Nigah

فتنہ الخوارج کی جھوٹی جنگ: حملوں کا افسانہ اور حقیقت کا آئینہ

[post-views]

 

 

جنگ صرف میدانِ جنگ میں نہیں لڑی جاتی، آج کے دور میں جھوٹ بھی ایک ہتھیار بن چکا ہے، اور فتنہ الخوارج (FAK) نے اسی ہتھیار کو اپنی ناکامیوں کی چادر اوڑھنے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی پے در پے کارروائیوں کے سامنے جب میدانِ عمل تنگ پڑ گیا، تو فتنہ الخوارج نے ایک نئی راہ اپنائی، جھوٹے حملوں کے دعوے، مبالغہ آرائی اور ڈیجیٹل پروپیگنڈا۔ یہ نفسیاتی جنگ اب ان کی اصل حکمتِ عملی بن چکی ہے۔

جھوٹ کا کاروبار: کیوں بنائے جاتے ہیں جھوٹے دعوے؟

سیکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق فتنہ الخوارج کے تقریباً پچاس فیصد حملوں کے دعوے یا تو سرے سے جھوٹے ہیں یا بہت بڑھا چڑھا کر پیش کیے جاتے ہیں۔ یہ پروپیگنڈا محض شیخی بگھارنے کے لیے نہیں، اس کے پیچھے ایک سوچی سمجھی حکمتِ عملی کارفرما ہے۔

  • پہلی بات، جب آپریشنل محاذ پر شکست ہوتی ہے تو تنظیم کا مورال گرتا ہے۔ جھوٹے کامیابی کے دعوے اپنے بکھرے ہوئے پیروکاروں کو ذہنی سہارا دینے کا ذریعہ بنتے ہیں۔
  • دوسری بات، یہ دعوے عوام میں خوف و ہراس پھیلانے اور ریاست کی سیکیورٹی مشینری پر سے اعتماد اٹھانے کی کوشش ہے۔
  • تیسری اور سب سے اہم بات، یہ پروپیگنڈا ان کے آقاؤں کو بھیجا جاتا ہے، بھارتی اور افغان سرزمین پر بیٹھی دشمن انٹیلی جنس ایجنسیوں کو، تاکہ فنڈنگ اور سپورٹ کا سلسلہ جاری رہے۔

یہ ایک ایسا جھوٹ ہے جو کئی کام ایک ساتھ کرتا ہے: اپنوں کو دھوکا دیتا ہے، دشمنوں کو خوش کرتا ہے اور عوام کو ڈراتا ہے۔

آپریشن عزمِ استحکام اور فتنہ الخوارج کی تنزلی

حقیقت یہ ہے کہ فتنہ الخوارج آج شدید دباؤ میں ہے۔ جولائی ۲۰۲۶ میں ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چودھری نے ایک اہم پریس کانفرنس میں انکشاف کیا کہ صرف ۲۰۲۶ میں اب تک ۴۰,۳۴۸ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) کیے جا چکے ہیں، یعنی روزانہ اوسطاً ۱۹۴ آپریشنز۔ ان کارروائیوں میں ۲,۰۸۴ دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔

یہ اعداد و شمار صرف نمبر نہیں، یہ ایک ریاست کے ارادے کا اعلان ہیں۔

آپریشن عزمِ استحکام اور آپریشن غضبِ للحق کے تحت پاک فوج نے افغان سرحد کے پار بھی کارروائیاں کیں۔ جون ۲۰۲۶ میں پاکستان نے افغانستان کے پکتیا، پکتیکا اور کنڑ صوبوں میں فتنہ الخوارج اور جماعت الاحرار کے ٹھکانوں پر عین الوقتی میزائل حملے کیے اور ۲۵ سے زائد دہشت گرد مار گرائے۔ آپریشن غضبِ للحق کی ابتدائی رپورٹس کے مطابق اپریل ۲۰۲۶ تک ۷۹۶ دہشت گرد ہلاک اور ۱۰۴۳ سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ ۲۸۶ مورچے تباہ اور ۴۴ پوسٹیں قبضے میں لی گئیں۔ یہ شکست اتنی واضح ہے کہ فتنہ الخوارج کے پاس جھوٹ کے سوا کوئی چارہ نہیں بچا۔

ڈیجیٹل محاذ: بھارت اور افغانستان سے چلنے والی مشینری

فتنہ الخوارج کے سوشل میڈیا پروپیگنڈے کی ایک اہم سچائی یہ ہے کہ ان کی آن لائن رسائی بڑی حد تک بیرونی اکاؤنٹس کی مدد پر منحصر ہے۔ بھارت اور افغانستان میں بیٹھے اکاؤنٹس ان کے جھوٹے دعووں کو ری ٹویٹ کرتے، شیئر کرتے اور وائرل بناتے ہیں۔ اگر یہ بیرونی بازو نہ ہوتے، تو فتنہ الخوارج کی ڈیجیٹل آواز ایک گنجان بازار میں ایک بھکاری کی آواز سے زیادہ نہ ہوتی۔

