Nigah

اقوام متحدہ میں افغانستان کے لیے پاکستان کا دوٹوک پیغام

[post-views]

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا پلیٹ فارم محض تقریروں کا مقام نہیں بلکہ وہ جگہ بھی ہے جہاں ریاستیں اپنی بنیادی سلامتی کی ترجیحات، خدشات اور سفارتی حدود عالمی برادری کے سامنے واضح کرتی ہیں۔ 25 ستمبر 2026 کو جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان کے حوالے سے اسی نوعیت کا پیغام دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے مطابق افغان سرزمین بدستور تحریک طالبان پاکستان، جسے سرکاری طور پر فتنہ الخوارج کہا جاتا ہے، اور بلوچ لبریشن آرمی، جسے پاکستانی حکام فتنہ الہندوستان کہتے ہیں، کے عناصر کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ ان کا مطالبہ تھا کہ افغانستان سے پاکستان کے خلاف ہونے والی ایسی سرگرمیاں بند ہونی چاہییں اور افغان حکام اس سلسلے میں قابل تصدیق اور فیصلہ کن اقدامات کریں۔

وزیراعظم کا یہ بیان اچانک پیدا ہونے والی کسی سفارتی کشیدگی کا نتیجہ نہیں بلکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان کئی برس سے موجود ایک بنیادی اختلاف کی عکاسی کرتا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف رہا ہے کہ سرحد پار موجود مسلح گروہوں کی محفوظ پناہ گاہیں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات کو تقویت دیتی ہیں۔ دوسری جانب کابل کے حکام ماضی میں متعدد مواقع پر ایسے الزامات کو مسترد کرتے یا ان کی مختلف تشریح کرتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسئلہ صرف الزام اور تردید تک محدود نہیں رہا بلکہ اب سوال اس بات کا ہے کہ ایسا کون سا قابل اعتماد نظام قائم کیا جائے جو سرحد پار دہشت گردی کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق، ذمہ داری کے تعین اور عملی کارروائی کو ممکن بنائے۔

پاکستان کے لیے یہ معاملہ قومی سلامتی کے ساتھ ساتھ ایک طویل انسانی اور معاشی تجربے سے بھی جڑا ہوا ہے۔ وزیراعظم نے جنرل اسمبلی میں کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان نے تقریباً ایک لاکھ جانوں کا نقصان برداشت کیا جبکہ اقتصادی نقصان 150 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا۔ ایسے اعداد و شمار اس حقیقت کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ دہشت گردی پاکستان کے لیے کوئی تجریدی خارجہ پالیسی کا موضوع نہیں بلکہ کئی دہائیوں سے معاشرت، معیشت اور داخلی استحکام کو متاثر کرنے والا مسئلہ ہے۔

تاہم پاکستان اور افغانستان کا تعلق صرف سیکورٹی تک محدود نہیں۔ دونوں ملک جغرافیہ، تجارت، قبائلی روابط، نقل مکانی، توانائی، ٹرانزٹ اور علاقائی رابطوں کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ اسی لیے مستقل کشیدگی کسی ایک فریق کے لیے سودمند نہیں ہو سکتی۔ ایک غیر مستحکم افغانستان پاکستان کے لیے مشکلات پیدا کرتا ہے، جبکہ پاکستان کے ساتھ مسلسل تناؤ افغانستان کی تجارت، علاقائی روابط اور معاشی امکانات کو بھی محدود کرتا ہے۔ اس پیچیدہ تعلق میں مسئلے کا پائیدار حل صرف سخت بیانات سے نہیں بلکہ ایسے عملی اقدامات سے نکل سکتا ہے جن کے نتائج زمین پر دکھائی دیں۔

اس پس منظر میں وزیراعظم کا لفظ ’’قابل تصدیق‘‘ خاص اہمیت رکھتا ہے۔ محض یہ اعلان کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، پاکستان کی نظر میں کافی نہیں۔ اسلام آباد عملی ثبوت چاہتا ہے کہ مطلوب افراد کے خلاف کارروائی ہو، عسکری ڈھانچے توڑے جائیں، سرحد پار نقل و حرکت روکی جائے اور ایسے عناصر کو مالی، تنظیمی یا لاجسٹک سہولت نہ ملے۔ اقوام متحدہ کی حالیہ گفتگو میں بھی افغانستان میں مختلف دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو علاقائی اور بین الاقوامی امن کے لیے باعث تشویش قرار دیا گیا ہے۔ 16 ستمبر 2026 کو افغانستان پر اقوام متحدہ کی بریفنگ میں بھی دہشت گرد تنظیموں کی مسلسل موجودگی کو ایک اہم مسئلہ بتایا گیا۔

