پاکستان میں غیر قانونی “ڈنکی” ہجرت ایک سنگین سماجی، انسانی اور قومی مسئلہ بن چکی ہے۔ بے روزگاری، غربت، معاشی دباؤ اور بیرونِ ملک بہتر روزگار کی خواہش بہت سے نوجوانوں کو ایسے راستوں کی طرف دھکیل دیتی ہے جو بظاہر آسان دکھائی دیتے ہیں مگر حقیقت میں موت، ذلت، قید، قرض اور تباہی کا باعث بنتے ہیں۔ انسانی اسمگلر اسی مجبوری، بے چینی اور امید کا فائدہ اٹھاتے ہیں۔ وہ نوجوانوں اور ان کے خاندانوں کو یورپ پہنچانے کے جھوٹے وعدے کرتے ہیں، لاکھوں نہیں بلکہ کروڑوں روپے وصول کرتے ہیں، اور پھر انہیں ایسے خطرناک زمینی اور سمندری راستوں پر چھوڑ دیتے ہیں جہاں انسان کی جان، عزت اور آزادی سب کچھ خطرے میں پڑ جاتا ہے۔
“ڈنکی” کا راستہ کسی کامیابی کی ضمانت نہیں بلکہ منظم جرائم پیشہ گروہوں کا پھیلایا ہوا جال ہے۔ اسمگلنگ ایجنٹ اکثر یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ چند ہفتوں میں یورپ پہنچا دیا جائے گا، مگر حقیقت اس کے بالکل برعکس ہوتی ہے۔ پاکستان سے نکلنے کے بعد بیشتر افراد مختلف ملکوں میں غیر قانونی راستوں سے گزارے جاتے ہیں، ان کے پاسپورٹ، موبائل فون اور رقم چھین لی جاتی ہے، اور وہ اسمگلروں کے رحم و کرم پر رہ جاتے ہیں۔ کئی افراد کو ایک گروہ دوسرے گروہ کے ہاتھ فروخت کر دیتا ہے۔ یوں ایک نوجوان جو گھر سے مستقبل بنانے کے خواب کے ساتھ نکلتا ہے، وہ قیدی، مزدور یا تاوان کا ذریعہ بن کر رہ جاتا ہے۔
لیبیا اس غیر قانونی راستے کا سب سے خطرناک مقام بن چکا ہے۔ بہت سے پاکستانی یورپ پہنچنے کے لیے لیبیا کے راستے بحیرہ روم عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن وہاں پہنچ کر وہ حراستی مراکز، نجی جیلوں، ملیشیا گروہوں اور انسانی اسمگلنگ نیٹ ورکس کے قبضے میں آ جاتے ہیں۔ زندہ واپس آنے والے افراد کے بیانات کے مطابق انہیں تشدد، مار پیٹ، بجلی کے جھٹکوں، بھوک، جبری مشقت، جنسی تشدد، بیماریوں اور انتہائی غیر انسانی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کئی خاندان پاکستان میں بیٹھے اپنے پیاروں کی چیخیں فون پر سنتے ہیں اور مزید تاوان ادا کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ گھر والے پہلے ہی زمین، زیور، جمع پونجی یا قرض کے ذریعے تیس سے ساٹھ لاکھ روپے ادا کر چکے ہوتے ہیں، مگر اسمگلر پھر بھی مزید رقم کا مطالبہ کرتے رہتے ہیں۔
سمندری سفر اس المیے کو مزید خوفناک بنا دیتا ہے۔ لیبیا سے یورپ جانے والی کشتیاں عموماً خستہ حال، غیر محفوظ اور حد سے زیادہ بھری ہوئی ہوتی ہیں۔ ان میں نہ مناسب ایندھن ہوتا ہے، نہ حفاظتی سامان، نہ تربیت یافتہ عملہ اور نہ ہی زندگی بچانے کا کوئی قابلِ اعتماد انتظام۔ یہی وجہ ہے کہ بحیرہ روم اور یونان کے قریب کئی بڑے حادثات میں سینکڑوں پاکستانی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ دو ہزار تئیس میں یونان کے قریب ایڈریانا کشتی حادثہ پاکستانی قوم کے لیے ایک گہرا زخم تھا، جس میں بڑی تعداد میں پاکستانی نوجوان جاں بحق ہوئے۔ دو ہزار پچیس میں بھی بحیرہ روم کے مختلف حادثات میں کئی پاکستانیوں کی اموات ہوئیں۔ یہ حادثات محض اتفاق نہیں بلکہ غیر قانونی ہجرت کے اسی ظالمانہ کاروبار کا نتیجہ ہیں جس میں انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں ہوتی۔
