پاکستان آج ایک ایسے انتظامی موڑ پر کھڑا ہے جہاں آبادی، معیشت، شہروں کے پھیلاؤ اور عوامی ضروریات نے ریاستی ڈھانچے سے کہیں زیادہ تیزی سے تبدیلی دیکھی ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ملک کی آبادی بڑھ گئی ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا وہی انتظامی بندوبست، جو نصف صدی پہلے ایک بہت چھوٹی آبادی کے لیے بنایا گیا تھا، آج 24 کروڑ سے زیادہ لوگوں کی ضروریات پوری کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے؟
1972 میں پاکستان کی آبادی تقریباً ساڑھے چھ کروڑ تھی۔ آج صرف پنجاب کی آبادی اس وقت کے پورے پاکستان سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔ سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان بھی آبادی، شہری دباؤ، روزگار، تعلیم، صحت اور انفراسٹرکچر کے اعتبار سے ایک بالکل مختلف حقیقت بن چکے ہیں۔ مگر صوبائی نقشہ تقریباً وہی ہے۔ یہی تضاد اب محض اعداد و شمار کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ حکمرانی کا بنیادی سوال بن چکا ہے۔
جب ایک صوبائی حکومت کو دس کروڑ سے زیادہ لوگوں کے لیے تعلیم، صحت، پولیس، بلدیات، ترقیاتی منصوبہ بندی، روزگار، زراعت اور انفراسٹرکچر کے فیصلے کرنے ہوں تو لازمی طور پر مرکزیت بڑھتی ہے۔ بڑے شہروں اور سیاسی مراکز کی آواز نسبتاً زیادہ سنائی دیتی ہے، جبکہ دور دراز اضلاع اور پسماندہ خطے اکثر فیصلہ سازی کے حاشیے پر چلے جاتے ہیں۔
پنجاب اس مسئلے کی سب سے واضح مثال ہے۔ لاہور، راولپنڈی، فیصل آباد، ملتان، بہاولپور اور ڈیرہ غازی خان ایک ہی صوبائی حکومت کے تحت ہیں، لیکن ان علاقوں کے سماجی اور معاشی مسائل یکساں نہیں۔ جنوبی پنجاب میں تعلیم، صحت، غذائیت، غربت اور روزگار کے مسائل طویل عرصے سے زیادہ شدید رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ جنوبی پنجاب کو لازماً الگ صوبہ بنایا جائے، بلکہ یہ ہے کہ موجودہ نظام وہاں کے شہریوں کو وہی معیار کی حکمرانی کیوں نہیں دے سکا جو نسبتاً ترقی یافتہ علاقوں کو حاصل ہے؟
ایک حد کے بعد انتظامی حجم خود ایک رکاوٹ بن جاتا ہے۔ جتنا زیادہ فاصلہ شہری اور فیصلہ ساز کے درمیان ہو، اتنا ہی احتساب کمزور پڑتا ہے۔ صوبائی دارالحکومت میں بیٹھے اداروں کے لیے ہر ضلع کے مخصوص مسائل کو یکساں اہمیت دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً ترقیاتی منصوبے بڑے مراکز میں جمع ہو سکتے ہیں، جبکہ دور افتادہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی سست رہتی ہے۔
یہ دباؤ آنے والے برسوں میں مزید بڑھے گا۔ پاکستان کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے اور 2050 تک یہ کئی کروڑ مزید بڑھ سکتی ہے۔ اگر موجودہ انتظامی ڈھانچہ برقرار رہا تو ہر صوبہ ایسی آبادی کا انتظام کر رہا ہوگا جو دنیا کے کئی بڑے ممالک کے برابر ہوگی۔ ایسی صورت میں یہ توقع رکھنا کہ وہی ادارے، وہی صوبائی سیکرٹریٹ اور وہی مرکزی طرز حکومت بڑھتی ہوئی آبادی کے ساتھ مؤثر رہیں گے، حقیقت پسندانہ نہیں۔