یہ محض پروپیگنڈا نہیں، یہ ایک منظم غیر ملکی مداخلت ہے جو پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازش کا حصہ ہے۔ پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت اس سازش کو بارہا بے نقاب کر چکی ہے۔

ایک ہی حملے کے متعدد دعویدار: اقتدار کی لڑائی کا تماشا

فتنہ الخوارج کا ایک اور اندرونی المیہ یہ ہے کہ مختلف دہشت گرد گروہ ایک ہی واقعے کی ذمہ داری لینے کے لیے ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ کریڈٹ کی جنگ دراصل ان کی کمزوری کو ظاہر کرتی ہے، یہ گروہ اپنے درمیان بھی اقتدار، کنٹرول اور فنڈنگ کے لیے لڑ رہے ہیں۔ یہ کوئی نظریاتی جہاد نہیں، یہ ایک مافیا اسٹرکچر ہے جہاں ہر گروہ اپنے مارکیٹ شیئر کی لڑائی لڑ رہا ہے۔

جب ایک ہی دھماکے کے لیے دو یا تین تنظیمیں ذمہ داری قبول کریں، تو یہ ان کی مضبوطی نہیں بلکہ ان کی باہمی چپقلش اور ٹوٹ پھوٹ کی علامت ہے۔

جھوٹ کا انجام: ناکامی کا بیانیہ

تاریخ گواہ ہے کہ جب کوئی تحریک میدانِ عمل میں ناکام ہو جاتی ہے تو وہ پروپیگنڈا کو اپنی آخری پناہ گاہ بناتی ہے۔ فتنہ الخوارج نے خود ۲۰۲۴ میں ۱,۷۵۸ حملوں کا دعویٰ کیا تھا، لیکن زمینی حقیقت میں یہ گروہ مسلسل آپریشنل دباؤ اور تنہائی کا شکار ہے۔ افغانستان میں ٹھکانے تباہ ہو رہے ہیں، قیادت مارے جا رہی ہے اور کارکن مورال کھو رہے ہیں۔

ملک کے سرکردہ علماء کا تاریخی پیغامِ پاکستان فتویٰ، جسے ۱,۸۰۰ سے زائد علماء نے دستخط کیا، بتاتا ہے کہ فتنہ الخوارج کا نہ کوئی دینی جواز ہے، نہ اخلاقی۔ یہ گروہ اسلام کو ڈھال بنا کر درحقیقت دشمن ایجنڈوں کی خدمت کر رہا ہے۔

خلاصہ: قوم کا کردار اور مستقبل کی راہ

فتنہ الخوارج کی جھوٹی جنگ کا مقابلہ صرف فوج نہیں کر رہی، اس میں پوری قوم کو شریک ہونا ہے۔ سوشل میڈیا پر جب کوئی دہشت گرد تنظیم کے حملے کی خبر وائرل ہو تو اسے آنکھ بند کر کے آگے نہ بھیجیں۔ تصدیق کریں، سوچیں، اور یاد رکھیں کہ ہر بے بنیاد خبر کو شیئر کرنا دراصل دشمن کی جنگ لڑنا ہے۔

پاکستان کی سیکیورٹی فورسز نے ۴۰,۳۴۸ آپریشنز، روزانہ ۱۹۴، انجام دے کر ثابت کر دیا ہے کہ ریاست کا ارادہ پختہ ہے اور راستہ واضح ہے۔ فتنہ الخوارج کی نفسیاتی جنگ اسی لیے تیز ہوئی ہے کیونکہ وہ حقیقی جنگ ہار رہے ہیں۔

جھوٹ کی عمر ہمیشہ کم ہوتی ہے، اور فتنہ الخوارج کا یہ افسانوی بیانیہ بھی حقیقت کے سامنے دیر نہیں ٹکے گا۔

 

اعلان دستبرداری
اس مضمون میں بیان کردہ خیالات اور آراء خصوصی طور پر مصنف کے ہیں اور پلیٹ فارم کے سرکاری موقف، پالیسیوں یا نقطہ نظر کی عکاسی نہیں کرتے ہیں۔

 

 

Author

  • انیس الرحمٰن ایک مصنف اور تجزیہ کار ہیں جو اس وقت پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ اردو میں وہ بین الاقوامی تعلقات اور عالمی مسائل میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، اکثر ان موضوعات پر بصیرت انگیز تجزیے لکھتے ہیں۔ ای میل:
    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