Nigah

مذہب کے نام پر نفرت نہیں، اخوت کا پیغام

[post-views]

پاکستان ایک ایسا معاشرہ ہے جہاں مختلف فقہی روایات، مذہبی مکاتبِ فکر اور فکری رجحانات صدیوں سے موجود ہیں۔ اختلاف یہاں کوئی نئی حقیقت نہیں۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اختلاف کو دشمنی میں، مذہبی شناخت کو نفرت میں اور مسلکی وابستگی کو تشدد کے جواز میں تبدیل کر دیا جائے۔ اسلام کی بنیادی تعلیمات اس طرزِ فکر کی تائید نہیں کرتیں۔ قرآن انسان کو اختلاف کے باوجود عدل، تحمل اور معاشرتی امن کا راستہ دکھاتا ہے۔ خاص طور پر مسلمانوں کے باہمی تعلق کے بارے میں قرآن کا تصور نہایت واضح ہے۔ وہ اہلِ ایمان کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیتا ہے اور تنازع کی صورت میں صلح کرانے کا حکم دیتا ہے۔ یہی اصول فرقہ وارانہ انتہا پسندی کے پورے بیانیے کو چیلنج کرتا ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد ہوتا ہے کہ مومن آپس میں بھائی بھائی ہیں، اس لیے اپنے بھائیوں کے درمیان صلح کراؤ۔ سورۃ الحجرات کی یہ تعلیم صرف ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ مسلمان معاشرے کی اجتماعی بنیاد ہے۔ اگر ایک شخص مسجد میں عبادت کرتا ہے، قرآن پر ایمان رکھتا ہے اور رسول اللہ ﷺ سے محبت کا اظہار کرتا ہے تو محض فقہی یا مسلکی اختلاف کی بنیاد پر اسے دشمن بنا دینا اسلامی اخوت کی روح کے منافی ہے۔ علمی اختلاف ہمیشہ سے امت کی تاریخ کا حصہ رہا ہے۔ فقہا نے اختلاف کیا، محدثین نے علمی مباحث کیے اور علما نے ایک دوسرے کے استدلال کا جواب دیا، مگر اختلاف کو قتل اور بدامنی کا لائسنس نہیں بنایا جا سکتا۔

قرآن مسلمانوں کو اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامنے اور تفرقے سے بچنے کا حکم بھی دیتا ہے۔ سورۃ آل عمران کی آیت 103 ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ اجتماعی قوت باہمی وابستگی سے پیدا ہوتی ہے، مسلسل تقسیم سے نہیں۔ فرقہ وارانہ انتہا پسند تنظیمیں عموماً اسی مقام پر ضرب لگاتی ہیں۔ وہ مذہبی جذبات کو استعمال کر کے ایک مسلک کے عام افراد کو دوسرے مسلک کے خلاف مشتعل کرتی ہیں، تاریخی اختلافات کو موجودہ دشمنی میں بدلتی ہیں اور معاشرے میں ایسا ماحول پیدا کرتی ہیں جس میں ہر شخص دوسرے کے عقیدے پر شک کرنے لگتا ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ دین اصلاح کا ذریعہ بننے کے بجائے سیاسی یا گروہی تصادم کے لیے استعمال ہونے لگتا ہے۔

نفرت کا سفر اکثر بندوق سے شروع نہیں ہوتا۔ اس کی ابتدا زبان سے ہوتی ہے۔ کسی فرقے کے لیے تحقیر آمیز الفاظ، علما کی تضحیک، مذہبی شخصیات کے بارے میں اشتعال انگیز مواد اور مخالف مکتبِ فکر کے ماننے والوں کو کمتر سمجھنا رفتہ رفتہ ایک خطرناک سماجی فضا پیدا کرتا ہے۔ قرآن اسی لیے سورۃ الحجرات میں مذاق اڑانے، برے القابات سے پکارنے، بدگمانی، تجسس اور غیبت سے روکتا ہے۔ یہ احکامات آج کے ڈیجیٹل ماحول میں کہیں زیادہ اہم دکھائی دیتے ہیں۔ چند سیکنڈ کی ایک ویڈیو، سیاق و سباق سے کاٹی گئی تقریر یا غیر مصدقہ الزام چند گھنٹوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتا ہے اور برسوں سے قائم مقامی ہم آہنگی کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

اسی طرح تکفیر کا مسئلہ انتہائی حساس ہے۔ کسی مسلمان کو اپنی خواہش، غصے یا گروہی مفاد کی بنیاد پر اسلام سے خارج قرار دینا کوئی معمولی بات نہیں۔ صحیح البخاری میں نبی کریم ﷺ کی سخت تنبیہ موجود ہے کہ اگر کوئی اپنے مسلمان بھائی کو کافر کہے تو یہ الزام دونوں میں سے کسی ایک کی طرف لوٹتا ہے۔ اس تعلیم کی معنویت بہت گہری ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ جب تکفیر عام ہوتی ہے تو اس کے بعد سماجی بائیکاٹ، تشدد اور قتل کے لیے راستہ ہموار کیا جا سکتا ہے۔ اسی لیے مذہبی فیصلے جذباتی ہجوم، مسلح گروہوں یا سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے سپرد نہیں کیے جا سکتے۔

اسلامی اخوت کا دوسرا بنیادی تقاضا ظلم سے اجتناب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے سہارا چھوڑتا ہے۔ اس تعلیم کے بعد کسی مسجد، امام بارگاہ، مذہبی اجتماع، عالم دین یا عام شہری کو صرف اس کی مسلکی شناخت کی وجہ سے نشانہ بنانا کسی دینی خدمت کے زمرے میں نہیں آ سکتا۔ یہ ظلم ہے، اور ظلم کو مذہبی زبان دینے سے اس کی حقیقت تبدیل نہیں ہو جاتی۔

انسانی جان کی حرمت بھی قرآن کا غیر مبہم اصول ہے۔ سورۃ النساء میں جان بوجھ کر مومن کے قتل پر سخت وعید بیان کی گئی ہے، جبکہ سورۃ المائدہ انسانی جان کے تحفظ کو ایک عظیم اخلاقی قدر کے طور پر پیش کرتی ہے۔ اس اصول کے ہوتے ہوئے بم دھماکوں، ٹارگٹ کلنگ، عبادت گاہوں پر حملوں یا فرقہ وارانہ قتل کو کسی مذہبی مقصد کے ساتھ جوڑنا بنیادی اسلامی تعلیمات سے متصادم ہے۔ اختلاف کا جواب دلیل ہو سکتا ہے، تحقیق ہو سکتی ہے، عدالتی راستہ ہو سکتا ہے، مگر بے گناہ انسان کی جان نہیں۔

پاکستان میں فرقہ وارانہ امن صرف ریاستی کارروائی سے قائم نہیں ہو سکتا۔ علما، مدارس، جامعات، خاندانوں، مساجد، میڈیا اور سوشل میڈیا استعمال کرنے والے ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ اختلاف کی ایسی روایت کو فروغ دے جس میں دوسرے کی توہین ضروری نہ سمجھی جائے۔ نوجوانوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ ہر اشتعال انگیز مذہبی پیغام قابلِ اعتماد نہیں ہوتا۔ کسی تقریر، فتویٰ یا ویڈیو کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی صحت، پس منظر اور ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا بھی ایک شہری ذمہ داری ہے۔

مذہبی ہم آہنگی کا مطلب یہ نہیں کہ تمام مسلمان اپنے فقہی اختلافات ختم کر دیں۔ ایسا نہ تاریخی طور پر ممکن ہے اور نہ ضروری۔ اصل ضرورت یہ ہے کہ اختلاف کو انسانی وقار، قانون اور امن کی حدود میں رکھا جائے۔ ایک پُراعتماد مذہبی شناخت کو مخالف کی تحقیر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مضبوط ایمان سوال سے خوفزدہ نہیں ہوتا اور مضبوط دلیل تشدد کی محتاج نہیں ہوتی۔ پاکستان کی مذہبی اور سماجی قوت اسی وقت بڑھے گی جب مسجد، مدرسہ اور معاشرہ اس اصول کو تسلیم کریں کہ اختلاف اپنی جگہ، مگر خون، عزت اور انسانی حرمت سب کے لیے یکساں مقدس ہیں۔ قرآنی اخوت کا حقیقی مفہوم بھی یہی ہے کہ عقیدے کی حفاظت نفرت پھیلا کر نہیں بلکہ عدل، تحمل اور امن کو مضبوط بنا کر کی جائے۔

Author

  • Professor Dr. Waqas Khan

    Professor Dr. Waqas Khan is a scholar of climate change, security, diplomacy, and international affairs. He earned his PhD from Beijing University, China. His research focuses on the links between environmental challenges and global security, emphasizing international cooperation, strategic policy, and the role of diplomacy in addressing emerging global issues.

    View all posts
اوپر تک سکرول کریں۔