Nigah

پاکستان میں خواتین کی بااختیاری

[post-views]

پاکستان کے بارے میں عالمی مباحث اکثر بین الاقوامی درجہ بندیوں، بیرونی جائزوں اور مخصوص رپورٹس کے گرد گھومتے ہیں۔ یہ رپورٹس بعض اوقات اہم مسائل کی نشاندہی ضرور کرتی ہیں، مگر ان کا زاویہ عموماً محدود ہوتا ہے۔ وہ زمینی حقائق، سماجی مزاحمت، ادارہ جاتی اصلاحات اور پالیسی کے تسلسل کو پوری طرح نہیں دکھاتیں۔ پاکستان کے سماجی سفر کو صرف اعداد کی ایک قطار یا کسی بیرونی رپورٹ کے نتیجے سے ناپنا انصاف نہیں۔ خواتین کی بااختیاری اور مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے میدان میں پاکستان کی پیش رفت بتاتی ہے کہ تبدیلی خاموش، تدریجی مگر قابلِ پیمائش انداز میں آگے بڑھ رہی ہے۔

خواتین سے متعلق حالیہ بحث میں وومن، بزنس اینڈ دی لا 2026 کی رپورٹ کو بہت نمایاں کیا گیا، خاص طور پر پاکستان کے قانونی فریم ورک کے 46.68 اور نفاذی تاثر کے 27.35 اسکور کو عالمی اوسط 67 اور 53 کے مقابل رکھا گیا۔ یہ اعداد اپنی جگہ اہم ہیں، مگر پاکستان کے وسیع سماجی و معاشی تناظر کو صرف انہی نمبروں سے سمجھنا ناکافی ہے۔ پاکستان بیورو آف شماریات کے لیبر فورس سروے 2024–25 کے مطابق خواتین کی افرادی قوت میں شمولیت 2020–21 کے 21.4 فیصد سے بڑھ کر 24.4 فیصد ہو چکی ہے۔ اسی مدت میں ملک کی مجموعی افرادی قوت 71.8 ملین سے بڑھ کر 85.6 ملین تک پہنچی، جس میں خواتین کا کردار نمایاں ہے۔ بین الاقوامی ادارہ محنت کے تخمینے بھی 2024 میں خواتین کی شمولیت کو 24.26 فیصد بتاتے ہیں، جو اسی مثبت رجحان کی تصدیق کرتا ہے۔

پاکستانی عورت کی معاشی اہمیت سب سے زیادہ زراعت میں دکھائی دیتی ہے۔ ملازمت پیشہ خواتین میں تقریباً 61.4 فیصد زراعت سے وابستہ ہیں، جہاں وہ زرعی افرادی قوت کا 30 سے 40 فیصد یا اس سے بھی زیادہ حصہ بناتی ہیں۔ یہی خواتین تقریباً 240 ملین آبادی کے لیے خوراک کی پیداوار کے نظام کو سہارا دیتی ہیں۔ اسی طرح خواتین کی کاروباری شمولیت بھی بڑھ رہی ہے۔ خواتین کاروباری افراد کا حصہ 19 فیصد سے بڑھ کر 25.2 فیصد تک پہنچنا اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی عورت اب صرف غیر رسمی محنت تک محدود نہیں، بلکہ چھوٹے کاروبار، زرعی معیشت، دستکاری، آن لائن خدمات اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز میں بھی جگہ بنا رہی ہے۔

تعلیم کے میدان میں بھی نمایاں پیش رفت سامنے آئی ہے۔ دس سال اور اس سے زائد عمر کے افراد میں قومی شرح خواندگی 63 فیصد تک پہنچ چکی ہے، جبکہ خواتین کی شرح خواندگی 54 فیصد ہے۔ نوجوانوں کی شرح خواندگی 77 فیصد تک پہنچنا ایک اہم اشارہ ہے کہ آنے والی نسلیں ماضی سے بہتر مواقع حاصل کر رہی ہیں۔ خاص طور پر دیہی نوجوان خواتین میں صرف چھ برس کے دوران خواندگی میں نو فیصدی پوائنٹس کا اضافہ ہوا اور یہ شرح 63 فیصد تک جا پہنچی۔ یہ تبدیلی معمولی نہیں، کیونکہ دیہی علاقوں میں لڑکیوں کی تعلیم ہمیشہ معاشی، سماجی اور جغرافیائی رکاوٹوں سے متاثر رہی ہے۔

یہ بھی قابلِ غور ہے کہ اسی عالمی رپورٹ میں پاکستان کا معاون پالیسی فریم ورک اسکور 50.68 ہے، جو عالمی اوسط 47 سے بہتر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاستی سطح پر خواتین کی مالی شمولیت، سماجی تحفظ اور معاشی مواقع کے لیے اقدامات موجود ہیں۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام اس حوالے سے سب سے بڑی مثال ہے، جو ایک کروڑ سے زائد کم آمدنی والی خواتین کو ڈیجیٹل مالی شمولیت اور موبائل سے منسلک رقوم کی منتقلی کے ذریعے سہارا دے رہا ہے۔ وفاقی بجٹ 2025–26 میں اس پروگرام کے لیے 716 ارب روپے مختص کیے جانا خواتین کے معاشی تحفظ کو ریاستی ترجیح بنانے کی واضح علامت ہے۔

