بھارتی فوج کے سابق میجر گورو آریا کا حالیہ بیان اس اعتبار سے اہم ہے کہ اس نے وہ بات کہہ دی جس کی جانب پاکستان اور آزاد کشمیر کے مختلف سیاسی و دفاعی حلقے طویل عرصے سے اشارہ کرتے رہے ہیں۔ گورو آریا نے دعویٰ کیا کہ آزاد کشمیر میں بعض افراد اور گروپس بھارت کے ساتھ رابطے میں ہیں، وہ "صحیح اشارے” کے منتظر ہیں، اور اگر انہیں مناسب معاونت دی جائے تو آزاد کشمیر میں بڑے پیمانے پر "نتائج” حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ بیان محض ایک ریٹائرڈ افسر کی رائے نہیں بلکہ ایک ایسے طرزِ فکر کی عکاسی کرتا ہے جو خطے میں اثر و رسوخ بڑھانے کی کوششوں سے منسلک سمجھا جاتا ہے۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے واقعات کو ایک ربط میں دیکھا جائے۔ 2021 سے بھارتی خفیہ ایجنسی را (RAW) سے متعلق مختلف الزامات سامنے آتے رہے ہیں جن میں پاکستان کے اندر خفیہ سرگرمیوں اور بعض افراد کو نشانہ بنانے کے دعوے شامل ہیں۔ یہ الزامات صرف سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہے بلکہ کینیڈا سمیت مختلف ممالک میں بھی بھارتی سرگرمیوں سے متعلق سوالات اٹھائے گئے ہیں۔
بھارتی میڈیا اور بعض ریاستی اداروں پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ آزاد کشمیر کے بارے میں مخصوص بیانیے تشکیل دیتے ہیں۔ مختلف بین الاقوامی میڈیا اداروں نے بھی وقتاً فوقتاً معلوماتی جنگ اور ڈیجیٹل پروپیگنڈا سے متعلق رپورٹس شائع کی ہیں۔ اس تناظر میں یہ مؤقف پیش کیا جاتا ہے کہ ایک جانب عوامی رائے کو متاثر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور دوسری جانب مخصوص عناصر کو مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
آزاد کشمیر میں ستمبر تا اکتوبر 2025 کے دوران ہونے والے احتجاج بنیادی طور پر عوامی مسائل، سرکاری مراعات اور ہائیڈرو پاور رائلٹی جیسے مطالبات سے متعلق تھے۔ تاہم ایسے حالات میں بیرونی عناصر کی جانب سے سیاسی یا سماجی بے چینی سے فائدہ اٹھانے کے خدشات بھی زیر بحث آتے رہے ہیں۔ اسی طرح مہاجرین کی بارہ نشستوں سے متعلق تنازع نے بھی سیاسی ماحول کو متاثر کیا۔
گورو آریا کا بیان بعض مبصرین کے نزدیک اس حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جسے ہائبرڈ وار یا ہمہ جہت جنگ کہا جاتا ہے۔
اس تصور کے مطابق پہلے معاشرے کے اندر مخصوص حلقوں کی نشاندہی کی جاتی ہے، پھر انہیں مالی، سیاسی یا نظریاتی بنیادوں پر متاثر کیا جاتا ہے، اور بعد ازاں ان کے ذریعے مطلوبہ مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ 2019 میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد کشمیر کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہوا، جسے پاکستان اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تناظر میں دیکھتا ہے۔
مئی 2025 کے فوجی تصادم اور بعد ازاں ہونے والی جنگ بندی کے باوجود خطے میں کشیدگی کے اثرات مکمل طور پر ختم نہیں ہوئے۔ اس پس منظر میں گورو آریا کا بیان ایک اہم سیاسی اور سفارتی موضوع بن جاتا ہے جس پر مزید غور کی ضرورت ہے۔
آزاد کشمیر کے عوام تاریخی طور پر سیاسی شعور اور حساسیت رکھتے ہیں۔ انہوں نے مختلف ادوار میں اپنے سیاسی اور سماجی مفادات کے تحفظ کے لیے آواز بلند کی ہے۔ یہی شعور خطے کے استحکام اور ترقی کے لیے اہم سرمایہ ہے۔
ریاست پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ عوامی مسائل کے حل، شفاف طرزِ حکمرانی اور مؤثر معلوماتی حکمت عملی پر توجہ دیں تاکہ کسی بھی بیرونی یا اندرونی مداخلت کے امکانات کم سے کم رہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قانون کی حکمرانی اور آئینی عملداری کو مزید مضبوط بنانا بھی ناگزیر ہے۔
گورو آریا کے بیان نے ایک نئی بحث کو جنم دیا ہے۔ پاکستان کے لیے یہ موقع ہے کہ وہ اس معاملے کو سفارتی سطح پر اجاگر کرے، اپنے مؤقف کو مؤثر انداز میں پیش کرے، اور قومی یکجہتی و ادارہ جاتی مضبوطی کے ذریعے ہر قسم کے چیلنج کا مقابلہ کرے۔
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔
Author
-
View all postsانیس الرحمٰن ایک مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو اس وقت پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اردو میں وہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر ان موضوعات پر بصیرت انگیز تجزیے لکھتے ہیں۔ ای میل: