Nigah

بھارتی میڈیا اور پی ٹی آئی کس کا ایجنڈا؟

[post-views]

پاکستان کے اندر ایک عجیب منظر ہے۔ 4 اکتوبر 2026 کو پی ٹی آئی کا لانگ مارچ خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت سے اسلام آباد کی طرف روانہ ہوا۔ مارچ کے قافلے خیبر پختونخوا کی مختلف سڑکوں سے گزر رہے تھے، لیکن ان کی کوریج صرف پاکستانی چینلز تک محدود نہیں تھی، سرحد پار بھارتی میڈیا بھی اس واقعے پر پوری تندہی کے ساتھ نظریں جمائے بیٹھا تھا۔ یہ اتفاق نہیں، یہ ایک سوچا سمجھا بیانیہ ہے۔

پاکستانی سیاست کے ہر اتار چڑھاؤ میں بھارتی میڈیا کی اس "گہری دلچسپی” کو سمجھنا ضروری ہے۔ جب بھی پاکستان کے اندر سیاسی تصادم بڑھتا ہے، جب سڑکیں بند ہوتی ہیں، جب سیاسی قیادت اداروں کے خلاف زبان کھولتی ہے، تو بھارتی نیوز چینلز اور اخبارات اس پوری تصویر کو بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں۔ اس بار بھی ایسا ہی ہوا۔ حکومت اور پی ٹی آئی کے درمیان مذاکرات ناکام ہوئے اور سیاسی بحران مزید گہرا ہو گیا اور یہ تصویر بھارتی میڈیا کی سکرینوں پر بار بار چمکتی رہی۔

سوال یہ ہے کہ بھارتی میڈیا کو پاکستان کی اندرونی سیاست سے اتنا لگاؤ کیوں؟ جواب آسان ہے، کیونکہ پاکستان کا کمزور، بحران زدہ اور سیاسی طور پر منقسم تصویر بھارتی حکومت کے اس بیانیے کو تقویت دیتی ہے کہ "پاکستان ایک ناکام ریاست ہے۔”

یہ بھارتی اسٹرٹیجک مفادات کی عکاسی ہے، ہمدردی کی نہیں۔

پی ٹی آئی اور حکومتی اتحاد کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی، آپسی بداعتمادی اور قطبین میں منقسم سیاسی چالوں نے پاکستان کی سیاسی عدم استحکام کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ یہ سیاسی تقسیم جتنی گہری ہوتی ہے، بھارتی میڈیا کی "دلچسپی” اتنی ہی بڑھتی جاتی ہے۔ ان کے لیے یہ خبر نہیں، یہ پراپیگنڈہ سازی کا خام مال ہے۔

اب ذرا اندرونی صورتحال کا جائزہ لیں۔ آزاد سیکیورٹی اعداد و شمار کے مطابق خیبر پختونخوا پاکستان کا وہ خطہ ہے جو دہشتگردی سے سب سے زیادہ متاثر ہے۔ سینٹر فار ریسرچ اینڈ سیکیورٹی اسٹڈیز کی رپورٹ کے مطابق 2026 کی دوسری سہ ماہی میں پاکستان میں تشدد سے ہونے والی ہلاکتوں کا 61 فیصد صوبہ خیبر پختونخوا میں ریکارڈ کیا گیا، جس میں 475 اموات شامل تھیں۔ ایسے میں جب خطہ پہلے سے غیر مستحکم ہو اور سیاسی طاقت کو عوامی غم و غصے کے بطور استعمال کیا جائے، تو سوچنا ہوگا کہ اس کھیل کا فائدہ کسے پہنچ رہا ہے؟

مارچ شروع ہونے کے بعد حکومت نے واضح کیا کہ وہ پی ٹی آئی کو تشدد پر نہیں اترنے دے گی، یہ کہتے ہوئے کہ پارٹی نے جب بھی وفاقی دارالحکومت میں قدم رکھا ہے، امن و امان کا مسئلہ کھڑا ہوا ہے۔ یعنی سڑکوں پر بحران، اداروں پر دباؤ اور شہروں میں کشیدگی یہ وہی منظر ہے جسے بھارتی میڈیا ہیڈلائنز بنا کر دنیا میں پھیلاتا ہے۔ بھارتی چینلوں کے لیے پاکستان کی ہر خبر ایک موقع ہے، موقع ملک کو کمزور ظاہر کرنے کا، موقع کشمیر پر بیانیہ مضبوط کرنے کا، اور موقع بین الاقوامی برادری میں پاکستان کو منفی روشنی میں پیش کرنے کا۔

پاکستانی حکومت کے مشیر رانا ثنا اللہ نے براہ راست کہا کہ بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی کے بعد ملک کو ابھی استحکام کی ضرورت ہے اور پی ٹی آئی کا احتجاجی منصوبہ "وقت اور نیت دونوں لحاظ سے مشکوک” ہے۔ یہ محض سیاسی الزام نہیں، یہ ایک تلخ حقیقت کی نشاندہی ہے۔ جب ایک سیاسی جماعت کا بیانیہ بھارتی میڈیا کو سوٹ کرنے لگے، جب ان کی ہر سرگرمی پر دشمن ملک میں تالیاں بجیں، تو عوام کو سوچنا چاہیے کہ آخر معاملہ کیا ہے۔

تاریخ گواہ ہے کہ ہر بار جب پاکستان میں سیاسی انتشار اپنے عروج پر ہوتا ہے، بیرونی طاقتیں فائدہ اٹھاتی ہیں۔ مذاکرات ٹوٹنے کے بعد وفاقی وزراء نے پی ٹی آئی کے زیر انتظام خیبر پختونخوا حکومت پر نئے حملے شروع کر دیے اور سیاسی محاذ آرائی مزید شدید ہو گئی۔ یہ شدت، یہ تصادم، یہ گلیوں میں جمع ہجوم، یہ سب بھارتی کیمروں میں قید ہو کر "پاکستان ناکام ریاست” کا بیانیہ بنتے ہیں۔

ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سیاسی اختلاف رائے ہر جمہوریت کا حصہ ہے لیکن جب سیاسی جدوجہد کا طریقہ کار وہ بن جائے جس سے دشمن فائدہ اٹھائے، تو قومی ضمیر کو جاگنا چاہیے۔ پی ٹی آئی کے حامیوں کو بھی غور کرنا چاہیے کہ جب بھارتی میڈیا ان کے مارچ کی تعریفیں کرے، جب نئی دہلی کے اینکر ان کی ہر سرگرمی کو خبر بنائیں، تو یہ ہمدردی نہیں، یہ ایک ایجنڈے کی تکمیل ہے۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے پی ٹی آئی سے اپیل کی کہ مارچ ختم کریں اور سیاسی مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کریں۔ یہ اپیل محض سیاسی نہیں، یہ قومی مفاد کی پکار ہے۔ پاکستان کو اس وقت استحکام چاہیے، نہ کہ ایسی سیاست جو بھارت کی ٹی وی سکرینوں کو رنگین کرے۔

پاکستان کی سیاست پاکستانیوں کی اپنی ہے۔ لیکن جب یہ سیاست بیرونی طاقتوں کے مفاد میں استعمال ہونے لگے، تو سوال اٹھنا فطری ہے، پی ٹی آئی کس کے ایجنڈے پر کام کر رہی ہے؟ یہ سوال محب وطن پاکستانیوں کا ہے، اور اس کا جواب قوم کو تلاش کرنا ہے۔

Author

  • Dr. Abbas Ahmed

    Abbas Ahmed is a scholar of International Relations and Strategic Studies with expertise in global politics, security affairs, regional dynamics, and contemporary strategic challenges. His academic interests include foreign policy, geopolitical competition, conflict and cooperation, and emerging security trends, with a focus on understanding their implications for regional and international stability.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