یہاں پاکستان کے لیے بھی ایک اہم سفارتی ذمہ داری پیدا ہوتی ہے۔ اگر اسلام آباد عالمی برادری سے زیادہ فعال تعاون چاہتا ہے تو اسے ہر واقعے کے بارے میں قابل تصدیق شواہد، مالی روابط، نقل و حرکت کے راستوں اور تنظیمی ڈھانچوں سے متعلق معلومات متعلقہ بین الاقوامی اداروں کے سامنے مسلسل رکھنی ہوں گی۔ دہشت گردی کے خلاف مؤثر سفارت کاری صرف سخت زبان سے نہیں بلکہ ایسی دستاویزی معلومات سے مضبوط ہوتی ہے جو مختلف ممالک اور اداروں کو مشترکہ نتیجے تک پہنچنے میں مدد دے سکے۔

افغان حکام کے لیے بھی صورت حال معمولی نہیں۔ افغانستان کئی دہائیوں سے جنگ، سیاسی عدم استحکام، غربت اور انسانی بحران کا سامنا کرتا آیا ہے۔ اگر اس کی سرزمین سے ہمسایہ ممالک کے خلاف مسلح سرگرمیوں کے الزامات برقرار رہتے ہیں تو کابل کی بین الاقوامی قبولیت اور علاقائی معاشی انضمام مزید مشکل ہو سکتا ہے۔ اقوام متحدہ نے بھی افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی، انسانی حقوق اور خصوصاً خواتین اور لڑکیوں کی صورت حال کو مسلسل اہم بین الاقوامی تشویش قرار دیا ہے۔

اسی لیے جنرل اسمبلی میں دیا گیا پاکستانی پیغام صرف کابل اور اسلام آباد کے باہمی تعلقات کا معاملہ نہیں۔ اس کا تعلق پورے خطے کے مستقبل سے ہے۔ وسطی اور جنوبی ایشیا کے درمیان تجارت، توانائی کے منصوبے، ٹرانزٹ کوریڈور اور علاقائی سرمایہ کاری اسی وقت پائیدار ہو سکتی ہے جب افغانستان ایک ایسی سرزمین بنے جہاں سے کسی ہمسایہ ملک کے خلاف مسلح کارروائیاں منظم نہ ہوں۔

وزیراعظم شہباز شریف کے خطاب کا بنیادی نکتہ یہی تھا کہ پاکستان اب وعدوں سے بڑھ کر قابل مشاہدہ نتائج چاہتا ہے۔ پاکستان کا سرکاری مؤقف واضح ہے کہ سرحد پار حملوں کا سلسلہ ختم ہونا چاہیے، محفوظ پناہ گاہوں کے الزامات کا عملی جواب سامنے آنا چاہیے اور افغان حکام اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے مطابق ایسی کارروائی کریں جس کی تصدیق کی جا سکے۔

آخرکار پاکستان اور افغانستان دونوں کے مفاد میں ایک ایسا انتظام ہے جس میں دہشت گردی کے خلاف تعاون، مؤثر سرحدی رابطہ، انٹیلی جنس تبادلہ اور سفارتی مکالمہ ایک ساتھ آگے بڑھیں۔ فوجی یا سفارتی دباؤ وقتی اثر پیدا کر سکتا ہے، مگر دیرپا استحکام کے لیے اعتماد اور قابل تصدیق عمل ضروری ہے۔ نیویارک میں دیا گیا پیغام اسی بنیادی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ افغانستان کی سرزمین کا مستقبل صرف افغانستان کا داخلی معاملہ نہیں رہ سکتا جب وہاں سے پیدا ہونے والے سیکورٹی خطرات سرحدوں کو عبور کرتے ہوں۔ خطے میں امن کی بنیاد وعدوں سے نہیں بلکہ ذمہ داری، شفافیت اور ایسے عملی اقدامات سے پڑے گی جن کے نتائج پاکستان، افغانستان اور عالمی برادری سب دیکھ سکیں۔

Author

اوپر تک سکرول کریں۔