دنیا کے کئی بڑے ممالک نے آبادی اور انتظامی ضروریات میں اضافے کے ساتھ اپنے داخلی انتظامی ڈھانچے میں تبدیلیاں کی ہیں۔ بھارت میں ریاستوں کی تعداد پاکستان سے کہیں زیادہ ہے۔ نائجیریا نے بھی وقت کے ساتھ نئی ریاستیں قائم کیں۔ انڈونیشیا میں بھی متعدد صوبے موجود ہیں۔ ان مثالوں کا مقصد کسی نظام کی نقل کرنا نہیں بلکہ یہ سمجھنا ہے کہ داخلی انتظامی حدود میں تبدیلی کو قومی وحدت کے خلاف نہیں سمجھا جاتا۔ اگر اصلاح کا مقصد بہتر حکمرانی ہو تو نئی انتظامی اکائیاں وفاق کو کمزور کرنے کے بجائے مضبوط کر سکتی ہیں۔
پاکستان میں موجودہ ڈویژن اس سلسلے میں ایک عملی بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔ ملک پہلے ہی کئی انتظامی ڈویژنوں میں تقسیم ہے۔ ان کے اپنے ہیڈکوارٹرز، ضلع انتظامیہ، سرکاری دفاتر اور ادارہ جاتی ڈھانچے موجود ہیں۔ اس لیے اگر کبھی نئے صوبوں یا بڑی انتظامی اکائیوں پر غور کیا جائے تو مکمل طور پر نئی جغرافیائی تقسیم کے بجائے موجودہ ڈویژنوں کو بنیاد بنایا جا سکتا ہے۔
لیکن نئی اکائیاں بنانا کوئی جادوئی حل بھی نہیں۔ اس کے ساتھ مالی، آئینی، سیاسی اور انتظامی سوالات جڑے ہیں۔ نئی اسمبلیاں، محکمے، سیکرٹریٹ، عدالتی انتظامات اور وسائل کی نئی تقسیم درکار ہوگی۔ یہ بھی خطرہ موجود رہے گا کہ پرانی مرکزیت کی جگہ نئی مقامی اشرافیہ لے لے۔
اسی لیے مقامی حکومتوں کو اس بحث سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ آئین کا آرٹیکل 140 اے پہلے ہی صوبوں کو پابند کرتا ہے کہ وہ اختیارات نچلی سطح تک منتقل کریں۔ اگر اضلاع، تحصیلوں اور بلدیاتی اداروں کو حقیقی مالی اور انتظامی خود مختاری دی جائے تو بہت سے مسائل فوری طور پر کم کیے جا سکتے ہیں۔ پانی، صفائی، بنیادی صحت، اسکولوں اور شہری سہولیات سے متعلق فیصلے مقامی سطح پر زیادہ بہتر ہو سکتے ہیں۔
اصل بحث نئے صوبے یا موجودہ صوبے نہیں، بلکہ مؤثر حکمرانی ہونی چاہیے۔ پاکستان کو یہ طے کرنا ہے کہ کون سا ڈھانچہ شہریوں کو حکومت کے قریب لا سکتا ہے، علاقائی عدم مساوات کم کر سکتا ہے اور فیصلہ سازی کو زیادہ جوابدہ بنا سکتا ہے۔
آئینی طور پر بھی صوبائی حدود میں تبدیلی ممکن ہے، اگر وسیع سیاسی اتفاق رائے موجود ہو۔ اس لیے مسئلہ آئین میں راستہ نہ ہونے کا نہیں، بلکہ سیاسی آمادگی اور قومی سطح پر سنجیدہ مکالمے کی کمی کا ہے۔
پاکستان کی آبادی بدل چکی ہے، اس کی معیشت بدل چکی ہے، شہری نقشہ بدل چکا ہے اور عوامی توقعات بھی بدل چکی ہیں۔ اگر صرف انتظامی نقشہ نہ بدلے تو ایک وقت کے بعد نظام اپنی ہی وسعت کے بوجھ تلے سست پڑنے لگتا ہے۔
مضبوط ریاست وہ نہیں جس کا نقشہ کبھی نہ بدلے۔ مضبوط ریاست وہ ہے جو بدلتی ہوئی حقیقتوں کے مطابق اپنے اداروں کو بہتر بنائے۔
پاکستان کو صوبوں کی تعداد پر نہیں، حکمرانی کے معیار پر بحث کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر بہتر حکمرانی کے لیے انتظامی نقشے میں تبدیلی ناگزیر ہو تو اس بحث سے گریز نہیں بلکہ سنجیدہ قومی غور و فکر ہونا چاہیے۔
Author
-
View all posts
Zubair Gul is a lecturer and researcher with a particular interest in the China-Pakistan Economic Corridor, regional connectivity, development cooperation, and Pakistan-China relations. His academic work focuses on CPEC’s economic and strategic dimensions, infrastructure development, regional integration, and its broader implications for Pakistan’s growth and regional engagement.