پاکستان کا یومِ آزادی محض ایک تاریخی تاریخ نہیں بلکہ اس سیاسی عہد کی یاد دہانی ہے جس کے تحت مختلف قومیتی، لسانی اور علاقائی شناختوں نے ایک وفاقی ریاست کے اندر مشترکہ مستقبل قبول کیا۔ یہی وجہ ہے کہ چودہ اگست کے آس پاس ایسے بیانیے زیادہ حساس ہو جاتے ہیں جو قومی شناخت کو نسلی تقسیم کے مقابل کھڑا کرتے ہیں۔ پشتون تحفظ موومنٹ سمیت ریاست کے ناقد حلقوں کی بعض تقاریر کو ریاستی ادارے قومی سلامتی کے تناظر میں دیکھتے رہے ہیں۔ وفاقی حکومت نے اکتوبر 2024 میں پی ٹی ایم کو انسداد دہشت گردی قانون کے تحت ممنوع قرار دیا تھا اور فروری 2026 میں پشاور ہائی کورٹ نے اس پابندی کے خلاف درخواستیں مسترد کر دیں۔ تاہم قومی یکجہتی کا مضبوط ترین دفاع صرف پابندی نہیں بلکہ آئین، تاریخی حقائق، سیاسی شمولیت اور جواب دہ ریاستی طرز عمل ہے۔
پاکستان کے وفاقی ڈھانچے کو محض کسی ایک قومیت کی بالادستی قرار دینا تاریخی اور سیاسی حقیقت کو حد سے زیادہ سادہ بنا دیتا ہے۔ پشتون پاکستان کے سیاسی، عسکری، عدالتی، انتظامی اور معاشی نظام کے حاشیے پر نہیں بلکہ اس کے اہم شراکت دار رہے ہیں۔ علمی تحقیق بھی ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان بننے کے بعد پشتونوں کی مسلح افواج اور بیوروکریسی میں نمایاں شمولیت رہی، جبکہ پشتون قوم پرست سیاسی جماعتیں 1973 کے آئینی بندوبست کی تشکیل کے دور میں اہم سیاسی قوت تھیں۔ اس لیے پورے وفاق کو کسی ایک نسلی گروہ کی نوآبادیاتی حکمرانی قرار دینا ان لاکھوں پشتون شہریوں کے کردار کو بھی نظر انداز کرتا ہے جو ریاستی اداروں، کاروبار، سیاست، تعلیم اور قومی دفاع میں مسلسل حصہ لے رہے ہیں۔
1947 کا شمال مغربی سرحدی صوبے کا ریفرنڈم بھی اس بحث کا اہم تاریخی حوالہ ہے۔ ڈالے گئے ووٹوں میں 99.02 فیصد پاکستان کے حق میں تھے۔ تاہم تاریخ کو مکمل دیانت سے بیان کرنے کے لیے یہ حقیقت بھی سامنے رہنی چاہیے کہ ٹرن آؤٹ تقریباً 51 فیصد تھا اور خدائی خدمتگار تحریک نے ریفرنڈم کا بائیکاٹ کیا تھا۔ اس پس منظر کے باوجود 289,244 ووٹ پاکستان کے حق میں پڑے جبکہ 2,874 ووٹ ہندوستان کے حق میں آئے۔ اس فیصلے کو محض ایک نسلی جبر کی کہانی میں تبدیل کر دینا اس وقت کے سیاسی انتخاب اور بعد کی سات دہائیوں میں پشتونوں کی وفاقی شراکت دونوں کو نظرانداز کرتا ہے۔
اسی طرح دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو پورے خطے یا پوری قومیت کے خلاف جنگ قرار دینا بھی خطرناک اختصار ہے۔ خیبر پختونخوا اور سابق قبائلی علاقوں نے دہشت گردی کی سب سے بھاری انسانی، معاشی اور سماجی قیمت ادا کی ہے۔ ان علاقوں کے شہری بھی دہشت گرد حملوں کا نشانہ بنے اور انہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے فوجی، پولیس اہلکار اور مقامی افراد شدت پسندوں کے خلاف صف اول میں کھڑے رہے۔ اس لیے دہشت گردی کے خلاف دفاعی کارروائی اور پشتون آبادی کے اجتماعی تشخص کو ایک دوسرے کا مترادف قرار دینا نہ صرف غلط بلکہ خود پشتون قربانیوں کی توہین ہے۔
