Nigah

خارجیت: ایک ایسا نظریہ جو اپنے پیروکاروں سے بھی زیادہ دیرپا ثابت ہوتا ہے

[post-views]

پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، مگر پائیدار امن کے لیے انتہاپسند نظریات کا خاتمہ بھی ضروری ہے

ہر چند سال بعد پاکستان دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی کامیابی کا اعلان کرتا ہے۔ آپریشن کیے جاتے ہیں، دہشت گرد کمانڈرز ہلاک ہوتے ہیں اور اعداد و شمار پیش کیے جاتے ہیں جو پیش رفت کی نشاندہی کرتے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود تشدد کسی نہ کسی نئی شکل میں دوبارہ سامنے آ جاتا ہے۔ ساؤتھ ایشیا ٹائمز کی ایک اہم تحقیق اسی حقیقت کو اجاگر کرتی ہے اور یہ مؤقف اختیار کرتی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف کامیابی صرف عسکری میدان میں کافی نہیں، بلکہ اس کے پیچھے موجود نظریات کا مقابلہ بھی ضروری ہے۔

مطالعے کے مطابق دہشت گردی ایک عملی مظہر ہے، یعنی حملے، دھماکے اور خونریزی، جبکہ خارجیت ایک ایسا فکری اور نظریاتی ڈھانچہ ہے جو تشدد کو جواز فراہم کرتا ہے، عسکری شکست کے باوجود باقی رہتا ہے اور نئے عناصر کو جنم دیتا رہتا ہے۔ جب تک اس فرق کو پالیسی، حکمت عملی اور عوامی شعور کا حصہ نہیں بنایا جاتا، اس وقت تک ہر کامیابی کے بعد ایک نیا چیلنج سامنے آ سکتا ہے۔

یہ محض نظری بحث نہیں۔ پاکستان میں 2025 کے دوران 699 دہشت گرد حملے رپورٹ ہوئے جن میں 1,034 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے۔ 2021 میں کابل میں تبدیلی کے بعد فتنہ الخوارج سے منسلک حملوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا۔ اگرچہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے ہزاروں انسداد دہشت گردی کارروائیاں کیں اور متعدد دہشت گردوں کو ہلاک کیا، لیکن خطرہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ فکری انتہاپسندی کے مسئلے کا حل صرف عسکری کارروائیوں سے ممکن نہیں۔

تحقیق کے مطابق خارجیت کے نظریے کے چار بنیادی ستون ہیں:

غیر مجاز تکفیر

انتہا پسندانہ لفظی تعبیر

علماء اور دینی اتھارٹی کا انکار

ریاستی و سیاسی اداروں کی اخلاقی حیثیت کو مسترد کرنا

ان میں سب سے خطرناک پہلو سیاسی تکفیر ہے، جس میں حکومتی یا سیاسی کمزوریوں کو بنیاد بنا کر پورے نظام کو دینی اعتبار سے غیر معتبر قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس عمل کے ذریعے سیاسی ناراضی کو مذہبی جواز فراہم کیا جاتا ہے اور تشدد کی راہ ہموار ہوتی ہے۔

مطالعہ خارجیت کی فکری تاریخ کو بھی بیان کرتا ہے۔ اس کی جڑیں جنگ صفین تک پہنچتی ہیں، جہاں سیاسی اختلاف کو مذہبی بنیادوں پر دشمنی میں تبدیل کرنے کا رجحان سامنے آیا۔ بعد ازاں مختلف ادوار میں اس سوچ نے نئی شکلیں اختیار کیں اور بعض شدت پسند تنظیموں نے اسی طرز فکر کو اپنا نظریاتی جواز بنایا۔ نام بدلتے رہے، مگر منطق ایک جیسی رہی۔

لال مسجد 2007 کا واقعہ اس سلسلے میں ایک اہم مثال کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ اس کے بعد بعض حلقوں میں ایسے بیانیے سامنے آئے جنہوں نے شدت پسند گروہوں کے لیے بھرتی اور حمایت کے عمل کو تقویت دی۔

