اظہر مشوانی کی مبینہ غنڈہ گردی بے نقاب
برطانیہ میں پیش آنے والے حالیہ واقعے نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو سامنے لا کھڑا کیا ہے
برطانیہ میں پیش آنے والے حالیہ واقعے نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو سامنے لا کھڑا کیا ہے
غزہ میں اسرائیلی جارحیت نے دنیا کے سامنے صرف اسرائیل کا چہرہ بے نقاب نہیں کیا بلکہ ان ریاستوں کو
پاکستان اس وقت دہشت گردی، انتہا پسندی اور داخلی سلامتی کے پیچیدہ چیلنجز سے گزر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں
سہیل آفریدی کا حالیہ بیانیہ حقائق کے سنجیدہ ادراک سے زیادہ جذباتی سیاست کا مظہر دکھائی دیتا ہے۔ خیبرپختونخوا جیسے
ابصار عالم کی صحافت پر تنقید کوئی نئی بات نہیں، مگر حالیہ بیانات اور عملی رویّے نے اس بحث کو
پاکستان مذہبی ہم آہنگی، اقلیتوں کے تحفظ اور بین المذاہب رابطوں کے ذریعے ایک ایسا مثبت قومی بیانیہ تشکیل دے
اسلام آباد کی صحافت ہمیشہ سے طاقت، ریاست، عدالت، سیاست اور عوامی رائے کے سنگم پر کھڑی رہی ہے۔ یہاں
اکاخیل، باڑہ میں ہونے والا المناک دھماکا ایک دردناک سانحہ ہے جس پر پوری قوم افسردہ ہے۔ دستیاب معلومات کے
آزاد جموں و کشمیر میں عوامی مسائل، مہنگائی، بجلی کے نرخ، آٹے کی قیمتوں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے
پاکستان ایک عام ریاست نہیں بلکہ ایک نظریاتی اسلامی مملکت ہے جس کی بنیاد اس یقین پر رکھی گئی کہ
عالمی سیاست کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ہر دور میں کچھ ایسی ریاستیں سامنے آتی ہیں جو صرف اپنے
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کے اعلان نے خطے بھر میں ایک نئی بحث
بھارتی مبصر برہما چیلانی کی یہ دلیل کہ پاکستان اور ایران کو ایک ہی درجے میں رکھ کر دیکھا جا
میری رائے میں پاکستان کے فکری اور قومی مباحث میں جس اصول کو سب سے زیادہ سنجیدگی سے دوبارہ سمجھنے
طالبان اپنی حکومت کو “اسلامی امارت” قرار دیتے ہیں اور ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو “امیر المومنین” کے لقب سے
بھارت کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نامہ نگاروں کے سوالات پر مسلسل خاموشی اب محض ایک سفارتی تاخیر
پاکستان ایک خودمختار ریاست ہے، اور ہر خودمختار ریاست کی طرح اسے یہ مکمل حق حاصل ہے کہ وہ اپنی
بھارت میں اسٹریٹ وینڈرز صرف سڑک کنارے سامان بیچنے والے لوگ نہیں، بلکہ شہری معیشت کا وہ خاموش ستون ہیں
آج کے ذرائع ابلاغ کے دور میں جھوٹ کو سچ بنانے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ آدھا
معاہدۂ سندھ طاس کی یکطرفہ معطلی کو اگر صرف ایک سفارتی اختلاف، قانونی تنازع یا دو ہمسایہ ممالک کے درمیان
پاکستان کی حالیہ سفارتی پیش رفت کو اگر گزشتہ چند برسوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو یہ کہنا بے
افغانستان کی موجودہ صورتِ حال اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتی ہے کہ طاقت کے زور پر قائم کیا گیا
کشمیر کی سیاسی اور سماجی فضا میں جب بھی عوامی حقوق، احتجاجی تحریکوں، اور نمائندہ قیادت کا ذکر آتا ہے
پاکستان جیسے اہم ملک کی خارجہ پالیسی اور سفارتی تعلقات کو داخلی سیاسی پروپیگنڈے کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ خاص
پاکستان کے ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ثالثی کا کردار
آج کا دور صرف معلومات کی تیز ترسیل کا دور نہیں بلکہ تاثر، جذبات اور ردِعمل کی فوری تشکیل کا
جنیوا میں 27 مارچ 2026 کو بلوچ نیشنل موومنٹ کے زیرِ اہتمام منعقدہ پروگرام میں محترمہ آنا لورینا ڈیلگاڈیلو پیریز