اس کے ساتھ ریاست کی ذمہ داری بھی ختم نہیں ہوتی۔ ہر انسداد دہشت گردی کارروائی قانون، ضرورت، تناسب اور شہری جانوں کے تحفظ کے اصولوں کے تابع ہونی چاہیے۔ نقل مکانی، لاپتا افراد، املاک کے نقصانات اور شہری شکایات جیسے معاملات کو محض پروپیگنڈا کہہ کر رد کرنا دانشمندانہ حکمت عملی نہیں۔ جہاں حقیقی شکایت موجود ہو وہاں تحقیقات، عدالتی نگرانی، معاوضہ، شفاف معلومات اور سیاسی مکالمہ ریاستی موقف کو کمزور نہیں بلکہ مضبوط بناتے ہیں۔ قومی سلامتی کا مطلب یہ نہیں کہ شہری سوال نہ پوچھیں بلکہ یہ ہے کہ سوال آئینی دائرے میں رہیں اور جواب بھی آئینی اداروں سے ملیں۔
سرحدی مسئلے میں بھی جذباتی نعروں کے بجائے ریاستی خودمختاری اور بین الاقوامی نظام کی حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے۔ ڈیورنڈ لائن آج پاکستان اور افغانستان کے درمیان عملی بین الاقوامی سرحد کے طور پر کام کرتی ہے، اگرچہ افغانستان کی مختلف حکومتوں نے تاریخی طور پر اس کی حیثیت پر اعتراض کیا ہے۔ اس اختلاف سے یہ نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ غیر ریاستی گروہ یا نسلی تحریکیں یکطرفہ طور پر سرحدوں کی نئی تعبیر متعین کر سکتی ہیں۔ بین الاقوامی نظام میں سرحدی تبدیلی ریاستوں کے درمیان قانونی اور سفارتی عمل کا معاملہ ہوتی ہے، نہ کہ جذباتی اجتماع، نقشوں یا قوم پرستانہ نعروں کا۔
پاکستان کی سرحد پر باڑ لگانے کا بنیادی مقصد غیر قانونی آمدورفت، اسلحہ کی نقل و حرکت اور شدت پسندوں کی سرحد پار نقل و حرکت کو محدود کرنا ہے۔ اس کے باوجود سرحدی آبادیوں کے خاندانی، تجارتی اور ثقافتی روابط کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ بہتر سرحدی انتظام وہی ہوگا جو سلامتی کو یقینی بناتے ہوئے قانونی تجارت، سفری سہولت اور مقامی آبادیوں کے جائز روابط کو ممکن بنائے۔ یوں ریاست اپنی سرحد کی حفاظت بھی کرتی ہے اور نسلی شناخت کو دشمنی میں تبدیل ہونے سے بھی روکتی ہے۔
اصل سیاسی راستہ آئین کے اندر سے نکلتا ہے۔ اٹھارویں آئینی ترمیم نے صوبائی خودمختاری اور اختیارات کی مرکز سے صوبوں کو منتقلی کو نمایاں طور پر بڑھایا۔ پچیسویں ترمیم کے ذریعے سابق فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا اور اسے صوبائی سیاسی و انتظامی ڈھانچے کا حصہ بنایا گیا۔ یہ عمل کامل نہیں تھا اور مالی وسائل، انتظامی منتقلی اور ترقیاتی وعدوں پر آج بھی بحث موجود ہے، لیکن ان مسائل کا حل وفاق کو توڑنے میں نہیں بلکہ اسی آئینی عمل کو مزید مؤثر بنانے میں ہے۔