جولائی 2024 میں حکومت پاکستان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے لیے فتنہ الخوارج کی اصطلاح اختیار کرنا اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ نظریاتی شناخت اور درست نامگذاری بھی انسداد دہشت گردی کی حکمت عملی کا ایک اہم حصہ ہے۔

تحقیق ایک چھ مراحل پر مشتمل فکری سفر کی بھی نشاندہی کرتی ہے، جو نظریاتی شدت پسندی سے شروع ہو کر دہشت گردی تک پہنچتا ہے۔ اس عمل میں مطلق العنان فکری سوچ، جلد بازی میں تکفیر، معاشرتی علیحدگی اور مخالفین کی انسانیت سے انکار جیسے مراحل شامل ہیں۔ تحقیق کے مطابق غربت، ناانصافی یا دیگر شکایات ابتدائی محرک بن سکتی ہیں، لیکن خارجیت کا نظریاتی فریم ورک ہی ان جذبات کو تشدد کے جواز میں تبدیل کرتا ہے۔

مطالعے کا ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ شدت پسند نظریات صرف غیر تعلیم یافتہ یا محروم طبقات تک محدود نہیں رہے۔

مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے تعلیم یافتہ افراد بھی ایسے بیانیوں سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ مسئلہ صرف معاشی یا سماجی نہیں بلکہ فکری اور نظریاتی بھی ہے۔

تحقیق کی سب سے اہم سفارش "ابن عباس ماڈل” ہے۔ جنگ نہروان کے بعد حضرت عبداللہ بن عباسؓ نے صرف مقابلہ نہیں کیا بلکہ مکالمہ، دلیل اور علمی گفتگو کے ذریعے بہت سے افراد کو شدت پسند فکر سے واپس لانے میں کامیابی حاصل کی۔ اسی تناظر میں تحقیق زور دیتی ہے کہ سکیورٹی اقدامات کے ساتھ مضبوط فکری اور علمی ردعمل بھی ناگزیر ہے۔

پاکستان میں اس مقصد کے لیے کئی اہم وسائل موجود ہیں۔ پیغام پاکستان جیسی قومی دستاویز، جس پر ہزاروں علماء نے دستخط کیے، دہشت گردی کو غیر اسلامی قرار دیتی ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر طاہر القادری کا دہشت گردی کے خلاف مفصل فتویٰ بھی ایک جامع فکری جواب فراہم کرتا ہے۔ تحقیق کی سفارش ہے کہ ان علمی کاوشوں کو جدید ذرائع ابلاغ اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے زیادہ مؤثر انداز میں عوام تک پہنچایا جائے۔

مطالعے کا اختتامی پیغام نہایت اہم ہے۔ خارجیت ایک قدیم فکری رویہ ہے جو مختلف ادوار میں مختلف شکلوں میں ظاہر ہوتا رہا ہے۔ اگر اس کے نظریاتی پہلوؤں کا مؤثر جواب نہ دیا جائے تو نئی شدت پسند تنظیمیں جنم لے سکتی ہیں، چاہے موجودہ گروہ ختم ہی کیوں نہ ہو جائیں۔

پاکستان کے پاس علمی سرمایہ، دینی رہنمائی، ادارہ جاتی صلاحیت اور قومی عزم موجود ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ جس سنجیدگی سے دہشت گردی کے عملی پہلوؤں کا مقابلہ کیا جاتا ہے، اسی سنجیدگی سے انتہاپسند نظریات کا بھی مقابلہ کیا جائے۔

سکیورٹی فورسز دہشت گردوں کا خاتمہ کر سکتی ہیں، لیکن دہشت گردی کے نظریاتی محرکات کا مقابلہ علم، دلیل اور شعور ہی کر سکتے ہیں۔

اعلان دستبرداری
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔

Author

  • Prof. Dr. Ghulam Mujaddid

    ڈاکٹر مجدد نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ وہ تین ماسٹرز ڈگریوں اور اسٹریٹجک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کے حامل ہیں۔ وہ پاکستان ایئر فورس میں ۳۳ سال خدمات انجام دینے والے سابق کمیشنڈ آفیسر بھی رہ چکے ہیں۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