دو ہزار چھبیس میں لیبیا سے پاکستانی شہریوں کی واپسی نے ایک بار پھر اس بحران کی سنگینی کو واضح کر دیا۔ فروری میں تریس افراد کو طرابلس کے تاجورہ حراستی مرکز سے پاکستانی سفارت خانے اور بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کی مدد سے وطن واپس لایا گیا۔ مئی میں ایک اور خصوصی کارروائی کے ذریعے بن غازی اور طرابلس کے حراستی مراکز سے تقریباً ایک سو ستتر پاکستانیوں کو خصوصی پرواز کے ذریعے واپس لایا گیا۔ ان میں سے اکثر وہ افراد تھے جو انسانی اسمگلروں کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے مگر لیبیائی حکام نے انہیں روک لیا۔ یہ واقعات صاف بتاتے ہیں کہ غیر قانونی راستہ موقع نہیں بلکہ تباہی ہے، اور اسمگلروں کے وعدے حقیقت میں جھوٹ، دھوکہ اور استحصال کے سوا کچھ نہیں۔
اس سفر کے اثرات صرف فرد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے خاندان کو تباہ کر دیتے ہیں۔ جب کوئی نوجوان غیر قانونی راستے سے بیرونِ ملک جانے کے لیے گھر سے نکلتا ہے تو اس کے والدین، بہن بھائی، بیوی بچے اور رشتہ دار سب ایک مسلسل اذیت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ پہلے لاکھوں روپے کا بندوبست کیا جاتا ہے، پھر راستے میں تاوان کے مطالبات آتے ہیں، پھر گرفتاری یا لاپتہ ہونے کی خبر ملتی ہے، اور آخر میں یا تو میت واپس آتی ہے، یا زخمی، بیمار اور ذہنی طور پر ٹوٹا ہوا انسان۔ بہت سے واپس آنے والے افراد جسمانی زخموں، انفیکشن، غذائی کمی، خوف، بے خوابی، ڈپریشن اور شدید ذہنی صدمے کا شکار ہوتے ہیں۔ ان کے لیے دوبارہ معمول کی زندگی شروع کرنا آسان نہیں ہوتا۔
قانونی اعتبار سے بھی غیر قانونی ہجرت سنگین نتائج رکھتی ہے۔ پکڑے جانے والے افراد کو حراست، ملک بدری، تفتیش اور ممکنہ قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ معاشرے میں بدنامی الگ ہوتی ہے اور مستقبل میں قانونی طور پر بیرونِ ملک جانے کے مواقع بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔ قومی سطح پر یہ مسئلہ پاکستان کی ساکھ کو نقصان پہنچاتا ہے اور بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو مضبوط کرتا ہے۔ انسانی اسمگلنگ اکثر مالی جرائم، جعلی دستاویزات، منشیات، بھتہ خوری اور دیگر سنگین جرائم سے جڑی ہوتی ہے۔ اس لیے یہ صرف ایک فرد کا ذاتی فیصلہ نہیں بلکہ قومی سلامتی اور معاشرتی استحکام کا مسئلہ بھی ہے۔
