افغانستان کی موجودہ صورتِ حال اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ طاقت کے زور پر قائم کیا گیا کوئی بھی نظام دیرپا استحکام پیدا نہیں کر سکتا۔ ریاست صرف بندوق، خوف اور پابندیوں سے نہیں چلتی بلکہ اس کے لیے عوامی اعتماد، سیاسی وسعت، معاشی سہارا اور سماجی انصاف ناگزیر ہوتے ہیں۔ طالبان حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد جس اندازِ حکمرانی کو اختیار کیا، اس نے افغان معاشرے کو سکون دینے کے بجائے مزید اضطراب، تقسیم اور بے یقینی کی طرف دھکیل دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج ملک کے مختلف حصوں میں ابھرنے والی مزاحمتی آوازیں محض وقتی ردِعمل نہیں بلکہ ایک گہری اجتماعی بے زاری کا اظہار بن چکی ہیں۔ یہ مزاحمت طالبان حکومت کے لیے صرف ایک عسکری مسئلہ نہیں بلکہ اس کے سیاسی جواز، انتظامی صلاحیت اور سماجی قبولیت کے لیے ایک سنگین چیلنج بن چکی ہے۔
طالبان کی سب سے بڑی ناکامی یہ رہی کہ انہوں نے افغانستان کو ایک متنوع سماج اور پیچیدہ ریاست کے طور پر سمجھنے کے بجائے اسے ایک ایسے میدان کے طور پر لیا جہاں یکطرفہ حکم، نظریاتی سختی اور عسکری نظم کے ذریعے سب کچھ قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔ مگر افغانستان کے حالات، اس کی تاریخ اور اس کے عوام کی نفسیات اس سوچ کو کبھی قبول نہیں کر سکتے تھے۔ جب عوام سے ان کی آواز چھین لی جائے، خواتین کو گھروں تک محدود کر دیا جائے، تعلیم پر قدغن لگے، صحافت کو دبایا جائے، اختلافِ رائے کو جرم بنا دیا جائے اور قومی معاملات کو محدود سوچ کے تابع کر دیا جائے تو پھر معاشرے میں خاموشی نہیں بلکہ اندر ہی اندر غصہ پیدا ہوتا ہے۔ یہی غصہ وقت کے ساتھ مزاحمت میں ڈھلتا ہے، اور افغانستان میں آج اسی تبدیلی کا مشاہدہ کیا جا رہا ہے۔
یہ بات اب پہلے سے زیادہ واضح ہو رہی ہے کہ طالبان کی حکومت صرف عسکری طاقت کے ذریعے اپنی موجودگی برقرار رکھنا چاہتی ہے، مگر عوامی زندگی کے حقیقی مسائل کے حل میں اس کی کارکردگی نہایت کمزور ہے۔ معاشی بحران نے عام افغان شہری کی زندگی کو انتہائی دشوار بنا دیا ہے۔ روزگار کے مواقع محدود ہو چکے ہیں، سرمایہ کاری تقریباً ختم ہو چکی ہے، خوراک کی قلت ایک مستقل مسئلہ بنتی جا رہی ہے، صحت اور تعلیم کی سہولیات کمزور پڑ رہی ہیں، اور عوام کے لیے مستقبل کی کوئی امید دکھائی نہیں دیتی۔ اس سارے منظرنامے میں سب سے زیادہ متاثر وہ عام لوگ ہیں جن کے نام پر ہر حکومت اپنے وعدے کرتی ہے، مگر عملی طور پر انہیں صرف مشکلات، خوف اور محرومی ملتی ہے۔ جب معاشی بدحالی سیاسی جبر سے مل جائے تو ریاست اور عوام کے درمیان فاصلہ مزید بڑھ جاتا ہے، اور یہی فاصلہ مزاحمتی فضا کو جنم دیتا ہے۔
نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کی حالیہ سرگرمیوں نے اس صورتِ حال کو ایک نئی معنویت دی ہے۔ ایک سال کے دوران مختلف علاقوں میں کی جانے والی کارروائیاں اس بات کا اشارہ ہیں کہ طالبان کے خلاف ناراضی منظم صورت اختیار کر رہی ہے۔ دارالحکومت کابل میں بار بار ہونے والی کارروائیاں خاص طور پر اس پہلو کو نمایاں کرتی ہیں کہ مزاحمت اب صرف دور افتادہ علاقوں یا مخصوص جغرافیائی پٹی تک محدود نہیں رہی۔ جب کسی حکومت کو اپنے مرکز میں بھی چیلنج کا سامنا ہو تو اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اس کے اقتدار کی بنیادیں اتنی مضبوط نہیں رہیں جتنی وہ ظاہر کرنا چاہتی ہے۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ پنج شیر، بدخشان، ہرات، بلخ اور دیگر صوبوں میں مزاحمتی سرگرمیوں کا پھیلاؤ ایک ایسے داخلی دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے جو وقت گزرنے کے ساتھ طالبان کے لیے مزید مشکل صورت اختیار کر سکتا ہے۔
