا مطالبہ، ہر پیش رفت کے بعد نیا الزام اور ہر منصوبے کے بعد نیا شٹر ڈاؤن آئے گا تو یہ اصلاحات کی سیاست نہیں، مستقل بحران کی سیاست ہے۔ ایسی سیاست سے صرف وہ لوگ فائدہ اٹھاتے ہیں جن کی پہچان احتجاج سے بنتی ہے، جبکہ نقصان عوام، معیشت، تعلیم اور ترقی کو ہوتا ہے۔
آزاد کشمیر کے عوام کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ ترقی، استحکام، کھلے بازار، فعال ہسپتال، چلتے تعلیمی ادارے، روزگار اور مکمل ہوتے منصوبے چاہتے ہیں یا ہر چند ماہ بعد ایک نئی ہڑتال، نئی بندش اور نئی بے یقینی۔ عوامی حقوق کا تحفظ ضروری ہے، مگر عوامی حقوق کے نام پر عوامی زندگی کو مفلوج کرنا کسی صورت درست نہیں۔ کشمیر کو ایسی قیادت چاہیے جو مسائل حل کرے، نہ کہ مسائل کو زندہ رکھ کر اپنی سیاست چمکائے۔
Author
-
View all posts
حسین جان کے علمی مفادات بین الاقوامی سلامتی، جغرافیائی سیاسی حرکیات، اور تنازعات کے حل میں ہیں، خاص طور پر یورپ پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے۔ انہوں نے عالمی تزویراتی امور سے متعلق مختلف تحقیقی فورمز اور علمی مباحثوں میں حصہ ڈالا ہے، اور ان کا کام اکثر پالیسی، دفاعی حکمت عملی اور علاقائی استحکام کو تلاش کرتا ہے۔