اسلام میں نبی کریم حضرت محمد ﷺ کی ذات مبارکہ محض ایک تاریخی شخصیت یا مذہبی پیشوا کی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ آپ ﷺ کی پوری زندگی انسان کے لیے اخلاق، عبادت، معاشرت، عدل، قیادت، برداشت، حکمت اور رحمت کا عملی نمونہ ہے۔ قرآن مجید نے واضح طور پر فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی اہل ایمان کے لیے بہترین نمونہ ہے۔ سورۃ الاحزاب کی آیت 21 کا یہی بنیادی پیغام ہے کہ مسلمان اپنے کردار، فیصلوں اور اجتماعی رویوں کی تشکیل نبی کریم ﷺ کی سیرت کے مطابق کریں۔ اس اصول کی اہمیت آج اس لیے مزید بڑھ گئی ہے کہ بعض انتہاپسند گروہ مذہب کے نام پر تشدد، نفرت اور خوف کو جائز ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں، حالانکہ مستند سیرت نبوی ﷺ کا مجموعی پیغام اس کے بالکل برعکس رحمت، عدل، صبر، حکمت اور انسانی حرمت کا تحفظ ہے۔
نبی کریم ﷺ کے اخلاقی کردار کی بنیاد سچائی اور امانت پر قائم تھی۔ نبوت کے اعلان سے پہلے بھی اہل مکہ آپ ﷺ کو الصادق اور الامین کے اوصاف سے پہچانتے تھے۔ یہ حقیقت اپنے اندر عصر حاضر کے لیے ایک بڑا سبق رکھتی ہے۔ کوئی بھی مذہبی یا نظریاتی تحریک جو اپنے مقاصد کے لیے جھوٹ، جعل سازی، غلط معلومات، مذہبی جذبات کے استحصال یا گمراہ کن پروپیگنڈے کا سہارا لیتی ہے، وہ سب سے پہلے اسی نبوی اخلاق سے دور ہو جاتی ہے جس کا وہ بظاہر حوالہ دیتی ہے۔ رسول اللہ ﷺ کی سنت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کسی مقصد کو مقدس قرار دینے سے غیر اخلاقی ذرائع جائز نہیں ہو جاتے۔ حق کی دعوت خود بھی حق، دیانت اور سچائی کے ساتھ ہی دی جا سکتی ہے۔
رحمت نبی کریم ﷺ کی شخصیت کا سب سے نمایاں پہلو تھی۔ طائف کا واقعہ اس کا غیر معمولی اظہار ہے۔ جب وہاں کے لوگوں نے آپ ﷺ کی دعوت قبول کرنے کے بجائے آپ کو اذیت پہنچائی، پتھر مارے اور آپ ﷺ کو شدید جسمانی تکلیف کا سامنا کرنا پڑا تو اس کے باوجود آپ ﷺ نے اجتماعی انتقام کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ صحیح البخاری اور صحیح مسلم میں اس واقعے کی تفصیلات موجود ہیں کہ پہاڑوں کے فرشتے نے اہل طائف کو سزا دینے کی پیش کش کی، لیکن نبی کریم ﷺ نے امید ظاہر فرمائی کہ شاید ان کی آئندہ نسلوں میں ایسے لوگ پیدا ہوں جو اللہ کو پہچانیں۔ یہ رویہ ہمیں بتاتا ہے کہ نبوی استقامت غصے، انتقام اور فوری تباہی کا نام نہیں بلکہ صبر، امید اور اصلاح کے دروازے کھلے رکھنے کا نام ہے۔
اسی طرح عدل اسوۂ حسنہ کا ناقابلِ تفریق حصہ ہے۔ صحیح البخاری میں مذکور واقعے کے مطابق ایک بااثر خاندان کی عورت کے معاملے میں رعایت کی سفارش سامنے آئی تو نبی کریم ﷺ نے واضح فرمایا کہ قانون اور انصاف نسب، خاندان اور سماجی مرتبے کے تابع نہیں ہو سکتے۔ آپ ﷺ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی مثال دے کر عدل کی غیر جانب داری کا ایسا اصول قائم کیا جو ہر دور کی ریاست اور معاشرے کے لیے رہنما ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی معاشرے میں نہ طاقتور کے لیے الگ قانون ہو سکتا ہے اور نہ کمزور کے لیے الگ۔ جہاں انصاف شخصیات اور تعلقات کے بجائے اصولوں پر قائم ہو، وہیں اجتماعی اعتماد پیدا ہوتا ہے۔
دعوت اور قیادت میں نرمی بھی سنت نبوی ﷺ کا بنیادی وصف ہے۔ سورۃ آل عمران کی آیت 159 میں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کی نرم مزاجی کو اپنی رحمت قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ اگر آپ ﷺ سخت دل ہوتے تو لوگ آپ کے گرد سے منتشر ہو جاتے۔ یہ آیت اس تصور کی واضح تردید کرتی ہے کہ خوف، جبر یا دھمکی کے ذریعے پائیدار مذہبی یا سماجی تبدیلی پیدا کی جا سکتی ہے۔ حقیقی اصلاح انسان کے دل اور شعور سے شروع ہوتی ہے۔ جو تنظیمیں مذہب کے نام پر خوف پیدا کرتی، اختلاف رکھنے والوں کو دشمن قرار دیتی اور بندوق کو دعوت کا ذریعہ سمجھتی ہیں، ان کا طریقہ اس نبوی منہج سے مطابقت نہیں رکھتا جس نے اخلاقی قوت سے لوگوں کے دل تبدیل کیے۔
