Nigah

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی: حقوق کا علَم یا سیاسی کھیل؟

[post-views]

جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی: حقوق کا علَم یا سیاسی کھیل؟

آزاد جموں و کشمیر کی سرزمین پر ایک بار پھر احتجاج کی آگ بھڑکتی نظر آ رہی ہے۔ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) بظاہر عوامی حقوق کی علَم بردار بن کر میدان میں ہے، لیکن اس پوری تحریک کے پس پردہ کیا چل رہا ہے، یہ سوال ہر باشعور شہری کے ذہن میں اٹھنا چاہیے۔ 9 جون کی ہڑتال کی کال کے بعد، جب حکومت نے عوامی ریلیف کے متعدد اقدامات کیے، اس کے باوجود کمیٹی کی ہٹ دھرمی جاری ہے۔ یہ لمحۂ فکریہ ہے۔

حکومت نے دیا، کمیٹی نے مانا نہیں

حکومت کے اقدامات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں۔ FIRS 177 کی واپسی، 118 ملین روپے سے زائد معاوضہ، 5KW ٹیرف ایڈجسٹمنٹ کا نفاذ، سرچارجز کا خاتمہ، بجلی بقایاجات کی 36 اقساط، منگلا ڈیم سے متعلق بقایاجات کی معافی، اور صحت کارڈ کی سہولت کشمیری شہریوں تک توسیع، یہ کوئی معمولی اقدامات نہیں۔ حکومت نے 4 اکتوبر 2025 کو ایک معاہدے پر دستخط کیے جس میں مظاہرین کے بیشتر مطالبات تسلیم کیے گئے، بشمول ڈھانچہ جاتی گورننس اصلاحات کا آغاز۔ اس کے بعد 90 دن کی مدت 3 جنوری 2026 کو ختم ہوئی، لیکن ٹھوس پیش رفت نہ ہونے پر عوام میں مایوسی پھیل گئی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب حکومت بار بار میز پر آ رہی ہے، معاہدے کر رہی ہے، مطالبات مان رہی ہے، تو پھر ہڑتال اور احتجاج کی ضرورت کیوں؟ وفاقی وزیر مقام نے بتایا کہ وفاقی اور آزاد کشمیر حکومتوں کے نمائندوں اور جے اے اے سی کے درمیان اب تک چھ ملاقاتیں ہو چکی ہیں جن میں گزشتہ سال طے پانے والے 37 نکاتی معاہدے پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔ پھر بھی کمیٹی کی ضد ختم نہیں ہوتی۔ کیا یہ واقعی عوامی خدمت ہے، یا کچھ اور چل رہا ہے؟

12 نشستوں کا سوال، اصل ایجنڈا کیا ہے؟

جے اے اے سی کے ایجنڈے میں ایک متنازع مطالبہ وہ 12 مخصوص نشستوں کے خاتمے کا ہے جو آزاد کشمیر اسمبلی میں مقبوضہ کشمیر سے ہجرت کر کے آنے والے مہاجرین کے لیے مخصوص ہیں۔ ان 12 نشستوں کا تعلق پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی نمائندگی سے ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے مشکلات کے دوران پاکستان میں پناہ لی اور جن کا کشمیر کے مسئلے سے جذباتی تعلق آج بھی زندہ ہے۔

سردار عمر نذیر جیسے رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ یہ نشستیں غیر ضروری ہیں۔ لیکن ایک لمحے کے لیے سوچیں، کیا ان ہجرت زدہ خاندانوں کی آواز کمزور کرنا انصاف ہے؟ کیا ان کی سیاسی نمائندگی ختم کرنا درست ہوگا؟ یہ سوالات سنجیدگی سے سوچنے کی ضرورت رکھتے ہیں۔

جذبات کا استحصال اور نوجوانوں کا مستقبل

جے اے اے سی ایک کثیر فریقی اتحاد ہے جس میں تاجر، وکلاء، طلباء اور سول سوسائٹی شامل ہیں۔ یہ اتحاد بظاہر متنوع ہے، لیکن اس کا فائدہ اٹھا کر نوجوانوں کو احتجاج کی طرف دھکیلا جا رہا ہے۔ ستمبر اکتوبر 2025 کے احتجاج میں پولیس نے آنسو گیس اور ربڑ کی گولیاں استعمال کیں، جس کے نتیجے میں کم از کم 9 افراد ہلاک اور 200 سے زائد زخمی ہوئے۔ ان اموات کی ذمہ داری کس پر ہے؟ جب احتجاج پرتشدد شکل اختیار کرتا ہے، تو نقصان انہی نوجوانوں کا ہوتا ہے جو سڑکوں پر نکلتے ہیں۔

مہنگائی اور بجلی کے بلوں کا مسئلہ حقیقی ہے۔ عام کشمیری خاندانوں پر خوراک اور بجلی کی بڑھتی قیمتوں، اقتصادی مواقع کی کمی، اور اشرافیہ کو ملنے والی مراعات کا بوجھ واضح ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ جب حکومت ان مسائل کو حل کرنے کی کوشش کر رہی ہے تو ہڑتال اور تالہ بندی سے کون فائدہ اٹھاتا ہے؟ تاجر نقصان اٹھاتے ہیں، مزدور بے روزگار ہوتے ہیں، اور طلباء کا وقت ضائع ہوتا ہے۔

معاہدوں کی خلاف ورزی، ذمہ داری کس کی؟

جے اے اے سی نمائندوں کا کہنا ہے کہ دسمبر 2023، فروری 2024، مئی 2024، اور دسمبر 2024 میں ہونے والے تحریری معاہدوں کی بار بار خلاف ورزی ہوئی۔ یہ شکایت سنجیدہ ہے اور اسے نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ حکومت کو معاہدوں پر عمل درآمد میں تاخیر کا جواب دینا ہوگا۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی دیکھنا ہوگا کہ کیا جے اے اے سی ہر بار مطالبات بڑھاتی تو نہیں جاتی؟ نومبر 2023 کا احتجاج حکومتی یقین دہانیوں کے بعد ختم ہوا، لیکن ان وعدوں پر عمل نہ ہونا 2024 کے بڑے احتجاج کی بنیادی وجہ بنا۔ یہ ایک چکر بن گیا ہے جس سے نکلنے کی ضرورت ہے۔

باشعور قوم کا فیصلہ

آزاد کشمیر کے عوام سمجھدار ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ مسائل کا حل میز پر ہوتا ہے، سڑکوں پر نہیں۔ ہڑتال سے نہ بجلی سستی ہوتی ہے نہ روٹی ملتی ہے۔ جب حکومت نے FIRS کی واپسی، ٹیرف ایڈجسٹمنٹ، سرچارجز کا خاتمہ، اور منگلا ڈیم کے بقایاجات معاف کرنے جیسے ٹھوس اقدامات کیے ہیں، تو اب وقت ہے کہ مذاکرات کو موقع دیا جائے۔ ملکی استحکام اور علاقائی امن سب سے قیمتی سرمایہ ہے۔ جو قوم یکجا رہتی ہے، وہی اپنے حقوق بھی پاتی ہے۔

اعلان دستبرداری
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔

Author

  • ڈاکٹر سید حمزہ حسیب شاہ ایک تنقیدی مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتے ہیں، خاص طور پر ایشیا اور جغرافیائی سیاست پر توجہ دیتے ہیں۔ انہوں نے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔ اردو میں اور علمی اور پالیسی مباحثوں میں فعال طور پر حصہ ڈالتا ہے۔
    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