Nigah

فریب کا بیانیہ اور ریاستی وحدت کا تقاضا

[post-views]

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں اختلافِ رائے ہمیشہ موجود رہا ہے، اور یہی جمہوری معاشروں کی پہچان بھی ہے۔ مگر اختلافِ رائے اور ریاستی ڈھانچے کو کمزور کرنے والی منظم مہم کے درمیان ایک واضح لکیر موجود ہوتی ہے۔ جب کوئی تحریک عوامی مسائل کے نام پر ریاستی اداروں، آئینی حدود، قومی سلامتی اور معاشی شراکت داریوں کو مسلسل نشانہ بنانا شروع کر دے تو پھر معاملہ محض سیاسی تنقید کا نہیں رہتا بلکہ قومی وحدت، داخلی استحکام اور ریاستی خودمختاری سے جڑ جاتا ہے۔ پی ٹی ایم کے حالیہ بیانیے کو بھی اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے، خاص طور پر اس وقت جب بیرونِ ملک بیٹھے حلقے پاکستان کے اندرونی معاملات کو عالمی فورمز پر اس انداز سے پیش کرتے ہیں جیسے یہ ملک اپنے ہی شہریوں کے خلاف کھڑا ہو۔

سب سے پہلے اس دعوے کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ پاکستان کی مختلف قومیتیں کسی مشترکہ جبر کا شکار “محکوم اقوام” ہیں۔ یہ بیانیہ زمینی حقیقت کو مسخ کرتا ہے۔ پشتون، بلوچ، سندھی، سرائیکی، پنجابی، کشمیری، گلگتی اور دیگر تمام اکائیاں پاکستان کے وجود، سیاست، معیشت، دفاع، عدلیہ، بیوروکریسی، تعلیم اور ثقافت کا بنیادی حصہ ہیں۔ یہ لوگ ریاست سے باہر نہیں بلکہ ریاست کے اندر فیصلہ سازی کے عمل میں شامل ہیں۔ پاکستان کی پارلیمان، صوبائی اسمبلیاں، فوج، سول سروس، جامعات، میڈیا اور کاروباری ادارے انہی قومیتوں کے باصلاحیت افراد سے بھرے ہوئے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا کہ یہ سب اکائیاں کسی ایک مصنوعی جبر کے تحت الگ الگ قومیں بن کر ریاست کے مقابل کھڑی ہیں، ایک خطرناک سیاسی مغالطہ ہے۔ مسائل ضرور موجود ہیں، محرومیاں بھی ہیں، مگر ان کا حل آئینی اصلاح، سیاسی شرکت اور ترقیاتی انصاف میں ہے، نہ کہ نفرت انگیز تقسیم میں۔

پی ٹی ایم کے بیانیے کا دوسرا اہم پہلو سکیورٹی اقدامات کو متنازع بنانا ہے۔ پاکستان کے مغربی سرحدی علاقے کئی دہائیوں سے دہشت گردی، سرحد پار حملوں، شدت پسند پناہ گاہوں، اسمگلنگ نیٹ ورکس اور غیر ملکی مداخلت کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں ریاست اگر سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس آپریشنز، چیک پوسٹس یا حساس اقتصادی منصوبوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کرتی ہے تو اسے مقامی آبادی کے خلاف جبر قرار دینا انصاف نہیں۔ یہ اقدامات شہریوں، مزدوروں، تاجروں، اسکولوں، بازاروں، سڑکوں اور قومی اثاثوں کے تحفظ کے لیے کیے جاتے ہیں۔ سی پیک جیسے منصوبے پاکستان کی اقتصادی خودمختاری اور علاقائی رابطہ کاری کے لیے اہم ہیں۔ ان منصوبوں کو نسلی سیاست کی عینک سے دیکھنا دراصل اُن قوتوں کے مفاد میں جاتا ہے جو پاکستان کی معاشی ترقی کو روکنا چاہتی ہیں۔

ریاستی اداروں کو “نوآبادیاتی” کہنا بھی ایک غیر ذمہ دارانہ طرزِ فکر ہے۔ پاکستان کوئی بیرونی سلطنت نہیں بلکہ ایک آئینی ریاست ہے، جس میں منتخب پارلیمان، عدالتیں، صوبائی حکومتیں، مقامی نمائندے اور قانونی ادارے موجود ہیں۔ ریاستی طاقت کا استعمال قانون کے تابع ہونا چاہیے، اور جہاں زیادتی ہو وہاں احتساب بھی ہونا چاہیے۔ مگر پورے ریاستی ڈھانچے کو غاصب یا قابض قرار دینا نہ صرف غلط ہے بلکہ عوام کو آئینی راستے سے ہٹا کر تصادم کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔ سکیورٹی فورسز نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں۔ ان قربانیوں کو نظر انداز کر کے صرف یک طرفہ الزامات دہرانا ایک منصفانہ سیاسی رویہ نہیں۔

آزادیٔ اظہار ہر شہری کا حق ہے، مگر یہ حق مطلق نہیں۔ کوئی بھی آئینی ریاست ایسی سرگرمیوں کو برداشت نہیں کرتی جو عوامی امن، قومی سلامتی، ریاستی سالمیت یا شہریوں کی جان و مال کو خطرے میں ڈالیں۔ سیاسی جماعتیں اور تحریکیں تنقید کر سکتی ہیں، احتجاج کر سکتی ہیں، مطالبات رکھ سکتی ہیں، مگر انہیں قانون کے دائرے میں رہنا پڑتا ہے۔ اگر کوئی تنظیم ریاستی رٹ کو چیلنج کرے، پابندیوں کو نظر انداز کرے، اشتعال انگیز زبان استعمال کرے یا ایسے عناصر کے ساتھ فکری قربت ظاہر کرے جو پاکستان کے خلاف سرگرم ہیں، تو ریاست کا ردِعمل قانون کی حکمرانی کا حصہ بن جاتا ہے۔ جمہوریت کا مطلب انتشار نہیں، بلکہ ذمہ دارانہ آزادی ہے۔