نبی کریم ﷺ کی تعلیمات انسانی مساوات کی بھی مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ حجۃ الوداع کے موقع پر آپ ﷺ نے نسلی، لسانی اور قبائلی تفاخر کی نفی کرتے ہوئے تقویٰ کو حقیقی فضیلت کا معیار قرار دیا۔ اس پیغام کی موجودہ پاکستان میں غیر معمولی معنویت ہے۔ ہمارا معاشرہ مختلف زبانوں، مسالک، قبائل اور ثقافتی شناختوں پر مشتمل ہے۔ کوئی نظریہ جو شہریوں کو نسل، فرقے، زبان یا علاقے کی بنیاد پر ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرے، وہ اسلامی اخوت کے بجائے معاشرتی تقسیم کو فروغ دیتا ہے۔ اسوۂ حسنہ ہمیں شناختوں کو تصادم کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی احترام اور قومی یکجہتی کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کا سبق دیتا ہے۔
صلح حدیبیہ نبوی حکمت اور دوراندیشی کی عظیم مثال ہے۔ بعض شرائط بظاہر مسلمانوں کے لیے سخت محسوس ہوتی تھیں، لیکن نبی کریم ﷺ نے فوری جذبات اور عسکری تصادم پر طویل مدتی امن کو ترجیح دی۔ بعد میں قرآن مجید نے اسی پیش رفت کو سورۃ الفتح میں فتح مبین قرار دیا۔ اس واقعے سے یہ اصول سامنے آتا ہے کہ قوت کا مطلب ہر موقع پر جنگ کرنا نہیں ہوتا۔ بعض اوقات ضبط، مذاکرات، صبر اور مستقبل کے وسیع تر امکانات کو دیکھنا زیادہ بڑی قوت کی علامت ہوتا ہے۔ انتہاپسند فکر فوری ردعمل کو بہادری سمجھتی ہے، جبکہ نبوی حکمت نتائج، انسانی جان اور اجتماعی مصلحت کو سامنے رکھتی ہے۔
کمزوروں، بچوں اور خاندان کے ساتھ شفقت بھی سیرت نبوی ﷺ میں نمایاں ہے۔ صحیح البخاری میں آتا ہے کہ جب ایک شخص نے نبی کریم ﷺ کو بچوں سے شفقت کرتے دیکھا تو آپ ﷺ نے واضح فرمایا کہ جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا۔ یہ تعلیم خاص طور پر ان حالات میں اہم ہے جہاں بچوں اور نوجوانوں کو نفرت، تشدد اور عسکریت پسندی کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ سنت نبوی ﷺ ہمیں بچوں کو محفوظ ماحول، محبت، تعلیم اور اخلاقی تربیت دینے کا حکم دیتی ہے، نہ کہ انہیں تنازعات کا ایندھن بنانے کا۔
نبی کریم ﷺ کی قیادت مشاورت پر بھی قائم تھی۔ اہم اجتماعی اور عسکری معاملات میں آپ ﷺ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی رائے سنتے اور اجتماعی دانش کو اہمیت دیتے تھے۔ سورۃ الشوریٰ کی آیت 38 اہل ایمان کی یہ صفت بیان کرتی ہے کہ ان کے معاملات باہمی مشورے سے طے پاتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں خفیہ، آمرانہ اور غیر جواب دہ تنظیمی ڈھانچے کو نبوی طرز قیادت نہیں کہا جا سکتا۔ حقیقی اسلامی قیادت جواب دہی، مشاورت، اخلاقی ذمہ داری اور اجتماعی مفاد کو مرکز بناتی ہے۔
پاکستان میں پائیدار امن کے لیے اسوۂ حسنہ کو صرف مذہبی تقریبات اور تاریخی تذکروں تک محدود رکھنے کے بجائے عملی سماجی اصول بنانا ہوگا۔ اگر سچائی کو ابلاغ کی بنیاد، عدل کو ریاستی رویے کا معیار، رحمت کو معاشرتی تعلقات کا جوہر، مشاورت کو حکمرانی کا طریقہ اور تحمل کو اختلاف کا اصول بنایا جائے تو انتہاپسندی کی فکری بنیاد خود بخود کمزور پڑتی ہے۔ سورۃ العنکبوت کی آیت 69 انسان کو مسلسل کوشش اور نیکی کی راہ میں ثابت قدم رہنے کی امید دلاتی ہے۔ نبی کریم ﷺ کی سنت کا اصل سبق یہی ہے کہ مضبوط معاشرے خوف سے نہیں، کردار سے بنتے ہیں۔ جہاں رحمت، عدل، سچائی اور انسانی حرمت زندہ ہوں، وہاں تشدد اور نفرت کو مذہب کے نام پر جگہ دینا ممکن نہیں رہتا۔
Author
-
View all posts
مزمل خان سیاست اور بین الاقوامی معاشیات میں گہری دلچسپی کے ساتھ، ان کا تعلیمی کام اس بات کی کھوج کرتا ہے کہ کس طرح بنیادی ڈھانچہ اور جغرافیائی سیاسی حرکیات تجارتی راستوں اور علاقائی تعاون کو متاثر کرتی ہیں، خاص طور پر جنوبی اور وسطی ایشیا میں۔ موزممل شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے پالیسی مکالمے اور پائیدار ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے پرجوش ہے اور اس کا مقصد تعلیمی انکوائری اور عملی پالیسی سازی کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے۔