پاکستان نے اس خطرے سے نمٹنے کے لیے قابلِ ذکر اقدامات کیے ہیں۔ وفاقی تحقیقاتی ادارے، یعنی ایف آئی اے، نے انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی ہجرت کے خلاف اپنی کارروائیوں کو مضبوط کیا ہے۔ ہوائی اڈوں پر بایومیٹرک تصدیق، دوسری سطح کی جانچ، خطرات کے تجزیے کے یونٹس، مرکزی نگرانی کے نظام، مغربی سرحدی گزرگاہوں کی نشاندہی، بیرونِ ملک رابطہ دفاتر، جدید ڈیٹا بیسز سے رابطہ کاری اور افسران کی تربیت جیسے اقدامات اس بات کا ثبوت ہیں کہ ریاست اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ دو ہزار پچیس میں غیر قانونی طور پر یورپ جانے کی کوششوں میں نمایاں کمی، انسانی اسمگلروں کی بڑی تعداد میں گرفتاریاں اور سرحدی و ہوائی اڈوں پر بڑھتی ہوئی روک تھام اسی مضبوط حکمتِ عملی کا نتیجہ ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ متاثرہ افراد کی مدد بھی ضروری ہے۔ تفتان سمیت مختلف استقبالی مراکز نے واپس آنے والے ہزاروں پاکستانیوں کی مدد کی ہے، جبکہ لاہور، اسلام آباد اور پشاور کے ہوائی اڈوں پر قائم ڈیسک واپس آنے والے تارکینِ وطن کو رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ پاکستانی سفارت خانے، وزارتِ خارجہ، ایف آئی اے اور بین الاقوامی ادارے ایسے افراد کی محفوظ واپسی اور قانونی مدد کے لیے کردار ادا کر رہے ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف متاثرین کو سہارا دیتے ہیں بلکہ عوام کو یہ پیغام بھی دیتے ہیں کہ ریاست اپنے شہریوں کو اسمگلروں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑے گی۔
اصل حل قانونی اور محفوظ ہجرت میں ہے۔ جو نوجوان بیرونِ ملک جانا چاہتے ہیں، انہیں شارٹ کٹ کے بجائے ہنر، تعلیم، زبان، سرٹیفیکیشن اور قانونی ویزا راستوں پر توجہ دینی چاہیے۔ دنیا کو نرسز، انجینئرز، آئی ٹی ماہرین، ٹیکنیشنز، ڈرائیورز، دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں اور دیگر ہنرمند افراد کی ضرورت ہے۔ قانونی راستہ وقت لیتا ہے مگر عزت، تحفظ اور مستقبل دیتا ہے۔ اس کے برعکس “ڈنکی” راستہ جان، مال، عزت اور خاندان سب کچھ خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ کسی بھی ایجنٹ کو رقم دینے سے پہلے اس کی تصدیق سرکاری اداروں کے ذریعے لازم ہونی چاہیے۔ غیر تصدیق شدہ ایجنٹ، جھوٹے وعدے اور خفیہ راستے ہمیشہ خطرے کی علامت ہیں۔
ذرائع ابلاغ، علما، اساتذہ، والدین اور مقامی رہنماؤں کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو اس تباہ کن راستے سے بچائیں۔ میڈیا کو چاہیے کہ وہ متاثرین کی کہانیاں سنسنی خیزی کے بغیر، عزت اور ہمدردی کے ساتھ سامنے لائے، انسانی اسمگلروں کے جھوٹ بے نقاب کرے، قانونی ہجرت کے راستے بتائے اور عوامی شعور بیدار کرے۔ ہر گاؤں، قصبے اور شہر میں یہ پیغام پہنچنا چاہیے کہ “ڈنکی” بہادری نہیں، خودکشی کے مترادف خطرہ ہے۔ مستقبل وہی محفوظ ہے جو قانون، محنت، مہارت اور درست فیصلے پر قائم ہو۔ پاکستان کے نوجوانوں کو اسمگلروں کے دھوکے نہیں بلکہ تعلیم، ہنر، قانونی مواقع اور محفوظ زندگی کی ضرورت ہے۔
Author
-
View all posts
ڈاکٹر حمزہ خان نے پی ایچ ڈی کی ہے۔ بین الاقوامی تعلقات میں، اور یورپ سے متعلق عصری مسائل پر توجہ مرکوز کرتا ہے اور لندن، برطانیہ میں مقیم ہے۔