طالبان حکومت کی پریشانی کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ مزاحمت صرف بندوق کی زبان میں بات نہیں کر رہی بلکہ اس کے پیچھے ایک سیاسی اور سماجی حقیقت بھی موجود ہے۔ افغان عوام کی بڑی تعداد خود کو ریاستی فیصلوں سے کٹا ہوا محسوس کرتی ہے۔ انہیں نہ حکومتی عمل میں شریک کیا گیا، نہ ان کی ترجیحات سنی گئیں، نہ ان کے بنیادی حقوق کا تحفظ کیا گیا۔ ایسی حالت میں مزاحمتی تحریکیں عوام کے لیے صرف ایک عسکری قوت نہیں رہتیں بلکہ وہ ایک نفسیاتی سہارا بھی بن جاتی ہیں۔ یہ احساس کہ جبر کے خلاف کوئی قوت موجود ہے، طالبان کے لیے ایک بڑی پریشانی ہے، کیونکہ اس سے ان کے خوف پر مبنی نظام کی گرفت کمزور پڑتی ہے۔
طالبان کی حکمرانی کا دوسرا خطرناک پہلو یہ ہے کہ اس نے افغانستان کو ایک بار پھر بین الاقوامی تنہائی کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی ذمہ دار ملک یا ادارہ ایک ایسی حکومت کو مکمل قبولیت نہیں دے سکتا جو انسانی حقوق، خواتین کی آزادی، تعلیم، اظہارِ رائے اور سیاسی شمولیت جیسے بنیادی اصولوں کو نظر انداز کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کی سرزمین پر سرگرم مختلف شدت پسند اور دہشت گرد عناصر کے بارے میں مسلسل پائے جانے والے تحفظات نے طالبان حکومت کے بارے میں عالمی بداعتمادی کو اور گہرا کیا ہے۔ یہ صورتِ حال افغانستان کے لیے دوہرا نقصان پیدا کر رہی ہے: ایک طرف ملک اندر سے کمزور ہو رہا ہے، دوسری طرف باہر سے اسے اعتماد، تعاون اور معاشی سہارا نہیں مل پا رہا۔
اصل مسئلہ یہ ہے کہ طالبان اب بھی طاقت کو حل سمجھتے ہیں، حالانکہ طاقت صرف وقتی خاموشی پیدا کر سکتی ہے، پائیدار امن نہیں۔ امن اس وقت قائم ہوتا ہے جب حکومت عوام کو اپنا سمجھے، ان کے حقوق تسلیم کرے، اختلاف کو دشمنی نہ سمجھے، خواتین کو معاشرے کا فعال حصہ مانے، نوجوانوں کو امید دے اور ریاستی اداروں کو انتقام یا نظریاتی جبر کے بجائے فلاح و انصاف کا ذریعہ بنائے۔ افغانستان کو آج ایک ایسی قیادت کی ضرورت ہے جو اسے خوف کے دائرے سے نکال کر سیاسی مفاہمت، معاشی بحالی اور سماجی ہم آہنگی کی طرف لے جائے۔ لیکن طالبان کی موجودہ روش اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے، اسی لیے مزاحمت بڑھ رہی ہے اور حکومت کی بے چینی میں اضافہ ہو رہا ہے۔
اگر طالبان واقعی افغانستان میں استحکام چاہتے ہیں تو انہیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ عوام کو نظر انداز کر کے کوئی حکومت محفوظ نہیں رہ سکتی۔ انہیں اپنی پالیسیوں میں بنیادی تبدیلی لانا ہوگی، سیاسی کشادگی اختیار کرنا ہوگی، بنیادی انسانی حقوق بحال کرنا ہوں گے، خواتین اور بچیوں کی تعلیم پر عائد پابندیاں ختم کرنا ہوں گی، میڈیا اور شہری آزادیوں کو بحال کرنا ہوگا، اور سب سے بڑھ کر افغانستان کی سرزمین کو دہشت گرد تنظیموں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بننے سے روکنا ہوگا۔ بصورتِ دیگر، مزاحمت کی موجودہ لہر مزید شدت اختیار کرے گی، داخلی بحران گہرا ہوگا، اور طالبان حکومت کی بوکھلاہٹ اس کے اپنے وجود کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن جائے گی۔ افغانستان کے عوام اب صرف خاموشی سے حالات برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں؛ وہ یہ پیغام دے رہے ہیں کہ جبر کا ہر نظام بالآخر عوامی ردِعمل کے سامنے کمزور پڑ جاتا ہے۔
Author
-
View all posts
ڈاکٹر مجدد نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں۔ وہ تین ماسٹرز ڈگریوں اور اسٹریٹجک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کے حامل ہیں۔ وہ پاکستان ایئر فورس میں ۳۳ سال خدمات انجام دینے والے سابق کمیشنڈ آفیسر بھی رہ چکے ہیں۔