طالبان کی انسانی ڈھال کی حکمت عملی
کابل کے امید مرکز سے متعلق بحث کو محض انسانی ہلاکتوں اور جذباتی مناظر تک محدود کر دینا حقیقت کے
کابل کے امید مرکز سے متعلق بحث کو محض انسانی ہلاکتوں اور جذباتی مناظر تک محدود کر دینا حقیقت کے
پاکستان کے نوجوان آج ایک ایسی فکری جنگ کے نشانے پر ہیں جو بندوق سے پہلے ذہن پر حملہ کرتی
سندھ طاس معاہدہ محض ایک سفارتی دستاویز نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے آبی امن کی بنیاد ہے۔ انیس سو ساٹھ
ڈاکٹر انعم فاطمہ اس قول کی زندہ مثال ہیں کہ “دیانت داری صرف ایک خوبی نہیں بلکہ زندگی گزارنے کا
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہمیشہ عوام کے لیے تشویش کا باعث بنتا ہے، کیونکہ پیٹرول اور ڈیزل کی
21 مئی 2026 کو جب پاکستانی اور چینی فنکاروں نے ایک یادگاری گیت میں اپنی آوازیں یکجا کیں، تو اس
آزاد جموں و کشمیر کی سیاست ایک بار پھر ایک اہم موڑ پر کھڑی ہے۔ جموں کشمیر جوائنٹ عوامی
امید مرکز اور شہری علاقوں کی عسکریت کاری کابل کے شمال مغرب میں ایک پہاڑی پر اجتماعی قبر موجود ہے
عوامی خدمت صرف ایک سرکاری منصب، دفتر یا اختیار کا نام نہیں بلکہ یہ ایک ایسی ذمہ داری ہے جو
بنوں کے علاقے فتح خیل میں پولیس چوکی پر خودکش حملہ محض ایک دہشت گردی کی واردات نہیں، بلکہ اس
انسٹی ٹیوٹ فار اکنامکس اینڈ پیس کی جانب سے جاری کردہ گلوبل ٹیررازم انڈیکس 2026 پاکستان کے لیے محض ایک
نام نہاد امارت اسلامی افغانستان کے طرزِ حکمرانی اور بیانیے کا سنجیدہ جائزہ لیا جائے تو ایک تلخ حقیقت سامنے
پاکستان ایک ایسا ملک ہے جس نے دہشت گردی، بدامنی، بیرونی مداخلت اور داخلی انتشار کی بھاری قیمت ادا کی
ہمارے ہاں ایک عجیب روایت بن چکی ہے کہ جب کوئی معاملہ قانون، معاہدے اور دستاویزی حقائق کی بنیاد پر
برطانیہ میں پیش آنے والے حالیہ واقعے نے ایک بار پھر اس تلخ حقیقت کو سامنے لا کھڑا کیا ہے
غزہ میں اسرائیلی جارحیت نے دنیا کے سامنے صرف اسرائیل کا چہرہ بے نقاب نہیں کیا بلکہ ان ریاستوں کو
پاکستان اس وقت دہشت گردی، انتہا پسندی اور داخلی سلامتی کے پیچیدہ چیلنجز سے گزر رہا ہے۔ ایسے ماحول میں
سہیل آفریدی کا حالیہ بیانیہ حقائق کے سنجیدہ ادراک سے زیادہ جذباتی سیاست کا مظہر دکھائی دیتا ہے۔ خیبرپختونخوا جیسے
ابصار عالم کی صحافت پر تنقید کوئی نئی بات نہیں، مگر حالیہ بیانات اور عملی رویّے نے اس بحث کو
پاکستان مذہبی ہم آہنگی، اقلیتوں کے تحفظ اور بین المذاہب رابطوں کے ذریعے ایک ایسا مثبت قومی بیانیہ تشکیل دے
اسلام آباد کی صحافت ہمیشہ سے طاقت، ریاست، عدالت، سیاست اور عوامی رائے کے سنگم پر کھڑی رہی ہے۔ یہاں
اکاخیل، باڑہ میں ہونے والا المناک دھماکا ایک دردناک سانحہ ہے جس پر پوری قوم افسردہ ہے۔ دستیاب معلومات کے
آزاد جموں و کشمیر میں عوامی مسائل، مہنگائی، بجلی کے نرخ، آٹے کی قیمتوں اور بنیادی سہولیات کی فراہمی جیسے
پاکستان ایک عام ریاست نہیں بلکہ ایک نظریاتی اسلامی مملکت ہے جس کی بنیاد اس یقین پر رکھی گئی کہ
عالمی سیاست کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ ہر دور میں کچھ ایسی ریاستیں سامنے آتی ہیں جو صرف اپنے
امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کے اعلان نے خطے بھر میں ایک نئی بحث
بھارتی مبصر برہما چیلانی کی یہ دلیل کہ پاکستان اور ایران کو ایک ہی درجے میں رکھ کر دیکھا جا
میری رائے میں پاکستان کے فکری اور قومی مباحث میں جس اصول کو سب سے زیادہ سنجیدگی سے دوبارہ سمجھنے
طالبان اپنی حکومت کو “اسلامی امارت” قرار دیتے ہیں اور ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ کو “امیر المومنین” کے لقب سے
بھارت کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے خصوصی نامہ نگاروں کے سوالات پر مسلسل خاموشی اب محض ایک سفارتی تاخیر