Nigah

جسٹس منصور علی شاہ کا متنازعہ کردار

[post-views]

جسٹس سید منصور علی شاہ کا نام پاکستان کی عدلیہ کی تاریخ میں اصلاحات، آئینی بالادستی اور بنیادی حقوق کے دفاع کی علامت کے طور پر جانا جاتا ہے۔ انہوں نے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اور سپریم کورٹ کے سینئر جج کے طور پر طویل خدمات انجام دیں اور نومبر 2025 میں ستائیسویں آئینی ترمیم کے خلاف احتجاجاً استعفیٰ دے دیا۔ اب وہ لمز میں پروفیسر کے طور پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ حال ہی میں ان کی بین الاقوامی فورمز خصوصاً ہارورڈ یونیورسٹی کانفرنس 2026 اور ایک یو کے پالیسی کانفرنس میں شرکت نے سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا ہے جس میں یہ سوال اٹھایا گیا ہے کہ کیا ان فورمز میں پاکستان کا متوازن تشخص پیش کیا جا رہا ہے یا نہیں۔

یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے لیکن اس کا جواب تلاش کرنے کے لیے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ پاکستان اس وقت معاشی اور سفارتی سطح پر کہاں کھڑا ہے اور بین الاقوامی مکالمے میں شرکت کا مقصد اور افادیت کیا ہوتی ہے۔

پاکستان کی معاشی پیش رفت حقائق اور اعداد و شمار

اس بحث کو سیاق و سباق میں رکھنا ضروری ہے۔ پاکستان نے حالیہ برسوں میں معاشی محاذ پر قابل ذکر پیش رفت کی ہے۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی اپریل 2026 کی رپورٹ میں پاکستان کی جی ڈی پی گروتھ کو مالی سال 2026 میں 3.5 فیصد اور 2027 میں 4.5 فیصد تک پہنچنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ مالی سال 2026 کے پہلے نو مہینوں یعنی جولائی 2025 سے مارچ 2026 تک پاکستان نے اپنی تاریخ کا سب سے کم مالیاتی خسارہ ریکارڈ کیا جو صرف جی ڈی پی کا 0.7 فیصد تھا جبکہ گزشتہ سال اسی عرصے میں یہ 2.6 فیصد تھا۔ ترسیلات زر کے میدان میں بھی شاندار کارکردگی سامنے آئی ہے۔ مالی سال 2026 کی پہلی ششماہی میں تقریباً 19.7 ارب ڈالر کی ترسیلات موصول ہوئیں جو سال بہ سال 10.6 فیصد اضافہ ظاہر کرتی ہیں۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان ایک مشکل دور کے بعد استحکام کی راہ پر گامزن ہے۔

یہ کامیابیاں قابل فخر ہیں اور ان کا ذکر ہر اس فورم میں ہونا چاہیے جہاں پاکستان کا مستقبل زیر بحث آئے۔ ہارورڈ کانفرنس 2026 میں وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے پاکستان کی اقتصادی کامیابیوں پر مفصل گفتگو کی جس میں یوروبانڈ ادائیگیاں، گوادر بندرگاہ کی فعالیت اور مارچ 2026 میں ریکارڈ ترسیلات شامل تھیں۔ یعنی یہ فورم یک رخا نہیں تھا بلکہ اس میں پاکستان کے مثبت پہلو بھی پیش ہوئے۔

جسٹس منصور علی شاہ کی شرکت ایک معتدل جائزہ

جسٹس منصور علی شاہ نے ہارورڈ کانفرنس میں عدلیہ اور آئینی مسائل پر گفتگو کی اور حکومتی طرز حکمرانی پر تنقید بھی کی۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ درست تھا۔ اس کا جواب دو پہلوؤں سے دیا جانا چاہیے۔

پہلا پہلو یہ ہے کہ تعمیری تنقید کسی بھی جمہوری اور قانونی معاشرے کی بنیاد ہے۔

ایک ریٹائرڈ جج جو اپنے ضمیر کی آواز پر اعلی عدالتی عہدے سے مستعفی ہو گیا ہو اس کی آواز کو محض اس لیے رد نہیں کیا جا سکتا کہ وہ بیرون ملک بول رہا ہے۔ جسٹس شاہ نے اپنے دور میں پنجاب میں پہلے متبادل تنازعہ حل مراکز قائم کیے ای کورٹس اور عدالتی موبائل ایپس متعارف کرائیں اور آئینی حقوق کے تحفظ میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ایسے شخص کی رائے کو محض سیاسی مخالفت سمجھ کر خارج نہیں کیا جانا چاہیے۔

دوسرا پہلو اور جہاں شکایت جائز ہے یہ ہے کہ جب کوئی معزز شخصیت بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے بارے میں گفتگو کرے تو اسے ملک کا ایک متوازن تشخص پیش کرنا چاہیے۔ صرف مسائل کا ذکر اور کامیابیوں کی نظراندازی ایک نامکمل تصویر پیش کرتی ہے جو بعض اوقات منفی تاثر کو تقویت دے سکتی ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ ایسی گفتگو کا ارادہ نقصان دہ ہو لیکن اس کا اثر بعض اوقات ایسا ہو سکتا ہے۔

قومی بیانیہ اور ذمہ داری کا سوال

پاکستان ان دنوں ایک نازک دور سے گزر رہا ہے جہاں ملکی استحکام اور بین الاقوامی ساکھ ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ سرمایہ کاری، سفارتی تعاملات اور عالمی رائے عامہ سب کسی نہ کسی درجے میں ملک کے تشخص سے جڑے ہوئے ہیں۔ جب کوئی سابق اعلی جج کسی یورپی یا امریکی یونیورسٹی کے فورم میں بولتا ہے تو اس کی گفتگو کو عالمی میڈیا اور تجزیہ نگار پاکستان کی سرکاری رائے سے زیادہ قابل اعتماد سمجھتے ہیں۔

اس لیے یہ توقع رکھنا بے جا نہیں کہ اس طرح کے فورمز میں حصہ لینے والے اہل دانش اپنی تنقید کے ساتھ ساتھ پاکستان کی مثبت تبدیلیوں کا بھی ذکر کریں۔ گوادر کی ترقی، ریکارڈ ترسیلات، مالیاتی استحکام، سپریم کورٹ کے موسمیاتی انصاف سے متعلق تاریخی فیصلے، اور پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی دہشت گردی کے خلاف قربانیاں یہ سب ایک متوازن بیانیے کا حصہ ہونے چاہئیں۔

آگے کا راستہ

آزاد اور تعمیری مکالمہ ترقی کی شرط ہے نہ کہ اس کی رکاوٹ۔

جسٹس منصور علی شاہ یا ان جیسی کوئی بھی شخصیت اگر بین الاقوامی فورمز میں شریک ہوتی ہے تو یہ بذات خود قابل اعتراض نہیں۔ سوال صرف یہ ہے کہ وہ شرکت کس نوعیت کی ہو۔ پاکستان کی جمہوری، اقتصادی اور قانونی چیلنجز پر بات کرنا اور اس کے ساتھ ساتھ ملک کی مثبت پیش رفت کو بھی اجاگر کرنا یہی ایک ذمہ دار اور سنجیدہ دانشور کا طرز عمل ہے۔

پاکستان کے عوام چاہتے ہیں کہ ان کا ملک دنیا میں نہ صرف درست طریقے سے جانا جائے بلکہ اس کی ترقی کا سفر بھی دنیا کے سامنے آئے۔ یہ ذمہ داری حکومت کے ساتھ ساتھ ہر اس پاکستانی پر بھی عائد ہوتی ہے جو کسی بھی بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اپنے ملک کی نمائندگی کرتا ہے۔

اعلان دستبرداری
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔

Author

  • مصنف ایک معزز میڈیا پیشہ ور ہیں جو نیشنل نیوز چینل ایچ ڈی کے چیف ایگزیکٹو اور "دی فرنٹیئر انٹرپشن رپورٹ" کے ایگزیکٹو ایڈیٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ان سے  پر رابطہ کیا جاسکتا ہے ۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