تاریخ کو بھی موجودہ سیاست کا ہتھیار بناتے وقت احتیاط درکار ہے۔ باچا خان تقسیم ہند کے مخالف تھے اور ان کے پاکستان کی ابتدائی حکومت سے شدید اختلافات بھی رہے، مگر فروری 1948 میں انہوں نے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی میں وفاداری کا حلف لیا۔ بعد کی اسمبلی تقریر میں بھی انہوں نے اپنے سیاسی موقف کو پاکستان کے اندر رہتے ہوئے واضح کرنے کی کوشش کی۔ ان کی سیاست سے اختلاف کیا جا سکتا ہے، مگر انہیں صرف ریاست شکنی کی ایک علامت میں محدود کر دینا اتنا ہی غیر تاریخی ہوگا جتنا ان کے نام پر آج پاکستان کے وجود کو مسترد کرنا۔
اسی اصول کا اطلاق بیرون ملک ہونے والے احتجاج پر بھی ہونا چاہیے۔ کسی مظاہرے کا لندن، برسلز یا واشنگٹن میں ہونا بذات خود غیر ملکی سازش کا ثبوت نہیں، لیکن اگر کسی تنظیم پر غیر ملکی مالی معاونت، ریاست مخالف رابطوں یا تشدد کی حمایت کا الزام ہے تو اسے قابل تصدیق شواہد اور قانونی عمل کے ذریعے ثابت کیا جانا چاہیے۔ اسی طرح بیرون ملک مقیم تمام پشتون کارکنوں کو ذاتی مفاد یا سیاسی پناہ کے حصول سے جوڑ دینا ایک غیر ضروری عمومی الزام ہوگا۔ ریاست کا مقدمہ اس وقت زیادہ معتبر ہوتا ہے جب وہ اندازوں کے بجائے دستاویزی ثبوت پیش کرتی ہے۔
پاکستان کی وحدت کا تحفظ صرف سرحد، بندوق یا قانونی پابندی سے ممکن نہیں۔ اس کی اصل بنیاد شہری مساوات، آئینی بالادستی، منصفانہ وسائل، صوبائی شراکت، محفوظ سرحدوں اور قومی شناخت میں علاقائی شناختوں کے احترام پر قائم ہے۔ پشتون شناخت اور پاکستانی شناخت ایک دوسرے کی ضد نہیں۔ اصل خطرہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں کسی حقیقی شکایت کو علیحدگی پسند مقصد کے لیے استعمال کیا جائے یا دوسری طرف ہر اختلاف کو غداری قرار دے دیا جائے۔ چودہ اگست کا پیغام یہی ہونا چاہیے کہ پاکستان کسی ایک نسل، صوبے یا ادارے کا نہیں بلکہ ان تمام شہریوں کا مشترکہ وفاق ہے جو اپنے اختلافات کے باوجود آئین، ریاستی خودمختاری اور مشترکہ قومی مستقبل کو مقدم رکھتے ہیں۔
Author
-
View all posts
مزمل خان سیاست اور بین الاقوامی معاشیات میں گہری دلچسپی کے ساتھ، ان کا تعلیمی کام اس بات کی کھوج کرتا ہے کہ کس طرح بنیادی ڈھانچہ اور جغرافیائی سیاسی حرکیات تجارتی راستوں اور علاقائی تعاون کو متاثر کرتی ہیں، خاص طور پر جنوبی اور وسطی ایشیا میں۔ موزممل شواہد پر مبنی تحقیق کے ذریعے پالیسی مکالمے اور پائیدار ترقی میں حصہ ڈالنے کے لیے پرجوش ہے اور اس کا مقصد تعلیمی انکوائری اور عملی پالیسی سازی کے درمیان فرق کو ختم کرنا ہے۔