ادارہ جاتی سطح پر بھی تبدیلی محسوس کی جا سکتی ہے۔ صوبوں میں گھریلو تشدد کے قوانین، خواتین کے تحفظ کے ادارے، صنفی بنیاد پر تشدد کی عدالتیں، پناہ گاہیں، خواتین پولیس ڈیسک اور ورچوئل رپورٹنگ نظام قائم کیے گئے ہیں۔ ملازمت کی جگہوں پر ہراسانی کے خلاف قوانین کے نفاذ نے بھی خواتین کے لیے کام کے ماحول کو نسبتاً محفوظ بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔ سیاسی نمائندگی کے شعبے میں قومی اسمبلی میں خواتین کے لیے 60 مخصوص نشستیں اور صوبائی کوٹے اس امر کو یقینی بناتے ہیں کہ خواتین قانون سازی اور پالیسی سازی کے عمل کا حصہ رہیں۔ یہ پیش رفت اس وقت ہوئی جب پاکستان کو آئی ایم ایف پروگراموں، قرضوں کے دباؤ، سلامتی کے مسائل اور 2022 کے تباہ کن سیلاب جیسے بحرانوں کا سامنا رہا، جس نے 33 ملین افراد کو متاثر کیا، جن میں بڑی تعداد دیہی خواتین کسانوں کی تھی۔

اسی طرح مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے معاملے میں بھی پاکستان کو صرف بیرونی تنقید کے آئینے میں نہیں دیکھا جا سکتا۔ امریکی کمیشن برائے بین الاقوامی مذہبی آزادی کی 2026 کی سالانہ رپورٹ میں پاکستان کو دوبارہ خاص تشویش والا ملک قرار دینے کی سفارش کی گئی، مگر یہ سفارش مشاورتی اور غیر پابند ہے۔ پاکستان کا مؤقف رہا ہے کہ ایسے جائزے اکثر زمینی اصلاحات کو مکمل طور پر نہیں دیکھتے۔ آئین کے آرٹیکل 20، 25 اور 36 مذہبی آزادی، قانون کے سامنے مساوات اور اقلیتوں کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔ دسمبر 2025 میں پارلیمان نے نیشنل کمیشن فار مائنارٹیز رائٹس ایکٹ منظور کیا، جس کے تحت اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ، نگرانی اور فروغ کے لیے ایک قانونی کمیشن قائم ہوا۔ یہ اقدام سپریم کورٹ کے 2014 کے فیصلے کی روشنی میں بھی اہم ہے، جس میں اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مستقل ادارے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔

فروری 2026 میں پنجاب حکومت نے چائلڈ میرج رسٹرینٹ آرڈیننس جاری کیا، جس کے تحت لڑکوں اور لڑکیوں دونوں کے لیے شادی کی کم از کم عمر 18 سال مقرر کی گئی۔ اس قانون کی خلاف ورزی کو قابلِ دست اندازی، ناقابلِ ضمانت اور ناقابلِ راضی نامہ جرم قرار دیا گیا، جبکہ سزا سات سال تک ہو سکتی ہے۔ یہ اصلاح خاص طور پر اقلیتی لڑکیوں کی جبری شادیوں کی روک تھام کے لیے اہم ہے۔ توہینِ مذہب قوانین کے غلط استعمال کو روکنے کے لیے بھی 2025 میں سینئر پولیس تفتیش، عدالتی حساسیت کی تربیت اور جھوٹے الزامات پر سخت کارروائی جیسے حفاظتی اقدامات کا اعلان کیا گیا۔ جولائی 2025 میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے ممکنہ غلط استعمال کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیشن کی تشکیل کا حکم بھی دیا۔

اقلیتوں کے لیے پانچ فیصد سرکاری ملازمت کوٹہ، قومی و صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستیں، وظائف، بین المذاہب مکالمے، فلاحی اسکیمیں اور کرسمس سمیت مذہبی تہواروں کی سرکاری سطح پر پذیرائی اس بات کا اظہار ہیں کہ ریاستی ڈھانچے میں شمولیت کا تصور موجود ہے۔ یقیناً چیلنجز باقی ہیں، مگر اصلاحات کو نظرانداز کر کے صرف منفی تصویر بنانا بھی حقیقت سے دور ہے۔

پاکستان کا سماجی سفر مکمل نہیں، مگر متحرک ضرور ہے۔ خواتین کی تعلیم، روزگار، کاروبار اور سیاست میں بڑھتی شرکت، اور اقلیتوں کے لیے آئینی، قانونی اور ادارہ جاتی اقدامات یہ ثابت کرتے ہیں کہ تبدیلی جاری ہے۔ اصل پیش رفت صرف عالمی درجہ بندیوں سے نہیں ناپی جا سکتی؛ اسے پالیسی کے تسلسل، اداروں کی مضبوطی اور معاشرے کی مزاحمتی قوت سے سمجھنا ہوگا۔ پاکستان کی سمت بتاتی ہے کہ ایک زیادہ شمولیتی اور منصفانہ مستقبل کے لیے بنیادیں بتدریج مضبوط ہو رہی ہیں۔

Author

  • ڈاکٹر اکرام احمد

    اکرام احمد یونیورسٹی آف ساؤتھ ویلز سے بین الاقوامی تعلقات میں گریجویٹ ہیں۔ باتھ یونیورسٹی میں، جہاں ان کی تحقیق تنازعات کے حل، عالمی حکمرانی، بین الاقوامی سلامتی پر مرکوز ہے۔ ایک مضبوط تعلیمی پس منظر اور عالمی امور میں گہری دلچسپی کے ساتھ، اکرام نے مختلف تعلیمی فورمز اور پالیسی مباحثوں میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔ ان کا کام بین الاقوامی تعلقات کی حرکیات اور عصری جغرافیائی سیاسی مسائل پر ان کے اثرات کو سمجھنے کے لیے گہری وابستگی کی عکاسی کرتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