پی ٹی ایم کے بیرونِ ملک پلیٹ فارمز کا کردار بھی سوالات کو جنم دیتا ہے۔ بیرونِ ملک بیٹھ کر پاکستان کے خلاف سیمینارز، سوشل میڈیا مہمات اور احتجاجی سرگرمیاں چلانا آسان ہے، کیونکہ وہاں موجود افراد کو ان علاقوں کے روزمرہ خطرات کا براہِ راست سامنا نہیں ہوتا جہاں دہشت گردی نے خاندانوں، بازاروں اور تعلیمی اداروں کو نشانہ بنایا۔ بعض مالی معاونت، بیرونی رابطوں اور غیر ملکی لابیز سے متعلق الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ ایسے معاملات کو جذباتی نعروں کے بجائے شفاف اور قانونی تحقیقات کے ذریعے دیکھا جانا چاہیے۔ اگر کوئی بھی سیاسی تحریک واقعی مقامی عوام کی نمائندہ ہے تو اسے اپنے مالی ذرائع، بیرونی رابطوں اور سیاسی ایجنڈے میں مکمل شفافیت دکھانی چاہیے۔

اس بیانیے کی سب سے بڑی خامی یہ ہے کہ یہ دہشت گردی کے اصل مسئلے پر خاموش رہتا ہے۔ پاکستان کے قبائلی اور سرحدی علاقوں میں سب سے زیادہ نقصان عام پشتون شہریوں نے اٹھایا۔ ان کے بازار تباہ ہوئے، اسکول بند ہوئے، مشران نشانہ بنے، پولیس اہلکار شہید ہوئے، مساجد اور جرگے حملوں کا شکار ہوئے۔ اگر کوئی تحریک واقعی پشتون حقوق کی علم بردار ہے تو اسے سب سے پہلے دہشت گردی، شدت پسندی اور سرحد پار پناہ گاہوں کے خلاف واضح مؤقف اختیار کرنا چاہیے۔ مگر جب سارا غصہ ریاست پر ہو اور دہشت گردی کے نیٹ ورکس پر خاموشی اختیار کی جائے تو یہ سوال لازمی اٹھتا ہے کہ بیانیے کا رخ کس کے مفاد میں ہے۔

ریاست کی کارکردگی پر تنقید کی جا سکتی ہے، مگر ریاست کی اصلاحی کوششوں کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا بھی ناانصافی ہے۔ قبائلی اضلاع کا آئینی انضمام ایک تاریخی قدم تھا۔ عدالتوں، پولیس، انتظامی ڈھانچے، ترقیاتی منصوبوں، سڑکوں، اسکولوں، صحت مراکز اور بازاروں کی بحالی کا عمل آسان نہیں تھا، مگر یہ عمل جاری ہے۔ بے گھر افراد کی واپسی، بحالی، معاوضے، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور نوجوانوں کو قومی دھارے میں لانے کے لیے کئی اقدامات کیے گئے۔ ان اقدامات میں خامیاں ہو سکتی ہیں، رفتار کم ہو سکتی ہے، مگر انہیں “قبضے” یا “استحصال” کا نام دینا حقائق کو جھٹلانے کے برابر ہے۔

پاکستان کو آج ایسے سیاسی رویے کی ضرورت ہے جو شکایات کو نفرت میں نہ بدلے، حقوق کو بغاوت کا عنوان نہ دے، اور اصلاح کو ریاست دشمنی سے الگ رکھے۔ جو لوگ واقعی عوام کے خیر خواہ ہیں، وہ آئینی راستہ اختیار کرتے ہیں، عدالتوں سے رجوع کرتے ہیں، پارلیمانی سیاست میں حصہ لیتے ہیں، مقامی حکومتوں کو مضبوط کرتے ہیں اور ترقیاتی انصاف کا مطالبہ کرتے ہیں۔ لیکن جو لوگ بیرونی پلیٹ فارمز پر ملک کو بدنام کر کے اپنی سیاست چمکاتے ہیں، وہ عوامی درد کو سیاسی ہتھیار بنا دیتے ہیں۔ پاکستان کا جواب نہ اندھی سختی ہونا چاہیے نہ کمزوری؛ جواب ہونا چاہیے قانون کی بالادستی، قومی وحدت، دہشت گردی کے خلاف غیر متزلزل عزم، اور ہر محروم علاقے کے لیے تیز رفتار ترقی۔ یہی وہ راستہ ہے جو فریب کے بیانیے کو شکست دے سکتا ہے اور پاکستان کو مضبوط، متحد اور پُرامن بنا سکتا ہے۔

Author

  • ڈاکٹر ظہیرال خان

    ظہیرال خان ایک مضبوط تعلیمی اور پیشہ ورانہ پس منظر کے ساتھ، وہ بین الاقوامی تعلقات میں مہارت رکھتا ہے اور بڑے پیمانے پر سیکورٹی اور اسٹریٹجک امور کے ماہر کے طور پر پہچانا جاتا ہے۔

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